اشرف چراغ
کپوارہ//دردسن کرالہ پورہ میں واقع قدرتی چشمہ جو اپنے شفا بخش پانی کی وجہ سے مشہور ہے، نے کبھی اُبلنا نہیں چھو ڑ ا اوراس کے پانی میں ذرا بھر بھی کمی نہیں آئی۔مقامی لوگو ں کے مطابق یہ چشمہ ہمیشہ انتظامیہ کا محتا ج رہا کیونکہ اس کے پانی کو بچانے کے لئے کبھی بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا جس کے بعد مقامی لوگو ں نے اس چشمے کوبچانے کیلئے شفا ناگ کمیٹی تشکیل دی اور با ضا بطہ طور اس قدرتی چشمے کی مرمت کی۔شفا ناگ کمیٹی کے ایک ذمہ دار اور سماجی کارکن میر نذیر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سال خشک سالی کے دوران تمام ندی نالوںاور قدرتی چشمو ں کے پانی میں نمایا ں کمی ہوئی لیکن شفا ناگ میں کبھی پانی کم نہیں ہوا اور اس ناگ سے لوگو ں نے پینے کا پانی حاصل کر کے اپنی پیاس بجھائی۔میر نذیر کا مزید کہنا ہے کہ اس ناگ کا میٹھا پانی زمین کی گہرائیو ں اور پہا ڑوں کی مٹی و پتھرو ں سے چھن کر سطح پر آنے والا خالص ،شفاف اور معدنیات سے بھر پور پانی ہے جو صحت کے لئے اور پینے کا سب سے محفو ظ ذریعہ مانا جاتا ہے اور یہ پانی سدا بہار ہوتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس کا پانی بالکل صاف ہو کر آتا ہے جس میں آلودگی نہیں ہوتی۔شفا ناگ کا پانی پینے کے علاوہ لوگ بیماریو ں کی شفا کے لئے استعمال کرتے ہیں لیکن کچھ سالو ں سے کچھ خود غر ض عناصر گندگی اس چشمے کے نزدیک ڈال دیتے تھے تاہم شفا ناگ کمیٹی نے اس پر روک لگا کر اس چشمے کی شان رفتہ کو بچایا لیا۔شفا ناگ کمیٹی نے اس قدرتی چشمے کے تحفظ کے لئے آلودگی سے بچانا اور اس کے پانی کو محفوظ کرنا انتہائی ضروری سمجھا تاکہ یہ قدرتی خزانہ باقی رہے۔