کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کا جواز فراہم کرنے کے لئے بی جے پی کے سر کردہ لیڈر اور کابینہ وزیر امت شاہ نے پچھلے دنوں راجیہ سبھا میں زور دے کر کہا کہ خصوصی پوزیشن کے خاتمے سے ریاست جموں و کشمیر میں ترقی کی رفتار تیز تر ہو گی کیونکہ ریاست میں بڑے پیمانے پر بیرونی سرمایہ کاری ہوگی،نیز جب جمو ں و کشمیر بھارت میں پوری طرح سے ضم ہوگا تو سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ریاست کے نوجوانوں کے لئے روزگار کے کافی موااقع پیدا ہوں گے ۔ اس سلسلے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ آج پورے ملک میں بیروزگاری گزشتہ 45 برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ۔
ریاست کی خصوصی پوزیشن یا اس کے خاتمے سے قطع نظر یہ خیال ہی سرے سے غلط ہے کہ بڑے پیمانے کی صنعت کاری جس کا واسطہ مقامی خام مال کے ساتھ نہ ہو ، ریاست میں قائم ہو سکتی ہے ۔ صنعت کاروں کو دیگر سہولیات کے علاوہ پر امن ماحول اور آسانیاں بھی دستیاب ہونی چاہئیں جن سے وہ اچھا خاصا منافع کما سکیں۔ کشمیر میں صنعتیں قائم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ کا خرچہ بہت ہوگا۔ اس کے علاوہ زمین بھی مناسب مقامات پر حاصل ہونی چاہیے۔ چونکہ 35A کو ختم کرنے سے کوئی بھی بھارتی شہری ریاست میں زمین خرید سکتا ہے اس لئے زمین کی قیمتیں آسمان کو چھو جائیں گی ۔ اس کا اظہار امت شاہ نے راجیہ سبھا میں کیا، اگرچہ اُس کا خیال تھا کہ قیمتیں بڑھنے سے مقامی لوگوں کو زمین کے بدلے بڑی رقومات حاصل ہوں گی اور یہ ایک مثبت نتیجہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے کی صنعت کاری کے لئے ماحول سازگار ہی نہیں ہے ۔ اس لحاظ سے یہ فرض کرنا کہ ریاست میں زمین خرید کر آزادانہ طور پر بڑی صنعتیں قائم کرنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگا ،بالکل بے تُکا خیال ہے ۔ بڑی صنعتوں کی بات ہی کیا؟ بے لگام اور بے ڈھنگے طور پر چھوٹی صنعتیں قائم کرنے میں بھی کافی دشواریاں پیش آئیں گی ۔ وادی کشمیر میں وہی صنعتی سرگرمیاں پروان چڑھ سکتی ہیں جو مقامی خام مال کو استعمال میں لاسکتی ہیں ۔ مثال کے طور پر اون،میوہ جات، لکڑی، ریشم، چمڑا وغیرہ۔ اس طرح کی کچھ صنعتیں پہلے ہی ریاست میں قائم ہیں تاہم انہیں بڑھاوا دینے کی سخت ضرورت ہے اور یہ کام ایک ہمدرد، باصلاحیت اور کارگزار ریاستی حکومت بخوبی کر سکتی ہے ۔ اس کے لئے دفعہ 370 کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ریاست کی زمین کو خریدنے کی کھلی آزادی دینے کی ۔
بے شک کچھ لوگ اس خیال کے حامی ہو سکتے ہیں کہ جب ریاست کے دروازے ملک کے دیگر حصوں کے لئے پوری طرح سے کھل جائیں گے تو بھارت کے بڑے صنعت کار بلکہ کثیر ملکی (Multinational) کمپنیاں ریاست میں چل رہی چھوٹی صنعتوں کو ہاتھوں میں لے کر انہیں کافی فروغ دیں گی اور روزگار کے مزید مواقع دستیاب ہوں گے ۔ لیکن بڑے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی طرف سے چھوٹی مقامی صنعتوں پر ہاتھ ڈالنے سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے نہیں بلکہ کم ہو جائیں گے کیونکہ بڑی صنعتیں مشینوں سے زیادہ کام لیتی ہیں اور ہاتھوں سے کام کرنے والے عام مزدور بیکار ہو جاتے ہیں ۔
