محمد تسکین+زاہد بشیر +اشتیاق ملک+عاصف بٹ
جموں// خطہ چناب اور جموں میں موسلادھار بارشو ں نے تباہی مچا دی ہے ۔جہاں کئی سڑکیں تباہ ہوئیں وہیں سیلابی ریلوں سے بھاری پیمانے پر مکانات اور فصلوںکو نقصان پہنچا ۔ادھر سیلاب کے خطرہ کے پیش نظراکھنور سے 36، کٹھوعہ سے 18 خاندان محفوظ مقامات پر منتقل کیاگیا جبکہ گرکھل میں مٹی کے کٹاؤ سے ایک پختہ مکان، 4 کچے مکانات کو نقصان پہنچا۔
جموں
مٹی کے کٹاؤ کی وجہ سے ایک پختہ مکان اور چار کچے مکانات کے منہدم ہونے کے علاوہ اکھنور کے گرکھل علاقے سے کم از کم 36 خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ایک عہدیدارنے کہا’’ہم نے اکھنور کے گرکھل میں سیلاب زدہ علاقوں سے کم از کم 36 خاندانوں کو نکالا ہے۔ ہم نے دریائے چناب کے ساتھ نشیبی دیہاتوں کو بھی الرٹ کر دیا ہے‘‘۔عہدیدارنے بتایا کہ چناب میں پانی کی سطح صبح سے لے کر آج شام تک بتدریج بڑھ رہی تھی اس لیے اہل خانہ کو نکال کر احتیاطی اقدام کیا گیا۔انہوںنے فیلڈ رپورٹس کے حوالے سے بتایا’’دریائے چناب کے کنارے کنکریٹ مکان سیلابی پانی میں بہہ گیا / ڈوب گیا ہے جبکہ چناب کے پانی کے بہاؤ سے مٹی کے کٹاؤ کی وجہ سے چار کچے مکانات کو بھی نقصان پہنچا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ تمام کنبوں کو، جن میں زیادہ تر خانہ بدوش ہیں، کو منتقل کر دیا گیا ہے، اور اسی کے مطابق، انتظامیہ نے پولیس اور ایس ڈی آر ایف کے ساتھ مل کر بالائی علاقوں میں بارش کے پیش نظر چوکسی برقرار رکھی ہوئی ہے کیونکہ اس سے اکھنور میں چناب کے پانی کی سطح بڑھ جائے گی۔فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہلکار نے بتایا’’آج شام 7 بجے جب دریائے چناب میں اکھنور میں 30.7 فٹ پانی کی سطح تھی تاہم پانی کی سطح میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ شام 5 بجے اکھنور میں پانی کی سطح 30 فٹ تھی حالانکہ دریائے چناب میں خطرے کا نشان 35 فٹ اور الرٹ لیول 32 فٹ ہے‘‘۔اسی طرح جموں توی ندی خطرے یا خطرے کے نشان سے نیچے بہہ رہی تھی۔ تاہم امنے کہا کہ اگر بالائی علاقوں میں شدید بارش ہوتی ہے تو دونوں دریاؤں یعنی چناب اور توی میں پانی کی سطح میں اضافے کے امکانات ہیں۔دریں اثنا، ایک سینئر انتظامی افسر نے بتایا کہ کٹھوعہ ضلع کی مہان پور تحصیل میں پرمار موڑ کے وارڈ نمبر 1 سے لینڈ سلائیڈنگ کے بعد پانچ خاندانوں کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔انہوںنے کہا”علاقے میں بارش کے بعد مٹی کا تودہ گرا تھا، اور انتظامیہ نے ان چار خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ ان خاندانوں کو خیمے فراہم کیے گئے تھے‘‘۔21 جولائی کو انتظامیہ نے اْجھ ندی میں سیلاب کے بعد کٹھوعہ کے چانگ علاقے سے تقریباً 12 خاندانوں کو بھی نکالا اور وہاں سے منتقل کیا تھا۔اس کے علاوہ، جیولوجیکل سروے آف انڈیا کی ٹیم نے ابھی تک بسوہلی میں لینڈ سلائیڈنگ کی رپورٹ پیش نہیں کی ہے جہاں انہوں نے حال ہی میں فیلڈ کا دورہ کیا تھا۔
گول
کئی روز سے لگا تار شدید بارشوں کی وجہ سے جہاں گول گاگرہ روڈ کی حالت نہایت ہی ابتر ہو گئی ہے وہیں دوسری جانب ایک دو مقامات پر پسیاں گر آنے کی وجہ سے رہائشی مکانات کو کافی نقصان پہنچا ہے اور یہاں مقیم لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ کلی مستا پنچایت کے گوڈری علاقے سے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے شمس الدین ملک، مقبول احمد ملک وغیرہ نے کہا کہ اوپر والے علاقے سے محمد رستم ملک کی اراضی کھسک آئی اور نیچے جو بستی ہے وہ اس کی زد میں آئی ہے اور دو رہائشی مکانات جس میںشمس الدین ملک اور مقبول احمد ملک کے مکانات شامل ہیں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کسی بھی وقت یہ مکانات گر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح سے لگا تا ر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا ہے یہاں سے ہمیں نقل مکانی کرنے پر مجبو رہونا پڑے گا۔ متاثرین نے ضلع انتظامیہ رام بن اور ایس ڈی ایم گول سے مطالبہ کیا کہ ایک ٹیم علاقے میں بھیجی جائے تا کہ یہاں نقصان کا جائزہ لے اور جن کا
