ڈاکٹر فاروق نے حملے کی مذمت اور یکجہتی کا اظہار کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا
جموں//نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے جمعہ کو ایک بار پھر جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہرایا اور کہا کہ اس سے علاقے میں حالات میں بہتری آئے گی۔این سی صدر نے جموں میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ گزشتہ بدھ،11مارچ کو شادی کی تقریب کے دوران ان کی جان پر حملہ کرنے والے شخص کے الزامات کو وہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ یونین ہوم منسٹر کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کے مطابق تحقیقات سے تمام حقائق سامنے آئیں گے۔سابق وزیر اعلیٰ نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان پر حملے کی مذمت کی اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی جموں و کشمیر میں حالات کی بہتری کے لیے نہایت اہم ہے۔این سی صدر نے کہا’’میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس واقعے کی مذمت کی، میرے ساتھ یکجہتی ظاہر کی اور حکومت سے کہا کہ اس معاملے کی جانچ کرے۔ اب حکومت پر ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات کرے۔ حکومت کو یہاں جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت بحال کرنی چاہیے۔ جتنی جلدی یہ بحال ہوگی، حالات میں بہتری آئے گی‘‘۔
جہاں تک حملہ آور کے الزامات کا تعلق ہے، جس نے فاروق عبداللہ کو ’’سب سے بڑا دہشت گرد‘‘قرار دیا اور کہا کہ وہ پچھلے 20برسوں سے انہیں قتل کرنے کے لیے تیار تھا، فاروق عبداللہ نے کہا’’میں اس کا کیا جواب دوں؟‘‘۔انہوں نے کہا’’وہ جانتا ہے کہ اس کا مسئلہ کیا ہے۔ پچھلے 20برسوں سے اس نے میرے خلاف کینہ رکھا ہوا ہے… میں اس بات کو سمجھ نہیں پا رہا۔ اسے میرے ساتھ کیا مسئلہ ہے… یہ میرے ادراک سے باہر ہے۔ جو لوگ اس کی تحقیقات کر رہے ہیں، ان کے پاس اس سے متعلق تمام معلومات ہوں گی۔ جہاں تک میرا تعلق ہے، میں اسے نہیں جانتا‘‘۔این سی صدر نے مزید کہا کہ تحقیقات حقیقت کو آشکار کریں گی۔انہوں نے کہا’’اب جبکہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے، ہوم منسٹر صاحب نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ تمام حقائق سامنے آئیں گے اور ہمیں واقعے کا پس منظر اور اس کے پیچھے کون ہے، سب معلوم ہو جائے گا‘‘۔قابل ذکر ہے کہ این سی صدر پر حملے کے ایک دن بعد، 12مارچ کو شہر کے جج نے کمل سنگھ جموال کو پانچ دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔عدالت لے جاتے ہوئے، کمل سنگھ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں اسے قتل کرنا چاہتا تھا۔ میرے ذاتی وجوہات ہیں۔ فاروق عبداللہ سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔ کسی نے مجھے ایسا کرنے کو نہیں کہا‘‘۔واقعے کے فوراً بعد گرفتاری کے دوران پولیس انٹروگیشن میں حملہ آور نے کہا’’میں پچھلے 20برسوںسے اس (عبداللہ) کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا‘‘۔