جے کے سیمنٹس… خستہ حالی کیلئے ذمہ دار کون؟

 گزشتہ کچھ عرصہ سے مقامی اخبارات کے توسط سے یہ افسوسناک خبریں قارئین کرام کو پڑھنے کو مل رہی ہیںکہ محکمہ صنعت و حرفت سے منسلک جموںوکشمیر کا واحد منافع بخش نیم خود مختار صنعتی ادارہ ’’جموں وکشمیر سیمنٹس لمیٹیڈ ‘‘بھی خسارے میں چلایاگیا ہے ۔1971میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سید میر قاسم نے کھریو میں سیمنٹ پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھ کر جموں وکشمیر سیمنٹس لمیٹیڈ کا وجود عمل میںلایا تھا جس کے بعد شیخ محمد عبداللہ نے وزیرا علیٰ کی حیثیت سے اس پلانٹ کا افتتاح کیا اور پلانٹ لگاتار منافع میں چل رہاتھا ،یہاں تک کہ 1990کے مخدوش ایام میں جب وادی میں سرکار کے زیر نگراں بیشتر نیم خود مختار صنعتی ادارے بند ہوگئے ،یہ ادارہ نہ صرف چلتا رہا بلکہ اس کے منافع میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ،جس کے بعد وہاں جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایک اور پلانٹ قائم کیاگیا تاہم امیدوں کے برعکس آمدن میں اضافہ ہونے کی بجائے اس میں کمی واقع ہوئی اور یوں یہ وقاری ادارہ بھی دیگر نیم خود مختار اداروں کی طرح روبہ تنزل ہوا اور آج حالت یہ ہے کہ یا تو حکومت کو اس ادارے کو بند کرنا پڑے گا ،یا پھر اس کی نجکاری ناگزیر بن چکی ہے ۔
غور طلب ہے کہ اس مدت کے دوران جموںوکشمیر،خاص کر وادی ،میںکئی مقامی نجی سیمنٹ کارخانے لگائے گئے اور وہ دن دوگنی رات چوگنی ترقی کررہے ہیں کیونکہ تعمیرات وسیع پیمانے پر ہورہی ہیں اور لوگ املاک کی تعمیر میں سیمنٹ کے استعمال کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔تاہم اس کے باوجود جے کے سی ایل کیوں کر زوال پذیر ہوا ،یہ ایک ایسا سوال ہے جو ذی حس طبقہ کو یقینی طور پر مضطرب کردینے والا ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ادارے کے زوال کی وجہ رشوت ستانی اور غیر قانونی تعیناتیاں ہیں۔سیمنٹ پلانٹ کو چلانے کیلئے پیشہ ور تکنیکی عملہ درکار ہوتا ہے تاہم یہاں اس کے برعکس صرف منظور نظر افراد کو نوکریاں فراہم کرنے کی غرض سے غیر پیشہ ور افراد کو سیاسی اثر وروسو خ کی بنیاد پر تعینات کیاگیا  ۔اسی طرح اس تکنیکی ادارے کی سربراہی کسی میکا نیکل انجینئر کے ذمہ ہونی چاہئے تھی تاہم سیاسی مداخلت کی بناء پر اکثر ادارے میں غیر پیشہ ور منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کئے جاتے رہے ،جس کے نتیجہ میں مؤثر نگرانی کا نظام ہی ختم ہوگیا اور ادارہ تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا ۔
در حقیقت اس ادارے کو محض تکنیکی خطوط پر چلانے کی بجائے روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بنایا گیا اور ایک کے بعد ایک ناظم ادارہ سیاسی مداخلت اور اپنی پسند کے مطابق یہاں لوگوں کو کھپاتا گیا ،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تنخواہوں کا بل بڑھتا گیا اور دوسری جانب غیر پیشہ ور افراد کی تعیناتی کے نتیجہ میں سیمنٹ کی پیداوار کم ہوتی گئی اور کل تک منافع میں چلنے والا ادارہ یکایک خسارے میں چلاگیا۔2014میں محکمہ صنعت و حرفت کے ایک انکوائری رپورٹ میں جے کے سیمنٹس لمیٹیڈ میں100کروڑ روپے کا سکینڈل طشت از بام ہونے کے علاوہ یہ ناقابل تردید حقیقت بھی سامنے آئی کہ اس ادارے میں سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی تقرریاں عمل میں لائی گئی تھیںاور ان تقرریوں میں براہ راست منیجنگ ڈائریکٹر ذمہ دار ہوتے تھے جنہوں نے قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر محض سیاسی اثر ورسوخ کی بناء پر لوگوں کی اہلیت و صلاحیت کی جانچ پڑتال کے بغیر انہیں نوکری پر لگادیا۔
یہ ستم ظریفی کا عالم نہیں تو اور کیا ہے کہ جے کے سی ایل کے منیجنگ ڈائریکٹر کا دفتر سرینگر میں قائم ہے اور عملہ کی ایک بڑی تعداد بھی سرینگر میں تعینات ہے جبکہ یونٹ کھریو میں چل رہے ہیں حالانکہ منیجنگ ڈائریکٹر کا کام پلانٹ کے کام کاج کی نگرانی کرنا تھا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس وقاری ادارہ میں ورک کلچر کا کس قدر فقدان پایا جارہا تھا اور آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔اب جبکہ حکومت اس ادارے کی نجکاری کے بارے میں سوچ رہی ہے تو اگر چہ تکنیکی اعتبار سے یہ واحد علاج ہے تاہم اگر ذرا سی ہمت کا مظاہرہ کیاجائے تو اس ادارے کو نجی ہاتھوں میں دئے بغیر دوبارہ پٹری پر لایا جاسکتا ہے ۔اس ضمن میںجہاں کھریو میں قائم پرانے اور نئے سیمنٹ پلانٹ کو قابل کار بنانے کی ضرورت ہے وہیں سانبہ میں قائم کئے گئے نئے پلانٹ کو بھی فعال بناناناگزیر بن چکا ہے۔جہاں تک ورک کلچر کی بحالی کا تعلق ہے تو اگر متعلقہ حکام ذرا دلچسپی لیں تو صورتحال یکایک تبدیل ہوسکتی ہے۔ادارے سے جڑے ملازمین کے مسائل کو دیکھتے ہوئے حکومت کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پہلے سرکاری خزانہ سے مزید سرمایہ لگا کر اس ادارے کی شان رفتہ بحال کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اگر اس کے باوجود بھی بات نہیں بنتی ہے تو پھر حکومت اس کو نجی ہاتھوں میں دینے کیلئے آزاد ہے اور وہ اُس وقت کسی کو جواب دینے کی مکلف بھی نہیں ہوگی تاہم پہلے خود کوشش کی جائے کہ کل تک منافع میں چلنے والے اس ادارے کو دوبارہ منافع بخش بنایا جائے ۔