راجوری//راجوری میں ڈسٹرکٹ پولیس لائینز میں سب سے بڑی تقریب منعقد ہوئی جہاں خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے ترنگا لہراکر مارچ پاسٹ پر سلامی لی۔پریڈ میں پولیس،س جے کے ایگزیکٹیو پولیس ،سی آر پی ایف، لیڈی پولیس ، جے کے ایف پی ایف ،ہوم گارڈ ،این سی سی کے دستوں کے علاوہ سکولی طلبا نے حصہ لیاجبکہ رنگا رنگ تمدنی پروگرام بھی پیش کئے گئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرموصوف نے ہندوستان کے آئین کو ترتیب دینے والے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئین سب سے بڑا ہاتھ سے تحریر کردہ دستاویز ہے جس میں ملک کے اہم بنیادی نکات موجود ہے جن میں جمہوریت ، سوشلزم ، سیکوازم اور قومی یکجہتی شامل ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مخلوط سرکار تمام سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے متمنی ہے اوراس سمت میں کوششیں کی جارہی ہیں۔ان کاکہناتھاکہ لوگوں نے اب اچھی طرح سمجھ لیا ہے کہ تشدد تباہی لاتا ہے اور تشدد کسی بھی معاملے کا حل نہیں ۔انہوںنے کہا کہ موجودہ سرکار کا مقصد بات چیت کی عمل کے ذریعے تشدد اور غیر یقینی صورتحال سے لوگوںکو باہرنکالناہے ۔وزیر موصوف کاکہناتھاکہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شروع سے ہی بات چیت اور مفاہمت پر زور دیااوراب مرکزی حکومت نے ایک مذاکراتکار نامز د کیاہے جو بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اورامید ہے کہ مختلف خیالات رکھنے والے لوگ بات چیت کے اس عمل میں حصہ لیں گے اور ریاست کو مشکلات سے باہر نکالنے میں مدد دیں گے۔سرحدوں پر تنائو کا ذکرکرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ سرحدوں کو دو ملکوں کے اچھے تعلقات کی بدولت پْر امن بنایا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امن کاماحول ریاست میں بے روزگاری اور غربت کاخاتمہ کرنے میں ضروری ہے۔ وزیرنے کہا کہ وزیرا علیٰ نے دس ہزار نوجوانوں کے حق میں عام معافی کا اعلان کیا جو 2008ء سے 2017ء تک مختلف کیسوں میںملوث تھے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے حال ہی میں 60ہزار عارضی ملازمین کو مستقل کیاگیاہے ۔انہوں نے کہا کہ راجوری پونچھ کے لئے مختلف پروجیکٹ منظور کئے گئے ہیں جن میں سے کچھ پر کام کاج بھی شروع کیا جاچکا ہے ۔انہوں نے میڈیکل کالج سمیت گوجر ہوسٹلوں کی تعمیر کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے کٹھوعہ کے ہیرا نگر میں ایک خانہ بدوش طبقہ کی بچہ کے قتل کو انسانیت سوز بتاتے ہوئے کہا کہ آصفہ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کاوشیں جاری ہیں ۔
