جے کے بینک کاہتک عزت مقدمہ

سرینگر// جموں و کشمیر بینک کے حق میں ایک عبوری آرڈر کو اجراء کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج سرینگر نے سجاد رسول نامی شہری کو پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا پر جے کے بینک کے خلاف بدنامی مہم چلانے پر روک لگا دی ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جے کے بینک نے مذکورہ شخص کے خلاف مبلغ ساٹھ کروڑ روپے کا ہتک عزت دعویٰ دائر کیا ہے تاکہ اسکو مستقل طور اس بات سے روکا جائے کہ وہ نہ ہی ا پنی طرف سے اور نہ اپنے کسی نمائندے کے ذریعے سے پرنٹ، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا پر بینک کو بدنام کرنے کی کوشش کرے ۔ جے کے بینک نے اپنے قانونی دعوے میں کہا ہے کہ سجاد رسول نے فیس بُک پیج پر اپنے ایک  پوسٹ کے ذریعے بینک کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی جس پر بینک نے اُ سے ایک نوٹس بھیجی جس میں اُسے اپنی رائے کو واپس لینے اور غیر مشروط معافی مانگنے کیلئے کہا گیا تھا۔ نوٹس کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اُس نے  بینک کے خلاف ہتک آمیز پوسٹ پر کسی معذرت کا اظہار نہیں کیا جس بناء پر بینک اُسکے خلاف قانونی کاروائی کرنے پر مجبور ہوا۔ عدالت نے مذکورہ شخص کے ہر اُس تحریری یا زبانی بیان بازی پر بھی روک لگادی ہے جس سے بینک یا اسکے کسی ملازم کی شبیہ متاثر ہو۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج صاحب کی طرف سے کورٹ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص خود یا اپنے کسی نمائندے کے ذریعے  بینک کے خلاف  نہ زبانی طور اور نہ پرنٹ میڈیا ، نہ الیکٹرانک یا سوشل میڈیا میں ایسا کوئی بیان نشر کریگا جس سے مذکورہ بینک یا بینک کے کسی ملازم کی بدنامی  ہو ۔