ڈوڈہ //ڈوڈہ سیول سوسائٹی نے گورنمنٹ میڈیکل کالج کو ناکارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ رشوت خوری کا اڈا بن گیا ہے اور ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں کے بجائے نجی کلینکوں پہ لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ترجمان سیول سوسائٹی ڈوڈہ اشتیاق احمد دیو نے ایک نجی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جی ایم سی ڈوڈہ خطہ چناب کی عوام کے لئے ایک امید ہے لیکن یہاں یہ مریضوں کو وہ سہولیات میسر نہیں ہوتی ہیں جس کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں مریض داخل ہوتے ہی ٹیسٹ کے نام پر ہراساں کیا جاتا ہے اور جب وہی مریض نجی کلینکوں پر جاتے ہیں تو وہاں ٹیسٹ تو دور ایس او پیز کا بھی خیال نہیں رہتا ہے۔دیو نے انتظامیہ کی جانب سے میونسپل حدود میں کریانہ دوکانیں کھولنے کے شیڈول پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عید قریب آرہی ہے اور بانہال سے لے کر بھلیسہ تک ہر بازار میں بھیڑ رہتی ہے اور کوؤڈ کے بحران کے چلتے ہفتہ میں دو دن مکمل دوکانیں بند رہنی ہے۔انہوں نے کہا باقی چار پانچ دنوں میں چوبیس گھنٹے کریانہ کی دوکانیں کھلی رہنی چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ شیڈول کے مطابق دوکانیں کھولنے سے بازاروں میں بھیڑ رہتی ہے۔ترجمان نے ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری،گندوہ ،عسر،بٹوت ،چندر کورٹ سے بانہال تک سڑکوں و قصبوں کے اطراف میں کھڑی گاڑیوں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران غلط پارکنگ کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا فائر بریگیڈ کی گاڑیوں و ایمبولینسوں کو ان شاہراہوں سے گذرتے وقت کافی دقتیں آتی ہیں۔ انہوں انتظامیہ سے اس معاملے پر ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔سیول سوسائٹی ترجمان نے عوام سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے و مذہبی مقامات پر بھیڑ کی شکل میں نہ جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے ہی اس مہلک وباء سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