ضلع کے دیگر مقامات پر بھی تقاریب منعقد ہوئی ۔ تھنہ منڈی میں سب سے بڑی تقریب ماڈل بوائزہائر اسکنڈری سکول میں ہوئی جہاںسب ڈیویژنل مجسٹریٹ محمد افضل مرزا نے ایس ڈی پی او افتخار طالب ، تحصیلدار شاہد اقبال،پرنسپل ڈگری کالج تھنہ منڈی شکیل احمد رینہ، نائب تحصیلدار فاروق احمد راتھر،کمانڈنگ آفیسر راشرایہ رائفل راجیو کاشک، ایس ایچ اوانسپکٹر نذیر احمد ڈار، پرنسپل ہائراسکینڈری سکول محمد صدیق گنائی، پرنسپل گرلز تھنہ منڈی منظور احمد گنائی، زونل فیزیکل آفیسر اشوک گنڈوترہ،زونل ایجوکیشن آفیسر دیوان چند ٹھاکر،تحصیل سوشل ویلفیئر آفیسر نصیر احمد قریشی، انچارج سی ڈی پی او کرامت بیگم، زونل میڈیکل آفیسر ڈاکٹر غلام احمد، تحصیل سپلائی آفیسر مرزا ضمیر احمد،بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر پلانگڑھ حکیم محمد انور، پروگرام آفیسر آصف رینہ اور یاسر نجار، خلاف ورزی انسپکٹر خلیل احمد سمیال، مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے عہدیداران، بیوپار منڈل کے کارکنان اور سابق ملازمین و معززین کی موجودگی میںپرچم کشائی کی ۔اسی سلسلہ کی ایک تقریب ہائراسکنڈری اسکول پلانگڑھ میں منعقد ھوئی جس میں اسکول کے پرنسپل عبدالقیوم ندوی نے ترنگا لہرایا۔اس کے علاوہ ہائراسکینڈری اسکول ساج میں راکیش کمار شرما،ہائر اسکنڈری اسکول بھروٹ میں پرنسپل روشن لعل ،ہائی اسکول شاہدرہ شریف میںہیڈ ماسٹر نے پرچم کشائی کی ۔ اس دوران ایڈیشنل سپیشل موبائل مجسٹریٹ و منصف تھنہ منڈی راجہ منظور احمد خان نے ترنگے کی سلامی لی ۔تحصیل کے بنگائی ،مجہور ،عظمت آباد ، کھنیالکوٹ اور دیگر علاقوںمیں بھی تقریبات منعقد ہوئیں ۔نوشہرہ میںسب سے بڑی تقریب ہائراسکینڈری سکول میں منعقد ہوئی جہاں ایس ڈی ایم عبدالستار نے ترنگا لہرایاجبکہ قلعہ درہال میں تحصیلدار رمیش کمار نے قومی پرچم لہرایا۔یہ تقریب ہائی سکول قلعہ درہال میں منعقد ہوئی تھی ۔وہیں سندر بنی میں ایس ڈی ایم کرتار سنگھ نے ، سیوٹ میں تحصیلدار وجے کمار شرما نے اور بیری پتن میں بھی تحصیلدارامت اوپادھیائے نے قومی پرچم لہرایا ۔اسی طرح سے کالاکوٹ اور تریاٹھ میں ایس ڈی ایم خالد حسین اور تحصیلدار کمل پریت سنگھ نے قومی پرچم لہرائے ۔ضلع کے کوٹرنکہ اور بدھل علاقوںمیں بالترتیب تحصیلدار محمد رفیق اور خورشید احمد تانترے نے ترنگالہرایااور پریڈ کی سلامی لی ۔تحصیل منجاکوٹ میں سب سے بڑی تقریب قصبہ میں ہوئی جہاں تحصیلدار ریاض محمود خان نے پرچم لہرانے کے بعد سلامی لی۔ اس موقعہ پر بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر عابد حسین،ایس ایچ او منجاکوٹ اعجاز حیدر،پرنسپل ہائر اسکینڈری اسکول منجاکوٹ بدر حسین، عبدالرزاق،وغیرہ بھی موجود تھے ۔وہیںسابق سرپنچ سخی ولایت خان نے حیات پورہ چوک میں بھی قومی پرچم لہرایا۔
باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں بھی یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد ہوئی جہاں وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت نے قوم پرچم لہرایااوساتھ ہی اس دن پر روشنی ڈالی ۔ انہوںنے کہاکہ یہ دن ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم دن ہے اور اسی روز ملک کا آئین نافذ کیاگیا ۔ اس موقعہ پر مختلف شعبوںکے سربراہ اور دیگر عملہ بھی موجود تھا۔وہیں منجاکوٹ میں تحصیلدار منجاکوٹ نے پرچم کشائی کی۔
