محمد بشارت
کوٹرنکہ //سرحدی ضلع راجوری کے دورافتادہ بلاک خواص میں تقریباً 15 پنچایتیں شامل ہیں، لیکن اس خطے میں ایک سرکاری ڈگری کالج بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے نتیجے میں خواص کی طالبات اعلیٰ تعلیم کے حصول میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جغرافیائی محرومی سے زیادہ سیاسی نظراندازی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔خواص بلاک کو پہلے درہال اور کالاکوٹ حلقوں کے درمیان تقسیم کیا گیا تھا اور اب یہ نئے بنائے گئے حلقہ بدھل-86 کے تحت آتا ہے، جہاں سے نیشنل کانفرنس کے موجودہ ایم ایل اے جاوید اقبال چوہدری کو مضبوط مینڈیٹ ملا ہے۔ اس علاقے کی 15 پنچایتیں، جن میں خواص، ڈھلیری، کیری، بیلا، گوندھا، نارلہ، کوٹچلوال، اْدھن، بمبل، بدھل اے، بدھل بی، گونڈی، گدیوگ، پنگلر اور خوڑبنی شامل ہیں، تقریباً 40 فیصد لڑکیاں ثانوی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں، لیکن اعلیٰ تعلیم تک رسائی ان کے لئے ناممکن ہے۔قریب ترین کالج کوٹرنکہ اور کالاکوٹ میں ہیں، جو تقریباً 60 کلومیٹر دور ہیں۔ کوٹرنکہ میں ڈگری کالج کے منصوبے کو بھی سیاسی بے حسی کی وجہ سے معطل رکھا گیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ گزشتہ حکمت عملیوں اور منتخب سیاسی نمائندوں نے ہمیشہ اس علاقے کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا اور دونوں اسمبلی حلقوں کے درمیان دیے گئے عوامی ووٹوں کا استحصال کرتے رہے۔علاقائی نوجوانوں اور والدین نے موجودہ حکومت، ایم ایل اے بدھل جاوید اقبال چوہدری، اور رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد لاروی سے مطالبہ کیا ہے کہ خواص میں ڈگری کالج کا فوری اعلان کیا جائے تاکہ علاقے کی طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔مقامی عوام نے زور دے کر کہا کہ اگر حکومت نے اس دیرینہ مسئلے کا فوری حل نہ نکالا تو علاقے میں احتجاجی تحریکیں شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ دورافتادہ بلاک خواص کے ساتھ بھی دیگر شہروں کی طرح تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ یہاں کے نوجوان اور طالبات ترقی کے مواقع سے محروم نہ رہیں۔