خالد بشیر تلگامی
شہر کے کنارے آباد یہ محلہ نقشوں میں شاید کسی معمولی لکیر سے زیادہ حیثیت نہ رکھتا ہو، مگر وقت کے حافظے میں اس کی موجودگی ایک مکمل باب کی طرح محفوظ تھی۔ یہاں کی گلیاں تنگ اور سکڑی ہوئی تھیں، مگر ان میں زندگی کا شور نہیں، یادوں کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ مٹی کی خوشبو، پرانی اینٹوں کی خشکی، اور پتھروں میں جمی ہوئی نمی جیسے لمحوں کی چھاپ چھوڑ گئے ہوں۔ مکان ایک دوسرے کے قریب جڑے ہوئے تھے، یوں جیسے پرانے رشتے بظاہر کمزور، مگر اندر سے مضبوط اور قائم۔ دیواروں پر چھپے دھبے وقت کے گزرنے کا اعلان کرتے تھے، اور دروازوں پر لگے زنگ آلود کنڈے ان گھروں کے اندر قید خاموشیوں کی گواہی دیتے تھے۔ ہر مکان کی اپنی کہانی تھی، ہر دروازہ ایک راز چھپائے ہوئے تھا، اور گلی کی فضا میں وہ تمام راز تیرتے محسوس ہوتے تھے۔
اسی محلے کی آخری گلی میں ایک پرانا مگر باوقار مکان کھڑا تھا۔ چونے کی دیواریں جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھیں، مگر اب بھی اس کا وقار بھاری محسوس ہوتا تھا، جیسے کسی بوڑھے شخص کی جھریوں میں بھی عزت باقی رہتی ہو۔ مکان کے صحن میں ایک اخروٹ کا درخت ایستادہ تھا تنہا، خاموش، مگر مضبوط۔ ہر صبح کے اجالے میں اس کے پتوں پر قطرے چھپتے اور روشنی میں چمکتے، جیسے وہ زندگی کی تمام چھوٹی خوشیوں کو جذب کر رہا ہو۔ یہ درخت صرف سایہ نہیں دیتا تھا، بلکہ برسوں سے ایک زندگی کا مشاہدہ بھی کر رہا تھا ہر خزاں، ہر بہار اور ہر بارش کا گواہ۔ اس کی جڑیں گہری، تناؤ میں مضبوط، اور شاخیں چھتوں کو چھوتی ہوئی فضاؤں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ وہ درخت مکان کے سکون اور خاموشی کا مرکز تھا، ایک ایسا منظر جو ہمیشہ ساتھ دیتا تھا، مگر کبھی لفظوں میں نہیں بولا جا سکتا تھا۔
یہ مکان سلیم اختر کا تھا ایک شخص جو عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا تھا جہاں انسان حال میں کم اور ماضی میں زیادہ جیتا ہے۔ اس کے بالوں کی سفیدی کسی سختی یا بیماری کی علامت نہیں تھی، بلکہ صبر اور تجربے کی مہر تھی۔ آنکھوں میں ایک مستقل تھکن تھی، مگر اس تھکن کے پیچھے ایک گہرا شعور چھپا ہوا تھا وہ شعور جو زندگی کی تلخیوں اور خوشیوں کا ایک ساتھ بوجھ اٹھائے بیٹھا تھا۔ وہ کبھی ایک کالج میں اردو ادب پڑھاتا تھا، الفاظ کی نزاکت، جملوں کی بناوٹ اور معنی کی تہوں کو جانچتا اور ان کی قدر کرتا۔ مگر اب وہ لفظوں سے کتراتا تھا، جیسے ہر لفظ میں درد کے اثرات موجود ہوں، یا جیسے الفاظ اس کے اندر چھپے زخموں کا وزن نہ اٹھا سکیں۔
ہر صبح سلیم ایک ہی معمول دہراتا۔ فجر کے بعد صحن میں آتا، لکڑی کی پرانی کرسی پر بیٹھتا، اور چائے کا کپ ہاتھ میں لیے اخروٹ کے درخت کو دیکھتا رہتا۔ وہ دیکھتا تو صرف دیکھتا نہیں تھا؛ یہ ایک ایسا عمل تھا جس میں اس کی پوری زندگی سمٹ آئی تھی۔ جوانی کے خواب، ازدواجی تعلقات کی خوشیاں، مایوسیاں، اور تنہائی کی بھاری دھند سب کچھ اس لمحے میں اکٹھا محسوس ہوتا۔ وہ درخت کو دیکھ کر زندگی کے بکھرے ہوئے حصوں کو ترتیب دینے کی کوشش کرتا، ماضی کے گزرے ہوئے لمحات پر نظر ڈالتا اور یادوں کو اپنے دل کی ایک چھپی ہوئی ڈائری میں محفوظ کر لیتا۔ ہر شاخ، ہر پتی، ہر چھوٹا سا سایہ اس کے لئے ایک نشانی تھا، ایک لمحہ، ایک احساس جو لفظوں کے بجائے دل میں بستہ تھا۔
سلیم کی زندگی میں سب سے گہرا خلا زریں تھی۔ زریں اس کی بیوی تھی، کم گو، سنجیدہ اور حقیقت پسند۔ وہ جذبات کا اظہار کم کرتی تھی مگر اس کی موجودگی اپنے آپ میں ایک مضبوط ثبوت تھی کہ دنیا میں سکون اور ترتیب موجود ہے۔ اس کی موت نے سلیم کو توڑا نہیں تھا بلکہ ساکت کر دیا تھا۔ وہ درد جو انسان خاموشی سے برداشت کرتا ہے، وہی سب سے بھاری ہوتا ہے۔ زریں کے بعد سلیم کی زندگی ایک ایسے جملے کی طرح ہو گئی تھی جو اختتام سے پہلے رک جائے، جس میں کہانی مکمل نہ ہو مگر ہر لفظ معنی رکھتا ہو۔
