حراست میں لئے گئے تین افراد کا حملے سے کوئی تعلق نہیں:پولیس

ماسکو//نیوزی لینڈ کی پولیس نے کہا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں کی گئی فائرنگ کے معاملے میں حراست میں لئے گئے چار افراد میں سے تین کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔  نیوزی لینڈ پولیس کے کمشنرنے پولیس نے ایک مرد اور ایک خاتون کو حراست میں لیا تھا کیونکہ ان کی کار میں بندوق پائی گئی تھی۔ خاتون کو پہلے ہی رہا کر دیا گیا ہے جبکہ شخص پر بندوق سے منسلک غیر قانونی کام کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔ حراست میں لئے گئے تیسرے شخص پر نسلی امتیاز کے لئے اکسانے کا الزام ہے اور پیر کے روز اس معاملے کی سماعت ہوگی۔بش نے کہا‘‘ حال میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ یہ تینوں حملوں سے جوڑے تھے ’’ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر میں دو مساجد میں کی گئی فائرنگ میں 50 لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے ۔ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسڈا آرڈرن نے اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا اور حملے کے دن کو ملک کے لئے سب سے سیاہ دن بتایا تھا۔ حملوں کو انجام دینے والے 28 سالہ آسٹریلیائی شہری برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ سمیت معاملے میں چار افراد کو حراست میں لیا گیا تھا ۔  یو این آئی