محمد عرفات وانی
گاؤں کی صبح ہمیشہ کی طرح خاموش اور پرسکون تھی۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کے پیچھے سے سورج آہستہ آہستہ اپنا سنہرا چہرہ دکھا رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے نرم جھونکے درختوں کی شاخوں کو ہلکے ہلکے ہلا رہے تھے اور فضا میں پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ کسی خوبصورت دھن کی طرح بکھر رہی تھی۔ مٹی کی سوندھی خوشبو اور شبنم سے بھیگی گھاس اس منظر کو اور بھی دلکش بنا رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے فطرت خود خاموشی سے ایک نئی صبح کا استقبال کر رہی ہو۔
اسلم حسب معمول بستر سے اٹھا۔ اس کی آنکھیں ابھی پوری طرح کھلی بھی نہیں تھیں کہ اس کے ہاتھ خود بخود میز کی طرف بڑھ گئے جہاں اس کا موبائل فون رکھا تھا۔ یہ اس کی روزمرہ زندگی کا ایک معمول بن چکا تھا کہ صبح ہوتے ہی سب سے پہلے موبائل کی سکرین روشن کرے، دنیا کی خبریں دیکھے، دوستوں کے پیغامات پڑھے اور اپنی آن لائن کلاس کے لئے تیاری کرے۔
اس نے موبائل کا بٹن دبایا، سکرین روشن ہوا مگر اس روشنی میں ایک عجیب سی خاموشی چھپی ہوئی تھی۔ اوپر کونے میں وہی چند لفظ چمک رہے تھے کہ No Internet Connection۔
پہلے پہل اسلم نے اسے معمولی خرابی سمجھا۔ اس نے فوراً موبائل کو بند کر کے دوبارہ آن کیا۔ کبھی سم کارڈ نکال کر دوبارہ ڈالا، کبھی فون کو آسمان کی طرف اٹھا کر سگنل تلاش کرنے لگا، جیسے نیلے آسمان کے کسی کونے میں چھپے ہوئے اشارے کو پکڑ لینا چاہتا ہو مگر ہر بار سکرین وہی خاموش پیغام دکھاتا رہا۔
چند ہی لمحوں میں اسلم کو اندازہ ہو گیا کہ مسئلہ صرف اس کے موبائل تک محدود نہیں۔ باہر گلی میں ہلچل سی تھی۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا تو دیکھا کہ گاؤں کے کئی نوجوان اپنے اپنے موبائل ہاتھوں میں لئے پریشان کھڑے ہیں۔ کوئی موبائل کو سر کے اوپر اٹھا کر سگنل تلاش کر رہا تھا، کوئی بار بار فون کو ری اسٹارٹ کر رہا تھا اور کوئی بے دلی سے سکرین کو دیکھ کر سر ہلا رہا تھا۔
کچھ ہی دیر میں خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ انٹرنیٹ بند ہو چکا ہے۔
اسلم کے دل میں ایک عجیب سی بے چینی پیدا ہو گئی۔ اس کے لئے یہ صرف انٹرنیٹ کی بندش نہیں تھی بلکہ جیسے اس کی روزمرہ زندگی کا ایک اہم دروازہ اچانک بند ہو گیا ہو۔ اس کی آن لائن کلاس تھی جس میں آج ایک اہم لیکچر ہونا تھا۔ اس نے دل ہی دل میں امید باندھی کہ شاید دوپہر تک سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
مگر وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا اور سکرین کی خاموشی جوں کی توں رہی۔
دوپہر تک گاؤں کی فضا میں ایک عجیب سی تبدیلی محسوس ہونے لگی۔ وہی گاؤں جو ہمیشہ سادہ اور مطمئن نظر آتا تھا، آج کسی انجانی بے چینی میں مبتلا تھا۔
گلی کے ایک کونے میں ایک بوڑھی ماں صحن میں چارپائی پر بیٹھی بار بار اپنے موبائل کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر فکر کی ہلکی لکیریں نمایاں تھیں۔ اس کا بیٹا برسوں سے امریکہ میں ملازمت کرتا تھا اور ہر شام ویڈیو کال کے ذریعے اپنی ماں کی خیریت دریافت کرتا تھا۔ آج وہ کئی بار موبائل کی سکرین کو چھو کر دیکھ چکی تھی مگر سکرین مسلسل خاموش تھا۔