امت شاہ کے مطابق ریاست میں ترقی اور خوشحالی کی اصلی امید اس بات میں مضمر ہے کہ اس کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کے بعد ریاست سے باہر کے لوگ کشمیر میں زمین خرید سکیں گے اور اس آزادی سے ریاست ترقی کی راہ پر زیادہ تیزی سے بڑھے گی ۔ حیرانگی اس بات کی ہے کہ زمین نہ خریدنے کی پابندی ہماچل پردیش اور کچھ دیگر سرحدی ریاستوں میں بھی موجود ہے لیکن سرکار نے ’’ترقی‘‘ کے نام پر صرف جموں و کشمیر سے ہی یہ آئینی رعایت کیوں چھین لی ؟ اگر امت شاہ کا بیان نیک نیتی پر ہی مبنی ہے پھر بھی جب اس کا بے لاگ جائزہ لیتے ہیں تو یہ بالکل بے بنیاد ثابت ہوتا ہے ۔ اگر کوئی شخص زمین خرید کر اسے اپنے پاس رکھتا ہے تو لازماً اسے ‘ اس کے بدلے میں کوئی اور اثاثہ یا جائیداد ترک کرنا پڑتا ہے ۔ اگر زمین خرید نے والا زمین کے بدلے کوئی پیداواری اثاثہ چھوڑ دیتا ہے تو کشمیر میں محض زمین پرقابض ہونے کی وجہ سے نہ اس کو اور نہ ملک کو کوئی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے بلکہ ملک کے دیگر حصوں میں ترقی کی رفتار تیز ہونے کی بجائے دھیمی پڑجائے گی۔ جہاں تک زمین بیچنے والے کا تعلق ہے اسے زمین چھوڑ کر کچھ اور ہاتھ میں لینا ہوگا۔ اگر بحث کی خاطر ہم امت شاہ کی یہ بات مان بھی لیتے ہیں کہ زمین کے خرید و فروخت سے ریاست میں ترقی ہوگی اور بھارت دیش میں اس سے سرمایہ کاری پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست میں زمین بیچنے والے اُس رقم کا کیا کریں گے جو ان کو زمین کے بدلے میں ملے گی ۔ اگر وہ اس رقم کو سرمایہ کاری میں لگائیں گے بھی تو وہ انہیں مقامی چھوٹی صنعتوں میں لگا سکتے ہیں جہاں پہلے سے سرمایہ کاری ہو رہی ہے اور آج تک کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مقامی صنعتیں سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کی حالت میں ہیں ۔ یہ بات ضرور ہے کہ مقامی صنعتوں کو بڑی توانائی سے وسعت دینے اور ان کا معیار بلند کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے ریاستی سرکار کی زبردست اور نتیجہ خیز مداخلت کی ضرورت ہے نہ کہ زمین فروخت کر کے خواہ مخواہ کی سرمایہ کاری کی اس تناظر میں یہ خیال حق بجانب لگتا ہے کہ زمین فروخت کرنے والے بدلے میں ملی رقم کو بینکوں میں ڈیپازٹ کریں گے اور یہ رقومات ترقی میں ذرا بھر بھی حصہ ادا نہیں کر سکیں گی ۔ بہ الفاظ دیگر جو زمین پہلے کسی پیداواری سرگرمی کے لئے استعمال ہوتی تھی اب صرف زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت ہونے کے لئے بیکار پڑی رہے گی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ریاست باالخصوص وادی کشمیر میں پیداوار ی عمل سکڑ جائے گا اور روزگار کے مواقع مزید کم ہو جائیں گے ۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ کچھ سرمایہ دار اپنے لئے گرمائی آرام گاہیں تعمیر کریں گے ۔ مختصر یہ کہ ہم کسی بھی نقطہ نگاہ سے دیکھیں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے نہ تو ترقی میں تیزی آئے گی نہ ہی روزگار کے مواقع وسیع ہو جائیں گے ۔
