سمت بھارگو+رمیش کیسر +جاوید اقبال +شاہ نواز
راجوری +پونچھ //جموں صوبے کے اضلاع راجوری، پونچھ اور ریاسی کے بالائی علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم کی پہلی بڑی برف باری ریکارڈ کی گئی، جس نے ایک طویل خشک دور کا خاتمہ کرتے ہوئے عوام، کسانوں اور باغبانوں کے چہروں پر خوشی بکھیر دی۔ اس تازہ موسمی نظام نے نہ صرف آبی ذخائر کی کمی کے خدشات کم کیے بلکہ آئندہ زرعی سیزن کے لیے بھی امید افزا پیغام دیا ہے۔یہ تازہ بارش اور برف باری جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شروع ہوئی، جب پورے خطے میں خراب موسمی حالات نے دستک دی۔ جہاں بالائی علاقوں میں شدید برف باری ہوئی، وہیں نشیبی علاقوں میں موسلا دھار بارش نے زمین کو سیراب کیا۔ اس موسمی تبدیلی کے نتیجے میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوا، تاہم عوام نے مجموعی طور پر اسے قدرت کی رحمت قرار دیا۔پونچھ ضلع کے منڈی، سوجیاں، سرنکوٹ اور لوران سمیت متعدد علاقوں میں بھاری برف باری ریکارڈ کی گئی، جس سے پہاڑی سلسلے سفید چادر اوڑھ گئے۔
اسی طرح تھنہ منڈی، منجاکوٹ، درہال، کنڈی، کوٹرنکہ اور بدھل کے علاقوں میں بھی برف جمع ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ کئی مقامات پر برف کی موٹی تہہ نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا، تاہم مقامی لوگوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کا سامنا کیا۔ریاسی ضلع کے بالائی علاقے، بالخصوص مہور اور چسانہ، گزشتہ رات سے مسلسل برف باری کی لپیٹ میں ہیں۔ یہاں کے پہاڑی راستے برف سے ڈھک گئے ہیں اور سرد ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے حساس علاقوں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔بالائی علاقوں میں برف باری کے ساتھ ساتھ راجوری، پونچھ اور ریاسی کے تمام نشیبی علاقوں میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ اس بارش نے نہ صرف خشک زمین کو نمی فراہم کی بلکہ تالابوں، چشموں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں بھی بہتری لائی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بارش اور برف باری زمینی پانی کی ری چارجنگ میں مددگار ثابت ہوگی، جس سے آئندہ مہینوں میں پانی کی قلت کے مسائل کم ہونے کی توقع ہے۔اگرچہ شدید سردی اور برف باری کے باعث بعض دور دراز علاقوں میں آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور روزمرہ کی سرگرمیوں میں عارضی رکاوٹیں سامنے آئی ہیں، تاہم مقامی آبادی نے اس موسمی تبدیلی کو مجموعی طور پر خوش آئند قرار دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے بارش نہ ہونے کے باعث فصلوں اور باغات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھتا جا رہا تھا، جسے اس تازہ بارش نے بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔کسانوں اور باغبانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ برف باری اور بارش مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرے گی اور آئندہ بوائی کے لئے سازگار حالات فراہم کرے گی۔ خاص طور پر گندم، مکئی اور دیگر ربیع فصلوں کے لئے یہ نمی نہایت مفید ثابت ہوگی۔ باغبانی سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ سیب، اخروٹ اور دیگر پھلدار درختوں کے لیے بھی یہ موسمی نظام فائدہ مند ہے، کیونکہ برف باری درختوں کو قدرتی آرام فراہم کرتی ہے اور کیڑوں کے خاتمے میں بھی مدد دیتی ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق بالائی علاقوں میں ہونے والی برف باری آنے والے مہینوں میں ندی نالوں اور چشموں کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس سے نہ صرف پینے کے پانی کی دستیابی بہتر ہوگی بلکہ آبپاشی کے نظام کو بھی تقویت ملے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہی سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا تو خطے کو طویل مدتی آبی فوائد حاصل ہوں گے۔انتظامیہ نے برف باری سے متاثرہ علاقوں میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، جبکہ برفانی علاقوں میں رہنے والے لوگ گرم لباس اور ضروری سامان اپنے پاس رکھیں۔ سڑکوں کی بحالی کے لئے متعلقہ محکموں کو الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی بندش کو جلد از جلد دور کیا جا سکے۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سردی کی شدت نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے، لیکن طویل خشک دور کے بعد یہ موسمی تبدیلی کسی نعمت سے کم نہیں۔ دیہی علاقوں میں پانی کے چشمے جو خشک ہونے کے قریب تھے، دوبارہ بہنے لگے ہیں، جس سے پینے کے پانی کے مسائل میں بھی کمی آنے کی امید ہے۔مجموعی طور پر، راجوری، پونچھ اور ریاسی اضلاع میں موسم کی پہلی بڑی برف باری اور بارش نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ یہ نہ صرف خشک سالی کے خدشات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے بلکہ زرعی، آبی اور ماحولیاتی اعتبار سے بھی خطے کے لیے خوش آئند ثابت ہو رہی ہے۔ عوام، کسان اور ماہرین سبھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر قدرت کی یہ مہربانی جاری رہی تو آنے والے دنوں میں خطے کو اس کے مثبت نتائج ضرور حاصل ہوں گے۔