اللہ تعالیٰ کے نیک و صالح بندے وہی ہوتے ہیں، جن کا ایمان مضبوط اور کامل ہوتا ہے،اور اُنہیں کاایمان کمال تک پہنچتا ہے جو عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کھرے اُترتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی روحانی توانائی میں اضافہ فرماتاہے اور اپنی نعمتوں سے نوازتا ہے۔رب العالمین قادر مطلق ہے، جسے چاہے اپنےفضل و کرم ا و ررحمت وعنایت سے نواتاہے، جسے چاہے خاص بنادیتا ہے،اورایسے ہی نیک بخت انسانوں کوولی اورصوفی کہا جاتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’ تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ ہے، جسے چاہے دے اور اللہ وسعت والا علم والا ہے۔ اپنی رحمت سے خاص کرتا ہے جسے چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔(سورہ آل عمران)
ولی وہ ہے جو حتی الامکان اللہ کی ذات و صفات کا عارف اور اُس کی اطاعت پر ہمیشہ کار بند رہے، گنا ہو ں سے پاک اور دنیاوی لذتوں سے دور رہے۔اللہ کا ہر 'ولی صوفی ہو تا ہے،ہر ولی سچا عاشق رسولؐ ہو تا ہے۔گیارویں صدی ھجری میں جن نفوس ِکامل نے اپنی با برکت وجود سے ایک جہاں کو فیضاب کیا ہے ،اُن میں ایک نام حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی ؒ کا بھی شامل ہے،جنہوں نے پوری زندگی خدمت خلق ، اللہ کی مخلوقات کو پہچا ننے اور عشق رسولؐ کی تعلیم وتبلیغ پر گزار ی۔
وادی کے ہرگوشے کو اُن انفاسِ کاملین کی قدم بوسی کی سعادت حاصل ہوئی، جہاں انہوں نے لوگوں کو نورِ اسلام سے مزین کیا۔ اس سے یہاں پر جگہ جگہ بزم ہائے صوفیاءمشایخ وعلماءجلوہ افروز ہوئے۔ ان میں بزم حقانی کا نام بھی احترام واکرام سے لیا جاتا ہے۔ بزم حقانی کا دَر کھولنے کی کوشش کریں تو یہاں اولالعزم صوفیاء،عالم وفاضل ،مبلغ وسا لک اور اد با بر اجمان نظر آتے ہیں۔ اس بزم کے سر خیل مبلغ ِدین میر شمس الدین شامیؒ ہیں۔جنہوں نے ریاست میں حضرت امیر کبیر میر سید علی ہمدانی ؒ کے قا فلۂ نور میں شمولیت کی سعادت حاصل کرکے ہمیں نور اسلام و ایمان سے سرفراز کیا۔ ہم یہاں حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی ؒ کا ذکر خیر کر تے ہیں۔ولی اللہ بننے کے لئے اللہ اور اس کے حبیب ؐ کی رضا حاصل کرنا پڑتی ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے خالصتاً اللہ تعالیٰ اور اسکے رسو لؐ کا ہی بننا پڑتا ہے۔
حضرت سید عبدالقادر جیلانی ؒ نے ’غنیتہ الطالبین طریق و الحق‘ میں فرماتے ہیںکہ کینہ ،نافرمانی اور تکبر کو دل سے نکال دے ۔ہر حال میںظاہر وباطن اور زبان یک طرفہ ہو ۔ظاہر وباطن میں قصد بھی ایک ہو۔اگر لوگوں میں سے کسی کو کسی کی بُرائی کرتا سُنے یا اس کے ساتھ خود بھی بُرائی کرنے میں شریک ہویا کسی کی بُرائی سن کراُس کا دل خوش ہو، تو یہ امر عابددں اور زاہددں کی سعادت کو ختم کردیتا ہے۔ جن لوگوں کو خدا نے تو فیق دی ہے وہ اپنی زبان کو نگاہ میں رکھتے ہیں اور ان باتوں سے بچتے ہیں۔
