جی ایم سی سرینگر کی تازہ سروے

سرینگر //وادی کے 10اضلاع میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کی جانب سے کئے گئے تازہ سروے میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ 84.3فیصد لوگوں میں کورونا مخالف اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ کالج کے شعبہ کمیونٹی میڈسن نے سکمز صورہ وسکمز میڈیکل کالج بمنہ، جی ایم سی اننت ناگ، بارہمولہ ، ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر، نیشنل ہیلتھ مشن کے اشتراک سے 7سال سے زیادہ عمر کے لوگوں پر منعقد کئے گئے سروے میں وادی کے ہر ضلع میں 400نمونوں کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کئے ۔ مجموعی طور پر 3586افراد کے نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 3025نمونوں میںکورونا مخالف اینٹی باڈیز موجود پائے گئے۔ اس طرح  10اضلاع میں 84.36فیصد لوگوں میں کورونا مخالف اینٹی باڈیز موجود ہیں۔ ڈاکٹر سلیم خان کا کہنا ہے کہ سروے کے دوران ضلع سرینگر میں 89.77فیصد، اننت ناگ میں87.23فیصد، شوپیان میں  86.89 ،بارہمولہ میں 84.91فیصد ،بانڈی پورہ میں 84.42فیصد، بڈگام میں 83.68فیصد، کولگام میں 82.95فیصد،گاندربل میں 82.8فیصد،کپوارہ میں 81.05، پلوامہ میں 78.24فیصد لوگوں میں کورونا مخالف اینٹی باڈیز پائی گئیں ۔ ڈاکٹر سلیم نے بتایا کہ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ لوگ کورونا وائرس کی تیسری لہر سے متاثر نہیں ہونگے۔ ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ کورونا وائرس کی ممکنہ تیسری لہر کے دوران نئی ہیت کا کوئی ایسا بھی وائرس بھی لوگوں کو متاثر کرسکتا ہے جس پر کورونا وائرس کی اینٹی باڈیز روک نہیں سکتی اور جو تمام مدافعتی نظام کو چکمہ دیکر لوگوں کومتاثر کرسکتا ہے۔ ڈاکٹر سلیم نے کہا کہ اسلئے کورونا وائرس کی تیسری لہر سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ لوگ کورونا مخالف قوائد و ضوابط پر عملہ کرنے کے علاوہ ماسک پہنے اور سماجی دوری کا اہتمام کریں۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین اور بچوں میں سروے جاری ہے اور اُمید ہے کہ آئندہ دو دنوں میں نتائج سامنے آئیں گے۔