سرکارسرحدی متاثرین کے مسائل سے باخبر
پونچھ //پونچھ میں ٹرانسپور ٹ ، مال ، دیہی ترقی اور تعمیرات عامہ کے وزیر مملکت سنیل کمار شرما نے قومی پرچم لہرایا اورمارچ پاسٹ پر سلامی لی۔سپورٹس اسٹیڈیم میں منعقد ہوئی اس تقریب میںپریڈ کے دوران جے کے پولیس،ہوم گارڈس ،سی آر پی ایف،این سی سی کے دستوں کے علاوہ سکولی طلاب نے حصہ لیاجبکہ رنگا رنگ تمدنی پروگرام بھی پیش کئے گئے۔ایم ایل اے شاہ محمد تانترے ، ایم ایل سی یشپال شرما، ایم ایل سی پردیپ شرما، ایم ایل سی ڈاکٹر شہناز گنائی، ڈی ڈی سی طار ق احمد زرگر ، ایس ایس پی راجیو پانڈے ، اے ڈی ڈی سی عبدالحمید ، اے ڈی سی ڈاکٹر بشارت حسین ،بریگیڈکمانڈر اے ایس پندھار کر ، سابق رکن اسمبلی جہانگیر حسین میر کے علاوہ ضلع افسران ، معزز شہری اور سکولی بچوں نے تقریب میں حصہ لیا۔اپنے خطاب میں سنیل شرمانے فوج اور سیکورٹی فورسز کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ پونچھ میں امن و امان قائم رکھاجائے ۔انہوںنے کہاکہ ریاست کی حکومت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں ترقی کی کئی منازل طے کر چکی ہے اور ریاست گیر ترقی کیلئے وعدہ بند ہے۔ انہوں نے سرحدی کشیدگی کو افسوس ناک قرار دیااور کہاکہ ریاستی سرکار کو سرحدی عوام کی پریشانیوں کا پورا احساس اسی لئے ان لوگوں کے تحفظ کیلئے ضلع پونچھ میں 40بنکربنائے جارہے ہیں جبکہ مزید 688بنکروں کو منظوری مل چکی ہے اور 1320 انفرادی بنکروں کو بھی منظوری دی گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ جموں پونچھ ہوائی سروس، منی سیکریٹریٹ کا قیام، ڈگری کالج سرنکوٹ کی تعمیر ،گوجر و بکر وال ہوسٹل پونچھ کے کاموں کے علاوہ شیش محل امتحان ہال قابل ذکر ترقیاتی اقدامات ہیں۔ انہوںنے کہا کہ دس کروڑ اور پچیس لاکھ روپے چکانداباغ ٹریڈ سنٹر کی ترقی کیلئے واگزار کئے گئے، دس کروڑ پچیس لاکھ روپے اٹھارہ پلوں کی تعمیر کیلئے خرچ کئے گئے جبکہ ضلع میں 14پی ایم جی ایس وائی کی سڑکیں بنائی گئیں۔
وہیں سب ڈیویژن مینڈھرکی تینوں تحصیلوں میں تقاریب ہوئیں۔ سب سے بڑی تقریب بوائزہائرسکنڈری سکول مینڈھر میں منعقد ہوئی جہاں ایس ڈی ایم مینڈھرراہل یادو نے قومی جھنڈا لہرایا اور ما رچ پاسٹ کی سلامی لی۔ اس موقعہ پر تحصیلدار مینڈھر شہزاد لطیف خان ،ایس ڈی پی او مینڈھر ریاض تانترے ،ایس ایچ او مینڈھر آمین چوہدری،بی ایم او مینڈھر ڈاکٹر پرویز احمدخان بھی موجود تھے ۔ تحصیل منکوٹ میںنائب تحصیلدار قاضی منیر حسین نے جھنڈا لہرایا اور سلامی لی۔تحصیل بالا کوٹ میں تحصیلدار نے جھنڈا لہرایا اور سلامی لی۔ اسی طرح تمام ہائر سکنڈری سکولوں میںبھی جھنڈا لہرایا گیا ۔