ہم اگر یہ مان بھی لیں کہ خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے سے ریاست میں ترقی کے نئے راستے کھل جائیں گے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ موجودہ انتظامیہ نے ریاست کے سیاسی لیڈروں کو جن میں تین سابق وزرائے اعلیٰ بھی ہیں ،میں سے ایک کو اب بھی نظر بند کیوں کر رکھا ہے ۔ ظاہر ہے کہ خصوصی حیثیت کو ڈکٹیٹرانہ طور سے ختم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ریاست خاص طور پر وادی کشمیر میں جاری تشدد میں اضافہ ہوگا، کاروبار جس میں کشمیر کی اہم ترین صنعت ٹورسٹ انڈسٹری بھی شامل بلکہ سرفہرست ہے ٹھپ ہو جائے گی اور روزگار کا خدا ہی حافظ ہے ۔ اگر ہم بے لاگ اور معروضی جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ دفعہ 370؍اوردفعہ35A کو ہٹانے کا ’’ترقی‘‘ اور ’’روزگار‘‘ کے ساتھ کوئی واسطہ ہے ہی نہیں۔ جب یہ بات طے ہے کہ ان دونوں معاملات کو خصوصی پوزیشن کے ساتھ جوڑنا بیہودہ ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکز نے آخر یہ فیصلہ لیا ہی کیوں ؟ اس کا عام اور سیدھا سا جواب یہ ہے کہ کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ہٹانا ملک میں سرگرم ہندوتوا عناصر (Hindutava Elements) کی ایک دیرینہ مانگ تھی جو بی جے پی اور آر ایس ایس کے اقتدار میں آنے کے وقت سے زور پکڑتی جا رہی تھی ۔ اس کا بنیادی مقصد جموں و کشمیر میں جو ملک کی واحد مسلم اکثریت والی ریاست ہے، آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کے بغیر اور کچھ نہیں تھا۔ یہ بالکل وہی سوچ اور اپروچ ہے جو ایک عرصہ سے اسرائیل فلسطین میں عملا رہا ہے ۔ چونکہ موجودہ مرکزی سرکار ہندوتوا عناصر کا رپوریٹ طبقے کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اس لئے یہ مقصد بھی کار فرما ہوگا کہ کشمیر کو پوریس طرح سے بیرونی سرمایہ داروں کے لئے کھولنے سے زمین کی خرید و فروخت کی کھلی چھتی مل جائے گی اور غیر منقولہ جائیداد (Real Estate)کا کاروبار پروان چڑھ سکتا ہے ۔ اس سے موجودہ سرکار کے اتحادی (کارپوریٹ سیکٹر) کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔
مختصر یہ کہ تنگ نظری اور فرقہ پرستی پر مبنی مرکز کے اس فیصلے سے ریاست خاص طور پر کشمیر وادی زمین چوروں ،منافع خوروں، مجرموں اور دہشت گردوں کے لئے ایک پناہ گاہ میں تبدیل ہو جائے گی ۔ کشمیر کی شہر ہ آفاق خوبصورتی بدصورتی میں بدل جائے گی ، اس کی آب و ہوا تبدیل ہو گی ،ماحولیاتی آلودگی میں کئی گنا اضافہ ہوگا اور یہ جسے زمین پر خدا کی جنت کہا جاتا ہے جہنم میں تبدیل ہوگی ۔ یہ ایک المیہ ہے ، ایک دل دہلانے والا واقعہ اور اس ریاست کے لئے بے دردی کا لمحہ ہے جس نے 1947 ء میں جاگیرداری مخالف زمینی اصلاحات (Land Reforms) کو لاگو کرنے میں پورے ملک کی رہنمائی کی تھی لیکن اس سے بڑا المیہ بلکہ المناک طنز یہ ہے کہ امت شاہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے میں ’’ترقی‘‘ کا ستارہ دیکھتے ہیں ۔
حیراں ہوں روئوں کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کومیں
ّ(کالم نویس معروف ماہر اقتصادیات اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی کے پروفیسر ہیں)