نقصان ہوا ہے اُن کو بھر پور معاوضہ دیا جائے تا کہ یہ ان مکانات کو دوبارہ مرمت کرکے قابل رہائشی بنا سکیں ۔
رام بن
بارشوں کی وجہ سے ضلع رام بن کی تحصیل اکڑال پوگل پرستان کے علاقوں میں ہفتے کی علی الصبح سے آئے سیلابی ریلوں اور پسیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں میں عوامی اِملاک کو شدید نقصانات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔بارشوں کی وجہ سے سب ڈویژن رامسو کی تحصیل اْکڑال پوگل پرستان میں سیلابی ریلوں نے کئی علاقوں میں تباہی مچائی ہے اور پوگل پرستان کے گوہالہ مالیگام میں اوپر پہاڑی سے گر رہی ایک بھاری پسی کی وجہ سے گوہالہ کی بستی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اور مزید بارشوں کی صورت میں یہاں مزید نقصانات کا اندیشہ ہے۔ مقامی لوگوں نے فون پر کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ہفتے کی صبح بھاری ملبے اور پتھروں پر مشتمل ایک بھاری پسی گوہالہ بستی کی طرف گر آئی جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں زندگی بچانے کیلئے گھروں سے بھاگنا شروع ہوئے اور پورے علاقے میں پھلدار درختوں ، کھیت کھلیانوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ النباس اے کے چھان باس علاقے میں غلام نبی کا مکان بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوگیا ہے جبکہ مکرکوٹ کے مقام پوگل پرستان نالہ پر ایک پل کو بھی نقصان پہنچا ہے اور کھوڑا ، درگلی ، دردہی اور سوجمتنہ کے کئی بڑے علاقے منقطع ہوگئے ہیں۔ مقامی ڈی ڈی کونسلر بشیر احمد رونیال نے بتایا کہ پنچایت مالیگام اور سینابتی کے علاقوں میں رات بھر جاری رہنے والے بارشوں اور سیلابی ریلوں کی وجہ سے عوامی املاک ، پھلدار درختوں اور زمینوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور معمول کی زندگی درہم برہم ہوگئی یے۔بٹرو کے علاقے میں شری مہا کال شیو مندر کی دیوار بھی گر گئی ہے جس سے مندر کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیگام اور سینا بتی کے علاقوں میں شدید نقصان ہوا ہے اور سڑک رابطے کٹ گئے ہیں۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ملازمین کی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا جائے۔ تحصیلدار اْکڑال پوگل پرستان ناصر جاوید نے تحصیل اْکڑال پوگل پرستان کے علاقوں میں ایک شخص کی ہلاکت اور دیگر نقصانات کی تصدیق کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پوگل پرستان سینابتی ، آلنباس اور نیل کی سڑکوں کو جگہ جگہ آئے سیلابی ریلوں کی وجہ سے شدید نقصان پہنچا ہے اور ایک مکان گر گیا ہے جبکہ ایک پل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحصیل پوگل کے علاقوں میں بارشوں سے پہنچے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے ٹیمیں روانہ کی گئی ہیں اور اس بارے میں تفصیلات جمع کی جارہی ہیں۔
ڈوڈہ