حضرت میر سید شاہ قاسم حقانی رحمتہ اللہ علیہ کے توصیف و تعریف میں حضرت مرزا اکمل الدین بیگ خان بدخشی ؒ نے اپنی شاہکار بحرا لعرفان میں ان کے مناقب میں کئے اور اق زرین حروف سے مزین کئے ہیں۔ انہوں نے اپنی شاہکار مثنوی’’بحرالعرفان‘‘ میں ان کے توصیف جس پیرائے میں بیان کیے ہیں ،شائد ہی کوئی اور پیش کر سکتا ہے۔ یہ اقتباس مع ترجمعہ پیش خدمت ہے۔
حضرت شاہِ حقانیؒ رہبر دین ہیں، جن کو آپ حضرت شاہِ قاسم حقانیؒ کے نام سے جانتے ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے شیخ الاسلام یعنی دین اسلام کے سب سے بڑےعالم تھے اور ان کے ہاں شہر کے لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ اُ ن کے زمانے میں کفر اوراندھیرا ختم ہوگیااور وہ رات دن انوار کی تجلی میں مست رہتے تھے ۔
حضرت شاہ قاسم حقانی ؒ کے وصال کے واقعات بھی ا ن کے مراتب کے غماز ہیں، اگر شب وصال اپنے خلفاءسے ا ن کے آخری خطاب (تفصیل کےلئے لطایف الحقانی یا بزم حقانی ) کو دیکھا جائے تو ایک طرف ان میں وصائح ونصائح ہیں تو دوسری جانب انوار و تجلیات کی باراں سے ایسا سماں بندھ گیا کہ حاضرین کے بقول’’حجاب غائب ہوگئے‘‘ بعد از وصال مرقد مبارک سے عین فرمود کے مطابق آیت (نشانی) کے طور پر نر سل ایسا اُگا کہ وہ مقام ہی حضرت شاہؒ کے ساتھ نسبت کے طورپر ’’نرپیر آستان‘‘ اور پھر ’’نرپرستان‘‘ کے نام سےمعروف و مشہور ہوگیا۔
اس طرح یہ آسمان تصوف کے درخشدہ آفتاب ،اسلام کے جان نثار مبلغ اور اعلیٰ رتبے کا رہنما29رجب 1033 ہجری میں ظاہری دنیا فانی کو لبیک کہہ گئے۔آپؒ کے جسدخاکی کوسری نگر کے فتح کدل علاقہ میں مدفن کیا گیا، جہاں اُن کے مرقد پر آستانہ عالیہ موجود ہے ۔جو آج تک اپنے زندہ جاوید کردار سے راہ حق کی سمت رہبری کرتا رہا اور آئند بھی کرتا رہے گا،ان شااللہ۔
یہاں پر حضرت شاہ قاسم حقانی ؒ کا یہ مختصر ذکرِ خیر حضرت علمدار کشمیر شیخ العالمؒ کے اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔جن کا ترجمہ یوں ہے: ’’نیک لوگوں کی صحبت اختیارکر لے ، اور اُن سے محبت رکھ لے۔یہ وہی لوگ ہیں جو ہر وقت قبلہ روہوتے ہیں ،یعنی ہرقدم خدائے کعبہ کے حکم کے تحت اُٹھاتے ہیں ۔ نیک لوگوں کی صحبت دِل کو نورانی اور بُروں کی صحبت دِل کو سیاہ بناتی ہے‘‘۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری وادی &گلشن کو ہر بلا سے نجات دے اورہماری سرزمین دنیا کے نقشے پر ایک پرامن قوموں میں شمار ہو، نیزخداوند کریم پوری کشمیری قوم کو توحید و سنت رسول رحمتﷺ کےساتھ ساتھ صالحین واولیاءکاملین کی اتباع کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
( اوم پورہ بڈگام 9419500008)