بات اظہر من شمس ہے کہ حضرت شاہ ہمدان ؒ کا دین حق کے داعی کی حیثیت سے وارد کشمیر ہونا کشمیری عوام پر اللہ تبارک تعا لیٰ کے احسانات میں سے عظیم احسان ہے ۔آپ نے یہاں کے عوام کو کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر اللہ تبارک تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف راغب فرمایا اور یہاں کے چپے چپے کو دین اسلام اور ایمان کی روشنی سے منور کردیا۔آپ کی تشریف آوری سے اہلیان کشمیر کی تقدیر بدل گئی ، دین حق کا بول بالا ہو گیا اور معاشرہ امن و امان کا گہوارہ بنا۔
سرزمین کشمیر پر اسلامی انقلاب کے بانی حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒکا اسم مبارک ’’علی‘‘کنیت ابو محمد اور القاب امیر کبیر علی ثانی و شاہ ہمدان تھے۔ آپؒ ایران کے شہرہمد ان میں 12 رجب المرجب713ھ بعض روایات مطابق714ھ کو تولد ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام گرامی میرسید شہاب ا لدینؒ اور والدہ ماجدہ کااسم گرامی فاطمہؒ تھا آ پ کا سلسلہ نسب ستر ہویں پشت میں حضرت رسالتمابﷺ سے جا ملتا ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے ماموں حضرت سید علائوالدین سمنانیؒ سے حاصل کی او ر ان ہی کی تربیت میںرہ کر قران پاک حفظ کیا ۔اسلامی علوم، حدیث و تفسیر،فقعہ وعقایدکی تعلیم بھی مکمل کی ساتھ ساتھ علم و عرفان ،تزکیہ نفس اور روحانی کمالات کے منازل بھی طئے کرتے رہے۔اس کے بعد اپنے بلند مرتبہ ہم درس شیخ تقی الدین سے مکمل استفادہ حاصل کیا اور ان ہی کے مرید بن کر باطنی علوم حاصل کئے اور روحانی کمال پایا ۔اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے شیخ شرف الدین مزدگانی ؒ کی صحبت اختیار فرمائی اور ان ہی کے حکم سے دنیا کے تبلیغی دورے شروع کئے ۔اس طرح آپ اکیس سال تک دنیا کے مختلف ممالک میں پھرتے رہے اور وسط ایشیا میں اپنے پر اثر تبلیغوں سے اسلام کا نور پھیلا دیا اس دوران آپ ؒ کشمیر بھی آتے رہے ۔
حضرت شا ہ ہمدانؒ ایک ایسے وقت میں کشمیر تشریف لائے جب پوری وادی کفر و شرک کے محیب اندھیر و ںمیںڈوبی ہوئی تھی۔انہوںنے اپنے علم و عمل ا ورروحانی طاقت کے بل پرکشمیریوں کو مشرف بہ اسلام کیا اس وجہ سے آپؒ کو یہاں انتہائی عزت وتوقیر کی نظر سے دیکھتا جاتا ہے۔روایات کے مطابق حضرت امیر کبیر تبلیغ دین اسلام کی خاطر پہلی بار اپنی سیاحت کے دوران 780ھ یا781 ھ میں سلطان شہاب الدین کی حکومت کے دوران وارد کشمیر ہوئے اور یہاں چار ماہ کے قیام کے بعد حج بیت اللہ کو چلے گئے ، بعد ازاں دوبارہ783ھ میں،سات سوافراد جن میں سادات کرام،اولیاء عظام اور علماء کی خاصی تعداد شامل تھی، کے ساتھ کشمیر آئے ۔روایات کے مطابق اس وقت یہاں کے سلطان قطب الدین ولی عہد تھے ۔ اس بار آپ ؒ نے اپنے ساتھ لائے خلیفوں کو کشمیر کے طول عرض میں پھیلا دیا جو تبلیغی مشن میں کافی سرگرم رہے جس کے نتیجے میں بے شمار غیر مسلم مشرف بہ اسلام ہو گئے ۔ڈھائی سال بعد آپ تبلیغ دین کی خاطر لداخ کے راستے ترکستان گئے ۔تیسری بار 785ھ میں پھر تشریف فرما ہوئے اور یہاں ایک سال قیام فرمایا۔ اپنے مریدین اور خلفاء کو بڑی شدت کے ساتھ ان پر عائید ذمہ داریوں کا احساس دلایا ۔ سنتوں کا اہتمام،بدعات،اور برے رسومات سے سختی سے اجتناب برتنے اور دعوت الی اللہ و عبادات میں پابندی جیسے اہم امورات پر توجہ مبذول رہی۔یہ تیسرا اور آخری اورسفر کشمیر تھا ۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیر میں اسلام کے آفاقی پیغام کو عام کرنے میں حضرت امیر کا بہت بڑا حصہ ہے ۔آپ کا کشمیر آنا اور یہاں دین حق کی دعوت نیزاللہ کی وحدانیت کے پیغام کو عام کرنے کے لئے منضوبہ بند تبلیغی، تعلیمی اورفنی سرگرمیاں انجام دینا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ روایت میں آیا ہے کہ کشمیر میںانقلاب آفر ین دعوتی کام کرنے کے سلسلے میں ان کو باطنی اشارے ملے تھے۔ ان دنوں حضرت عبدل رحمان بلبل شاہؒ اور کچھ دیگر صالحین سے کشمیر کے لوگ اسلام سے متعارف ہوچکے تھے تاہم مسلمان اپنے معا ملات میںاپنی انفرادیت قائیم نہیں کر سکے تھے۔ لوگ اسلامی قانون اور طور طریقوں سے پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اس وقت کے سلطان نے اسلام کی صحیح تعلیم سے نا واقفیت کی وجہ سے بیک وقت دو سگی بہنوں سے نکاح کر رکھا تھا جسے آنجناب ؒ کے حکم سے دونوں بیویوں کو طلاق دے کر الگ کردیا اور بادشاہ اور اس کے درباریوں نے امیر کبیر ؒ کے حکم سے تمام غلط کاریوں اور مشرکانہ طریقوں کو ترک کر دیا ۔حضرت امیر نے اپنے ساتھ لائے ہوئے سینکڑوں مبلغوں کو تبلیغ کی غرض سے جگہ جگہ بھیج د یااور اہل علم کو درس و تدریس کے کام پر معمور کیا ۔مسلمانوں کو صنعت وحرفت سے روشناس کرایا ۔خود دریائے جہلم کے کنارے ایک جگہ ،جو بعد میں خانقاہ فیض پناہ کے نام سے مشہور ہوئی اورجسے آج خانقاہ معلی کہتے ہیں تشریف فرما ہوکر وہاں رشد و ہدایت کا مرکز بنایا ،یہاں بیٹھ کر آپ ؒ نے سخت عبادات و ریاضت فرمائی ۔مورخین کے مطابق سلطان کشمیر بھی اپنے امیروں وزیروں اور درباریوں کے ہمراہ آنجناب کی خدمت میں حاظر ہو کرفیض یاب ہوتا تھا ۔خانقاہ معلی میں آج بھی ہزاروں عقید ت مند حاضری دیکر فیض حاصل کرتے ہیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت سعیدؒ کی اسلامی دعوت کے نتیجے میں ہزاروں غیر مسلم اسلام کے نور سے منور ہوئے متعدد نے بعد ازاں مبلغو ں کا کام کیا اور اسلام کی روشنی کو پھیلانے میں اہم رول ا دا کیا۔
حضرت شاہ ہمدان نہ صرف ولی اللہ تھے بلکہ اعلیٰ پائے کے مصنف بھے تھے ۔انہوں نے عربی اور فارسی زبان میں ’’ ذخیرت لملوک ‘‘ چہل اسرار ‘‘ ’’آداب المریدین ‘‘اور ’’اوراد فتحیہ‘‘ سمیت درجنوں کتابیں تصنیف فرمائی۔ اوراد فتحیہ حضرت امیر کا مشہور رسالہ ہے ،کشمیر کی مساجد میں توحید سے لبریز اس رسالے کا ورد پچھلے چھ سو سال سے کیا جاتا ہے، مورخوں کیمطابق اوراد شریف ان وظائیف کا مجموعہ ہے جو حضرت امیر ؒنے ایک ہزار چار سو اولیائے کرام سے استفادہ کرکے جمع کئے تھے۔
حضر ت امیر کبیر انقلاب آفرین شخصیت کے مالک تھے ۔ کشمیر میں قیام کے دوران آپ نے کافی مجاہدے کئے ہر جگہ مساجد تعمیر کروائی عوام ا لناس کو اسلام کی عظمت سے روشناس کرایا۔قاضی ابراہیم کے مطابق حضرت شاہ ہمدان ؒنے جب کشمیر سے واپس جانے کا قصد فرمایا تو سلطان قطب الدین کی التماس پرمولانا محمد قاری جو آپؒ کے ہمراہ تھے کو یہی اقامت کرنے کا حکم دیا۔ آخری مرتبہ یہاں ایک سال قیام فرمانے کے کے بعد786ھ میں حج بیت اللہ کی غرض سے روانہ ہوئے ۔ پگھلی پہنچ کر سخت علیل ہوگئے ۔پانچ روز اسی حالت میں رہ کر آخر 6 ذلحج رات کو نماز عشا کے بعدنصف شب آپ کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ حضرت امیر کی وصیت کے مطابق ان کے جسد خاکی کو ختلان پہنچایا گیا اوراسی مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا، جو انہوں نے خود خریدا تھا اورجو آج بھی مرجع خلائیق زیارت گاہ عالم وعالمیان ہے۔ہر سال ذوالحجہ کی6 تاریخ کو پوری وادی کشمیر میں حضرت شاہ ہمدان ؒ کا عرس مبارک نہایت ہی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ اس سلسلے میں وادی کے اطراف و اکناف عقیدت مند ان کے تئیں والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس روز تاریخی خانقاہ مولیٰ سرینگر میںہزاروں کی تعد اد میں لوگ جمع ہو کر اوراد فتحیہ کا ورد کر کے رب کائینات کی وحدانیت ،بزرگی اور برتری کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت شاہ ہمدانؒ کے بے پناہ احسانات کو یاد کرتے ہیں۔
اللہ تمارک و تعالیٰ مسلمانوں کو صحیح معنوں حضرت امیر کبیر کی تعلیمات کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ۔۔۔۔۔ آمین
رابطہ ۔۔۔[email protected]