ڈوڈہ ضلع میں ہفتہ کے روز وقفہ وقفہ سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معمولات زندگی متاثر ہوئی ادھر تحصیل چرالہ کے بنگل نالہ کے نزدیک بادل پھٹنے سے علاقہ میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی اور مقامی سڑکوں کے ساتھ ساتھ کشتواڑ بٹوت ڈوڈہ قومی شاہراہ بھی متعدد مقامات پر بھاری ملبہ و سیلاب پھیل گیا جس کے نتیجے میں کچھ دیر کے لئے ٹریفک نظام متاثر ہوا تاہم پانی کے بہاؤ میں کمی آنے کے فوراً بعد شاہراہ کو آمدورفت کے لیے بحال کیا گیا۔اس دوران سیلابی ریلے میں ایک ٹریکس گاڑی زیر نمبر JK14D-5586 پھنس گئی جس میں ڈرائیور سمیت دو افراد بھی سوار تھے تاہم مقامی لوگوں، پولیس، سیکورٹی فورسز و سیول انتظامیہ کی بروقت بچاؤ کاروائی سے دونوں افراد کو بچایا گیا۔وہیں ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ وشیش پال مہاجن ،ایس پی عبدالقیوم و ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر نے انتظامیہ کے دیگر آفیسران کے ہمراہ جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور طوفانی بارشوں سے ہوئے نقصانات کا جائزہ لیا۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر امین زرگر نے کہا کہ بادل پھٹنے سے چرالہ پونیجہ میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی تھی اور اطراف کے نالوں میں بھی طغیانی آگئی تھی تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ دو افراد کو صیح سلامت سیلاب سے باہر نکالا گیا اور سبھی سڑکوں کو بحال کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر ڈوڈہ آشیش پال مہاجن نے میڈیا کو بتایا کہ شدید بارش و بادل پھٹنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے تاہم سڑک کا ایک حصہ سیلاب میں بہہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام مشینری کو متحرک کیا گیا ہے اور عوام کو راحت پہنچانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جارہے ہیں۔ادھر گندوہ بھلیسہ ،کاہرہ ،بھدرواہ ،گندنہ ،ڈوڈہ ،مرمت و عسر کے مضافات میں بھی ہوئی شدید بارشوں سے فصلوں، زرعی شعبے و رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے اور متعدد دیہات میں پانی و بجلی نظام بھی متاثر ہوا ہے۔ ضلع انتظامیہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے خراب موسم کے دوران سفر کرنے سے احتیاط برتنے و کسی بھی ایمرجنسی کے دوران ضلع کنٹرول روم کے نمبرات پر رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
کشتواڑ
کشتواڑ میں شبانہ بارشوں سے عام زندگی بری طرح مفلوج ہوکررہ گئی۔ موسلادھار بارشوں کے سبب ضلع بھر میں متعدد مقامات پر سڑکیں زیرآب آئیں۔ سرتھل کو ضلع سے جوڑنے والی سڑک رملی کے مقام پر بھاری پسی کی زدمیں آنے سے بند ہوئی جس پر متعدد گھنٹوں تک آمدرفت متاثر رہی۔ دیگر مقامات پر بھی بارشوں سے اندرونی سڑک رابطے زیرآب آئے جس سے ٹریفک کی نقل و حمل میں رکاوٹ ہوئی۔ بارشوں کے سبب بالائی و میدانی علاقوںمیں عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہوناپڑا۔ قصبہ کے گلی کوچے زیرآب آئے جن سے گندگی کے ڈھیر گلیوں میں جمع ہوگئے۔ہسپتال چوک کے قریب سوکھے چنار کی شاخ سنیچر کی صبح کٹ کر گئی جس کی وجہ سے گاڑی میں موجودسکولی بچے بالا بال بچ گئے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ اگرچہ انہو ںنے کئی مرتبہ انتظامیہ کو اس درخت کاکوئی بندوبست کرنے کیلئے کہاتھا لیکن آج تک اسکا کچھ نہیں کیاگیا جسے آج بڑا حادثہ ہوتے ہوتے رہ گیا۔انھوں نے انتظامیہ سے فوری طور اسکا حل نکالنے کا مطالبہ کیاہے۔ درخت کی شاخ گرنے کے سبب بجلی کی تاریں بھی گرگئیں اور قصبہ میں بجلی قریب پانچ گھنٹے بعد بحال کی گئی ۔خراب موسمی صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے قصبہ کے سکولوں کو چھوڑ کر ضلع بھر کے سبھی تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے تھے۔