ہائی سکول کسبلاڑی میں نائب تحصیلدار چوہدری عبدالرؤف ، ہائر سکنڈری سکول چھترال میں نائب تحصیلدارنے پرچم کشائی کی ۔اس کے علاوہ ہائر سکنڈری سکول بھاٹہ دوڑیاں،ہائر سکنڈری سکول ہرنی اور تحصیل کمپلیکس مینڈھرمیں بھی یوم جمہوریہ کی تقریبات منائی گئیں۔اسی طرح ایک تقریب گا ند ھی سیوا سنٹر مینڈھر میں ہوئی جس میں جمو ں کشمیر ہیومین رائٹ واچ کے صوبائی صدر محمد رفیق ٹھکر نے قومی جھنڈا لہرایا ۔سب ضلع اسپتال مینڈھر میں بی ایم او مینڈھر ڈاکٹر پر ویز احمد خان نے قو می جھنڈا لہر ایا جبکہ نیشنل کانفرنس دفتر مینڈھر میں ایڈوکیٹ نظیر چوہد ری نے پرچم کشائی کی ۔تحصیل سرنکوٹ میں یوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب بوائز ہائر اسکول سرنکوٹ میں منعقد ہوئی جہاں پر ایس ڈی ایم سرنکوٹ محمد رشید کوہلی نے قومی پرچم لہرایا اور مارچ پاس کی سلامی لی۔اس دوران طلباء نے رنگا رنگ پروگرام پیش کئے ۔تقریب میں بڑی تعداد میںلوگوںنے شرکت کی۔تحصیل کے دیگر مقامات خاص طور پر بفلیاز و لسانہ میںبھی تقاریب منعقد ہوئیں ۔منڈی تحصیل میں کئی مقامات پر تقاریب منعقد ہوئیں ۔ سب سے بڑی تقریب گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول منڈی میں منعقد کی گئی جہاں تحصیلدار منڈی سید عابد حسین صفوی نے قومی پرچم لہرایا اور مارچ پاس پر سلامی لی ۔اپنے خطاب میںسید عابد حسین صفوی نے کہا کہ آج کے ہی دن 26جنوری 1950 کو ہندوستان کا آئین مرتب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہی ایسا ملک ہے جہاں ہندو مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ ایک گلدستے کی طرح رہ کر اپنی زندگی کی منازل کو طے کر رہے ہیں اور بھائی چارے کی مثال کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔انہوںنے طلباء کو علم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہاکہ حضرت محمد مصطفیؐ نے ارشاد فرمایا کہ انسان کو اگر علم حاصل کرنے کیلئے ملک چین بھی جانا پڑے تو علم کے زیور سے اسے آراستہ ہونا چاہیے۔اس دوران رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کئے گئے ۔تقریب میں نظامت کے فرائض لیکچرار شبیہ الحسن نے انجام دیئے جبکہ اس موقعہ پر پی ڈی پی لیڈر شمیم گنائی، اکبر علی انصاری ،طارق منظور، ڈاکٹر عباس ،فاروق نجار بھی موجو دتھے ۔روہت میموریل سوسائٹی نامی غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے بھی ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں 137بی ایس ایف کے کمانڈنٹ نے پرچم کشائی کی ۔تحصیل کے مختلف علاقہ جات لورن ،ساوجیاں، پلیرہ، سیکلو، ساتھرہ میں بھی تقاریب منعقد ہوئیں ۔دریں اثناء ضلع میں سماجی اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی مختلف مقامات پر قومی پرچم لہرایاگیا۔پی ڈی پی کی جانب سے تاریخی قلعہ پونچھ کے پاس پرچم کشائی کی گئی جہاں ممبر قانون ساز اسمبلی شاہ محمد تانترے نے ترنگا لہرایا۔