عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//گور نمنٹ میڈیکل کالج راجوری اور اس سے منسلک ہسپتال کے نان گزیٹڈ ملازمین کی جانب سے جاری پرامن احتجاج اور ہڑتال پیر کے روز مسلسل آٹھویں دن میں داخل ہوگئی۔ ملازمین 2019 سے زیر التوا ریکروٹمنٹ رولز کو حتمی شکل دینے کے مطالبے پر ڈٹے رہے اور اپنے حق میں آواز بلند کرتے رہے۔احتجاجی ملازمین کا کہنا ہے کہ ریکروٹمنٹ رولز کی عدم موجودگی کے باعث ملازمین کو مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جبکہ ادارے میں شفافیت، انصاف اور انتظامی استحکام بھی متاثر ہو رہا ہے۔
ان کا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد واضح اور مستقل بھرتی قواعد مرتب کیے جائیں تاکہ ملازمین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔جاری احتجاج کو جی ایم سی راجوری کے پرنسپل، میڈیکل فیکلٹی فورم، محکمہ صحت، این ایچ ایم اور آیوش شعبے کے افسران کی حمایت بھی حاصل رہی۔ ملازمین کے مطابق ان کے مطالبات کو متعلقہ حکام کے ساتھ سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے اور معاملے کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔احتجاجی ملازمین نے بتایا کہ ایم ایل اے راجوری افتخار احمد نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران انہیں یقین دلایا کہ پرنسپل جی ایم سی راجوری کے ساتھ مل کر آئندہ دس دنوں کے اندر اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ملازمین کو یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ اگر مقررہ مدت کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو وہ خود احتجاج میں شامل ہو کر ان کی حمایت کریں گے۔ملازمین نے کہا کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پرامن رہا اور اس کا مقصد ادارے کے اندر شفاف اور منصفانہ نظام کو یقینی بنانا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کسی قسم کی محاذ آرائی نہیں چاہتے بلکہ صرف اپنے جائز حقوق اور ملازمت کے تحفظ کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔دریں اثنا، متعلقہ حکام کی جانب سے مثبت یقین دہانیوں اور مذاکرات کے بعد ملازمین نے متفقہ طور پر فیصلہ لیا کہ فی الحال احتجاج اور ہڑتال کو عارضی طور پر معطل کیا جائے گا۔ ملازمین نے کہا کہ وہ محکمہ کی جانب سے مثبت پیش رفت کا انتظار کریں گے اور اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو آئندہ لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔احتجاج کی معطلی کے بعد اسپتال کے معمولات میں بہتری آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ ملازمین نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ محکمہ جلد ان کے مسائل کو حل کر کے مستقل بھرتی قواعد کو منظوری دے گا تاکہ ادارے میں انتظامی نظام مزید مستحکم ہو سکے۔