دوسری طرف گاؤں کا ایک بیمار شخص شدید پریشانی میں تھا۔ وہ اکثر شہر کے ایک ڈاکٹر سے آن لائن مشورہ لیتا تھا۔ اس کے ہاتھ میں پرانا نسخہ تھا اور چہرے پر بے بسی کے آثار نمایاں تھے۔ وہ کبھی موبائل کو دیکھتا اور کبھی دور پہاڑوں کی طرف جیسے وہاں سے کوئی امید کی کرن نمودار ہو جائے گی۔
اسلم یہ سب منظر دیکھ کر خاموش کھڑا رہا۔ اسے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ یہ چھوٹا سا سکرین دراصل کتنی بڑی دنیا اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔ اس میں رشتوں کی آوازیں بھی تھیں، علم کی روشنی بھی اور ضرورت کے وقت سہارا بھی۔ جب یہ سکرین خاموش ہو جاتا ہے تو انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک دنیا سے اس کا ایک اہم رشتہ ٹوٹ گیا ہو۔
شام ڈھلنے لگی تو آسمان پر سرخی پھیلنے لگی۔ گاؤں کے بچے جو عام دنوں میں موبائل گیمز میں مصروف رہتے تھے، آج گلی میں کھیل رہے تھے۔ ان کی قہقہوں کی آوازیں دور تک سنائی دے رہی تھیں۔ کچھ بوڑھے لوگ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر پرانے زمانے کی باتیں کر رہے تھے۔
اسلم کو یوں لگا جیسے وقت چند لمحوں کے لئے پیچھے لوٹ آیا ہو۔
رات کے وقت وہ گھر کی چھت پر جا کر بیٹھ گیا۔ آسمان صاف تھا اور بے شمار ستارے خاموشی سے جگمگا رہے تھے۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اس کے چہرے کو چھو کر گزر رہے تھے۔ وہ دیر تک خاموش بیٹھا آسمان کو دیکھتا رہا۔
اسی خاموشی میں اس کے دل میں ایک عجیب سا احساس جاگا۔
اس نے سوچا کہ شاید ہم نے زندگی کی اصل خوبصورتی کو نظر انداز کر دیا ہے۔ ہم اپنی چھوٹے چھوٹے سکرینوں میں اس قدر گم ہو گئے ہیں کہ فطرت کے وسیع اور حسین سکرین کو دیکھنا ہی بھول گئے ہیں۔
پرندوں کی آوازیں، درختوں کی سرسراہٹ، رات کی خاموشی اور آسمان کے ستارے… یہ سب تو ہمیشہ سے ہمارے اردگرد موجود تھے مگر ہم اپنی مصروفیتوں اور ڈیجیٹل دنیا میں اتنے کھو گئے کہ ان کی طرف دیکھنے کا وقت ہی نہ نکال سکے۔
اسلم نے آہستہ سے موبائل کو ایک طرف رکھا اور گہری سانس لی۔ اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون اترنے لگا تھا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ انسان کو صرف انٹرنیٹ کے رابطوں کی نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی رابطوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ رابطے جو دل سے دل تک پہنچتے ہیں، جو خاموشی میں بھی بولتے ہیں اور جو انسان کو اپنی اصلیت سے جوڑے رکھتے ہیں۔
اس رات اسلم نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں ایک سادہ سا جملہ کہا کہ کبھی کبھی سکرینوں کی خاموشی بھی انسان کو خود سے ملوا دیتی ہے اور شاید اسی خاموشی میں زندگی کا سب سے گہرا پیغام چھپا ہوا تھا۔
���
کچھمولہ ترال پلوامہ کشمیر
[email protected]
موبائل نمبر؛9622881110