بانہال //ضلع رام بن کے درجنوں دیہات بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں ہوئی بھاری برفباری کی وجہ سے بجلی اور سڑک رابطوں سے محروم ہوگئے ہیں۔ بانہال کے نیل ، پوگل پرستان ، اہمہ ، دردہی ، کھڑی ، مہو منگت ، گول ، بھیم داسہ، گوئی ، سنگلدان اورراج گڑھ وغیرہ کے دیہات میں برفباری اور بارشوں کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے جبکہ رابطہ سڑکیں بھی بند ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس دوران کئی علاقوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہو گئی ہے جب کہ مریضوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں بھی لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ اگر چہ برف کو صاف کرنے کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے لیکن منگل کے روز موسم کے خشک رہنے کی وجہ سے راستوں پر پھسلن پیدا ہو گئی ہے اور برف پگھلنے سے مزید پسیاںگر آنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے ۔ کئی مقامات پر بجلی کے پول اکھڑ گئے ہیں تو بوسیدہ ترسیلی تاریں برف کا بوجھ نہ اٹھا پانے کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ہیں۔ ٹوٹی ترسیلوں کی وجہ سے بجلی کی بحالی بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے اور جب تک پوری طر ح سے تاروں کی مرمت نہیں ہو جاتی، بجلی بحالی بذات خود ایک مسئلہ بن جاتی ہے ۔
خطہ چناب میں برف باری سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ
طاہر ندیم خان
بھدرواہ//اگر چہ حالیہ برف باری کی وجہ سے وادی چناب کے لوگوں نے راحت کا سانس لیا ہے اور پہاڑوں پر مشتمل اس وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگ گئے ہیں مگر اس کے ساتھ ہی اس خطہ کے عوام کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے اس میں شک نہیں کہ خطہ چناب اور وادی بھدرواہ کے عوام نے اس برف باری سے راحت کا سانس لیا ہے کیونکہ لگاتار زائد از دو ماہ کی خشک سالی کی وجہ سے لوگ پریشان ہو چکے تھے اور اکثر لوگ زکام اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔مگر اس تصویر کا دوسرا پہلو دیکھیں تو اس خطہ کی اندرونی سڑکیں برف باری کی وجہ سے بند ہوگئی ہیں ، بجلی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے، گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہوچکی ہے، پانی سپلائی متاثر ہوگئی ہے اور اس برف باری کی وجہ سے سب سے زیادہ دور افتادہ اور پہاری علاقے متاثر ہوئے ہیںاطلاعات کے مطابق سوموار صبح سویرے ہی وادی بھدرواہ میں بجلی کی سپلائی بند ہوگئی۔ڈاکٹر عادل ملک نے کشمیر عظمیٰ کے نمائیدے کو بتایا کہ وہ لدھیانہ سے اپنے اہل خانہ سے ملنے کے لئے آئے تھے اور جب وہ بھدراہ پہنچے تو انہیں لگا کہ وہ کسی کولڈ سٹو ر میں آگئے ہیں ۔ بجلی بند ، پانی بند ، رسوئی گیس نایاب اگر یوں کہا جائے کہ زندگی منجمند ہوگئی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق اگر چہ آج موسم صاف ہوگیا ہے مگر پانی سپلائی کے نلکے جم گئے ہیں ، ایندھن اور رسوئی گیس کی کمی کی وجہ ہم پریشان ہیں ۔سڑکوں پر بھاری برف ہونے کی وجہ سے رسل و رسائل کے تماذرائع مسدود ہوگئے ہیں۔ اس موسم کی سب سے زیادہ برف باری وادیء بھدراہ میں ریکارد کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے اگر چہ برف ہٹانے کاکام شروع کردیا ہے مگر زیادہ تر سڑکیں ابھی تک برف سے بھری پڑی ہیں جس کی وجہ سے لوگ اپنے گھروں میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں۔شہر کی زیادہ تر سڑکیں بشمول تاریخی سیری بازار جھیل کا نظارہ پیش کر رہا ہے اور ابھی تک پانی کے نکاس کا کوئی انتظام نہیں کیاگیا ہے۔اشیاء ضروریہ کی کمی کی وجہ سے عام لوگ پریشان ہیں اگرچہ مقامی انتظامیہ نے عوام کو اشیاء ضروریہ کی دستیابی کی یقین دہانی کرائی ہے مگراس کے باوجود تیل خاکی،دودھ اور سبزیوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔دریں اثنا اڈیشنل ڈپٹی کمشنر بھدرواہ امام دین کچلونے بتایا کہ انہوں نے سینئر اہلکاروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے دوران برف باری سے پیدا شدہ صورت حال کا جائیزہ لیا۔اس دوران برف کو تمام بڑی اور چھوٹی سڑکوں سے جلد از جلد ہٹانے، بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی کو بحال کرنے اور عوام کو تمام تر اشیائے خوردنی دستیاب کرانے کے لئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جارہے ہیںاور اس سلسلے میں متعلقہ محکموں کے حکام کو ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔اطلاعات کے مطابق کشتواڑ ، ڈوڈو،رام بن،بانہال ،گندو،پاڈر، مڑواہ،سنتھن،مغل میدان،دیسہ ، گرمل ، سراج،تانا،کھبی ، نیل ٹاپ،ماہومنگت، گول،کھڑی،بھلیسہ، جئی اور چناب وادی کے بالائی علاقوں میں اس موسم کی سب سے زیادہ برف باری ہوئی۔