اس موقعہ پر ایم ایل سی یشپال شرما، پارٹی لیڈران بشیر خاکی، تنویر ڈار، لالا منظوراحمد، شمیم ڈار وغیرہ بھی موجو دتھے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بس اڈہ پونچھ پر ترنگا لہرایا گیا جہاں ممبر قانون ساز کونسل پردیپ شرما نے ترنگے کو سلامی دی۔اس موقعہ پرپارٹی کے ریاستی سکریٹری سنیل گپتا، ضلع صدر بنسی لال، کیپٹن خلیل اور دیگر کارکنان بھی موجود تھے ۔نیشنل کانفرنس کی جانب سے صوبائی یوتھ صدر صوبہ جموں و سابق ممبر قانون ساز اسمبلی اعجاز احمد جان نے پرچم کشائی کی ۔اس دوران ضلع صدر باغ حسین راٹھور، سلیم کھاری، اسحق خان، افضل خان، عبدالرشید شاہ پوری، آزاد چوہان نے بھی شرکت کی ۔وہیںکانگریس کی جانب سے سابق ممبر قانون ساز کونسل جہانگیر میر کی قیادت میں پریڈ گراؤنڈ پونچھ میں یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی گئی ۔ سماجی تنظیم یشن کی جانب سے ڈاک خانہ پونچھ کے قریب یوم جمہوریہ پر تقریب منعقد ہوئی جہاں صدر امتیاز احمد سلاریہ نے قومی پرچم لہرایا۔ضلع پونچھ کے گورنمنٹ گرلز پہاڑی ہوسٹل میں بھی یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کی گئی جس میں قومی پرچم لہرایا گیا اور ہوسٹل کی طالبات نے قومی ترانہ اور مختلف رنگا رنگ پروگرام پیش کئے۔ اس تقریب میں یوتھ ایسوسی ایشن فار سروس آف ہیومینٹی اینڈ نیشن کے صدر امتیاز سلاریہ مہمان خصوصی تھے جبکہ پروگرام کی صدارت کے فرائض ہوسٹل کی وارڈن محترمہ صغریٰ کاظمی نے انجام دیئے۔
نجی ادارے کے طلباء کی سٹیج پر نعرے بازی
جا وید اقبال
مینڈھر//26جنو ری کے موقعہ پر گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری سکول مینڈھرمیں اس وقت افراتفری کا ما حو ل پیدا ہو گیا جب سینٹ فر انسز کانونٹ ہائی سکول سنگا لہ کے بچو ں نے مینڈھر انتظامیہ کے خلاف سٹیج پرنعرے با زی شروع کردی ۔ان طلباء کا کہنا تھا کہ یو م جمہو ریہ کی تقریب میںانتظامیہ کی طرف سے مقرر کردہ ججوںنے غلط فیصلے سنائے ہیںاور پہلی پوزیشن اس سکول کو دی گئی ہے جو اس کا حقدار نہیں تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ بوا ئز ہائرسیکنڈری سکول مینڈھر میں ہمیشہ یہی کچھ ہو تا رہتا ہے اور جج صاحبان بھی جانبداری سے کام لیتے ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ ان کے سکول کی ویڈیو ز کا معائنہ کیاجائے اوریہ دیکھاجائے کہ ان میں کیا کمی تھی جو انہیں نظرانداز کیاگیاہے ۔انہو ں نے کہا کہ ان کی کارکردگی پر لوگوں نے تالیاں بجھائیںلیکن نتائج کے اعلان کے وقت انہیں نظرانداز کردیاگیا۔طلباء کے سٹیج پر احتجاج کی وجہ سے تقریب میں رخنہ پڑا ۔رابطہ کرنے پر ادارے کے چیئرمین نے کہاکہ یہا ں پر ہر سال یہی کچھ چلتا ہے ،انتظامیہ ان سے ہزارو ں روپے تقریبات کی خاطر لیتی ہے لیکن نجی سکولو ں کے اساتذہ کو بیٹھنے کی جگہ بھی نصیب نہیں ہو تی اور تمام اساتذہ ایک درخت کے نیچے کھڑے رہتے ہیں جبکہ بچو ں کو تیا ر ہونے کیلئے کمرہ بھی نہیں دیا جا تا ۔ انہو ں نے کہا کہ بچوں کو ایسا نہیں کرناچاہئے تھالیکن انتظامیہ کے سامنے اپنا احتجاج درج ضرور درج کراناچاہئے تھا۔ایس ڈی ایم مینڈھرراہول کماریا دو کاکہناہے کہ فیصلہ جج صاحبان نے کیا ہے تاہم وہ ضرور دیکھیںگے کہ کیا معاملہ ہواہے۔