اکثر ایسا ہوتا کہ سلیم شام کے وقت دو کپ چائے بنا لیتا۔ ایک کپ وہ خود پیتا، دوسرا میز پر رکھ دیتا شاید کسی غیر موجود کی یاد میں، شاید ایک ضمیر کی خوشبو میں۔ پھر کچھ دیر بعد، جب ہوش واپس آتا، وہ دوسرے کپ کو خاموشی سے اٹھا کر سنک میں انڈیل دیتا۔ یہ عمل ایک رسم بن چکا تھا، ایسی رسم جس کا کوئی تماشائی نہیں تھا مگر جس میں زندگی کی تمام چھوٹی چھوٹی عادتیں اور یادیں سانسوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں۔
اسی گلی سے روز ایک لڑکی گزرتی تھی عالیہ۔ عالیہ پچیس برس کے قریب تھی مگر اس کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی سنجیدگی اور ٹھہراؤ تھا، جو عمر سے کہیں زیادہ بالغ محسوس ہوتا تھا۔ وہ قریبی لائبریری میں کام کرتی تھی، جہاں پرانی کتابوں کی خوشبو ہوا میں رچی بسی تھی اور خاموشی کا راج تھا۔ عالیہ یتیم تھی۔ والدین ایک حادثے میں دنیا سے رخصت ہو گئے تھے، اور اس کے بعد اس نے کتابوںکو نہ صرف علم بلکہ پناہ کے لئے بھی اپنا لیا تھا ۔ الفاظ اس کے لئے معلومات نہیں تھے بلکہ سکون اور بقا کا ذریعہ تھے۔
سلیم اور عالیہ کے درمیان ابتدا میں صرف ایک رسمی سلام تھا۔ نہ زیادہ بات، نہ سوال۔ مگر وقت کے ساتھ وہ سلام ایک مانوس خاموشی میں بدل گیا۔ عالیہ جب بھی سلیم کے مکان کے سامنے سے گزرتی، اخروٹ کے درخت کو ضرور دیکھتی۔ اسے یوں لگتا تھا جیسے یہ درخت بھی کسی انتظار میں شریک ہو۔
ایک دن ہلکی بارش ہوئی۔ ایسی بارش جو زمین کو نہیں، یادوں کو بھگوتی ہے ۔ عالیہ لائبریری سے لوٹ رہی تھی کہ اس نے سلیم کے مکان کا دروازہ آدھا کھلا دیکھا۔ اندر سے کسی کتاب کے گرنے کی آواز آئی۔ وہ لمحہ بھر رکی، پھر آہستہ سے اندر داخل ہو گئی۔
سلیم زمین پر گری کتاب کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا، مگر ہاتھ لرز رہے تھے۔ عالیہ نے آگے بڑھ کر کتاب اٹھائی اور نرمی سے اس کے ہاتھ میں دے دی۔ دونوں کی نگاہیں ایک دوسرے پر ٹھہر گئیں۔ اس لمحے میں کوئی لفظ نہیں تھا صرف احساس تھا۔یہ ملاقات خاموشی کی زبان میں ہوئی۔
اس دن کے بعد عالیہ کبھی کبھار سلیم کے پاس بیٹھنے لگی۔ کبھی کتابوں پر بات ہوتی، کبھی سلیم اپنی تدریسی زندگی کے قصے سناتا اور کبھی دونوں خاموش رہتے۔ انہی لمحوں میں سلیم نے پہلی بار محسوس کیا کہ خاموشی اگر کسی کے ساتھ بانٹ لی جائے تو بوجھ نہیں رہتی۔
ایک دن عالیہ نے پوچھا۔’’آپ اب کیوں نہیں لکھتے؟‘‘
سلیم نے اخروٹ کے درخت کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔’’کیونکہ میں اپنے انجام سے ڈر گیا تھا۔‘‘
وقت گزرتا گیا۔ سلیم نے دوبارہ قلم اٹھایا۔ پہلے چند جملے، پھر چند صفحات۔ عالیہ ہر تحریر پڑھتی، مگر زیادہ کچھ نہیں کہتی۔ اس کی خاموشی میں حوصلہ ہوتا تھا۔ زریں اب بھی یادوں میں تھی، مگر زنجیر نہیں رہی تھی ایک سایہ بن چکی تھی۔
ایک صبح، وہی صحن، وہی کرسی، وہی اخروٹ کا درخت۔ سلیم نے افسانہ مکمل کر لیا۔ مسودہ میز پر رکھا اور ایک نوٹ لکھا:
’’خاموشی اگر بانٹ لی جائے تو انجام نہیں بنتا، آغاز بن جاتا ہے۔‘‘
اسی دن سلیم اختر خاموشی سے دنیا سے رخصت ہو گیا۔ نہ شور، نہ ہنگامہ۔ جیسے اس کی زندگی نے بھی اسی خاموشی میں مکمل ہونا تھا جس میں وہ جیتا رہا۔
عالیہ نے اس افسانے کو شائع کرادیا۔ لوگوں نے پڑھا، سراہا، مگر کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ افسانہ دراصل ایک زندگی کی آخری سانس تھا۔
اخروٹ کا درخت آج بھی کھڑا ہے۔
کرسی آج بھی وہیں ہے۔
اور خاموشی اب تنہا نہیں۔
���
پالپورہ، پٹن، بارہمولہ کشمیر
موبائل نمبر؛9797711122