عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات نے خلیجی ممالک سے بھارت کو کھاد کی فراہمی کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت اپنی کھاد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ فرٹیلائزر ایسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق ملک یوریا، ڈائی امونیم فاسفیٹ اور دیگر پیچیدہ کھادوں کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک سے منگواتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اپریل تا نومبر 2025 کے دوران بھارت نے تقریباً 7.17 ملین ٹن یوریا درآمد کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں درآمد کیے گئے 3.26 ملین ٹن سے دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔صنعتی اندازوں کے مطابق بھارت اپنی یوریا کی ضروریات کا تقریباً 20 سے 25 فیصد اور فاسفیٹ کھادوں کی ضروریات کا 50 سے 60 فیصد درآمد کرتا ہے۔درآمد شدہ کھاد اور اس کے بنیادی خام مال جیسے سلفر اور امونیا کا بڑا حصہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی ممالک سے آتا ہے۔ ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سلفر اور کھاد سازی میں استعمال ہونے والے دیگر اجزاء کے اہم برآمد کنندگان ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی کل سلفر درآمدات کا تقریباً 76 فیصد حصہ قطر، یو اے ای اور عمان سے آتا ہے، جوڈی اے پی اور سنگل سپر فاسفیٹ کی تیاری کے لیے نہایت اہم جز ہے۔2025 تک، آبنائے ہرمز سے گزرنے والی خلیجی درآمدات بھارت کی تیار شدہ کھاد کی مجموعی فراہمی کا تقریباً 33 سے 45 فیصد بنتی ہیں، جو ایک اہم تزویراتی انحصار کی نشاندہی کرتی ہیں۔ وزارت کیمیکلز اینڈ فرٹیلائزرز اور مالی سال 2024-25 کی تجارتی رپورٹس کے مطابق بھارت نے تقریباً 56.47 لاکھ میٹرک ٹن یوریا درآمد کیا، جس میں سے تقریباً 62 فیصد خلیجی ممالک سے آیا۔ ان میں عمان (26.13 لاکھ میٹرک ٹن)، سعودی عرب (5.38 لاکھ میٹرک ٹن) اور قطر (3.70 لاکھ میٹرک ٹن) شامل ہیں۔