تھنہ منڈی کے لوگ انعامات کی تقسیم سے ناخوش
طارق شال
تھنہ منڈی // یوم جمہوریہ کی تقریب کے دوران پیش کئے گئے پروگراموں میں بہترین کارکردگی پر دیئے گئے انعامات پر کچھ مقامی لوگوںنے ناخوشی کااظہار کرتے ہوئے امتیازی سلوک کا الزام عائد کیاہے ۔لوگوں کاکہناہے کہ انعامات کی تقسیم غیر جانبدارانہ طریقہ سے نہیں ہوئی اور بہترین کارکردگی کامظاہرہ کرنے والے سکولوںکو نظرانداز کیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ مڈ ل اسکول سنگیلی کے بچوں نے پہلی مرتبہ شمولیت کر کے اچھی کارگردگی کا مظاہرہ کیا اور ان بچوں کی کارکردگی کو سراہا بھی گیا مگر جج صاحبان نے اس ادارے کو نظرانداز کردیا۔
سرنکوٹ میں بیٹھنے کی جگہ نہ ملی
بختیار حسین
سرنکوٹ //بوائز ہائراسکینڈری سکول سرنکوٹ میں کئی لوگوںکو بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی جس پر انہوںنے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ان لوگوں کاکہناہے کہ انتظامیہ نے تقریب کے انعقاد اور انتظامات کیلئے مختلف محکموں سے پیسے بھی وصولے تاہم ان کو بیٹھنے کے لئے کرسیاں نہیں ملیں اور اتنے بڑے دن پر انتظامیہ کی لاپروائی اور کوتاہی اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ اس کا لوگوں کی طرف کوئی دھیان نہیں۔انہوںنے کہاکہ خود انتظامیہ کے لوگ صوفوں پر بیٹھے پروگرام سے لطف اندوز ہو تے رہے مگر اسکولی طلبا پانی کی گھونٹ کے لئے ترس گئے اور کرسیاں تک دستیاب نہ تھیں۔
غیر حاضر رہنے والوںکوانعام دینے کا الزام
نیوز ڈیسک
کوٹرنکہ //یوم جمہوریہ کے موقعہ پر انتظامیہ کی طرف سے دیئے گئے انعامات پر کچھ لوگوںنے اعتراض جتاتے ہوئے کہاہے کہ جن افسران یا ملازمین نے محنت سے کام کیا انہیں نظرانداز کردیاگیاہے ۔ نیشنل کانفرنس لیڈر ایوب پہلوان اور کانگریس یوتھ لیڈر محمد بشارت راتھر نے انتظامیہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ کہ یہ اس کی بہت بڑی غفلت شعاری ہے کہ جن لوگوں نے اچھا کام سرانجام دیا ، ان کو کوئی پوچھتاہی نہیں اور جو سکول میں کبھی حاضرہی نہیں ہوئے اور ان میں سے بعض معطل بھی رہے ،کوانعامات سے نوازاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ دراصل ان لوگوںکو انعام دیاگیاہے جو دن بھر افسران کے آگے پیچھے گھومتے رہتے ہیں ۔انہوںنے چیف ایجوکیشن افسر راجوری سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی مانگ کرتے ہوئے کہاکہ انعامات کی تقسیم کا جائزہ لیاجائے۔