پیر اقبال رشید
میں اپنی بیگم کے ساتھ ممبئی کے عالی شان بنگلے کے سبزہ زار میں بیٹھا چائے کی چسکیاں لے رہا تھا اور اخبار کی سرخیاں پڑھ رہا تھا۔ میرا ایک ملازم روپیئوں سے بھرا سوٹ کیس لئے بینک روانہ ہو چکا تھا، جب کہ نوکر چاکر اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بجی، دوسری طرف میرا ایک دوست تھا جو اپنی سالگرہ کی پُرتعیش تقریب کی دعوت دے رہا تھا۔
ہم نے شاپنگ مال جانے کی تیاری کی۔ ڈرائیور نے گاڑی نکالی اور ہم روانہ ہو گئے۔ شاپنگ مال میں میری بیگم نے ایک قیمتی لباس خریدا اور میرے لئے ایک نفیس سوٹ۔ پھر جیولری شاپ سے ایک بیش قیمت ہار بھی پسند کیا گیا۔ شام ہوتے ہی ہم دوست کی پارٹی میں داخل ہوئے۔
پارٹی نہایت شاندار تھی۔ ہمیں ممبئی کے پولیس کمشنر سمیت کئی بااثر اور اہم شخصیات سے ملوایا گیا۔ موسیقی، قہقہے اور جگمگاتی روشنیوں کے درمیان وقت کا احساس ہی نہ رہا۔ رات گئے ہم گھر لوٹے۔
اگلے مرحلے میں میں اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینا چاہتا تھا۔ دبئی میں میری سیٹنگ ہو چکی تھی اور خود ممبئی جانا ضروری تھا۔ میری اور بیگم کی ٹکٹیں اگلے دن دوپہر 12:30 بجے کی بک تھیں۔ صبح ہم دونوں ایئرپورٹ پہنچے۔
جوں ہی جہاز میں سوار ہونے والے تھے، کسی نے پیچھے سے میرا گریبان پکڑ لیا اور کہا:
’’You are under arrest.‘‘
میں نے مڑ کر دیکھا تو ممبئی کے پولیس کمشنر کھڑے تھے—اور لمحوں میں مجھے منشیات سمیت گرفتار کر لیا گیا۔
اچانک کسی نے میرے کان میں کہا:
’’اٹھو بیٹا، کام پر نہیں جانا کیا؟ نو بجنے والے ہیں۔‘‘
میں پسینے میں شرابور، سانس پھولی ہوئی، آنکھیں کھولتا ہوں تو سامنے اپنی ماں کو کھڑا پایا، جو مجھے نیند سے جگانے آئی تھیں۔ میں ماں کے گلے لگ گیا اور خواب کا سارا ماجرا سنا دیا۔
ماں نے صرف ایک جملہ کہا، جو پوری زندگی کا نچوڑ تھا:
’’بیٹا، حرام میں آرام کہاں؟ محنت کی روٹی میں ہی مزا ہے، ورنہ جینا سزا ہے۔‘‘
میں نے فوراً ناشتہ کیا اور خوش دلی سے کام کے لئے گھر سے نکل پڑا۔
یوں محسوس ہوا جیسے میں واقعی کسی بڑی آفت سے بال بال بچ کر حقیقت کی دنیا میں لوٹ آیا ہوں۔
���
[email protected]