سہیل انجم
ہندوستان کو آزاد ہوئے 75سال ہو گئے ہیں، گوکہ یہ ملک اپنی پختہ عمر کو پہنچ گیا ہے لیکن ملکی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ملک کے اُن مجاہدین ، جنھوں نے ملک کی آزادی کے لیے بے شمار صعوبتیں برداشت کیں اور جانے کیسی کیسی قربانیاں دیں۔اُنہیں یا تو فراموش کر دیا گیا ہے یا پھر عمداً ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا آج ہم ایک ایسے شخص کو یاد کرنے کی کوشش کریں گے، جس نے سولہ سال کی عمر میں پہلی بار جیل کاٹی اور جس کی زندگی کی کم از کم ڈیڑھ دہائیاں سلاخوں کے پیچھے گزریں۔ اس شخص کا نام تھا آغا شورش کاشمیری۔ شورش کاشمیری کے والدین کشمیر سے ہجرت کرکے امرتسر چلے گئے تھے۔ تقسیم کے بعد شورش پاکستان چلے گئے۔ شورش نے ابھی میٹرک ہی پاس کیا تھا کہ جولائی 1935 میں لاہور کی مسجد شہید گنج کو جس پر ایک عرصے سے تنازع چلا آرہا تھا، سکھوں نے منہدم کر دیا تھا۔ اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں شورش بھی تھے اور اس احتجاج کی پاداش میں پہلی بار جیل گئے۔ اس کے بعد تو جو ان کی جیل یاترا شروع ہوئی تو وہ ملک کی آزادی تک جاری رہی۔ شورش ایک نڈر، بیباک، جری، ملت نواز اور خوددار مجاہد آزادی تو تھے ہی، ایک بیباک صحافی، کہنہ مشق شاعر، شعلہ بار خطیب اور صاحب اسلوب ادیب بھی تھے۔ اُن کے اخبار ’’چٹان‘ ‘نے اپنے زمانے میں خوب دھوم مچائی تھی۔ اخبار’’ زمیندار‘‘ کے ایڈیٹر اور احراری رہنما مولانا ظفر علی خاں نے اُن کا تخلص’ ’شورؔش‘‘ رکھا ،جو اُن کی ذات پر ایسا فٹ ہوا کہ تخلص اور شخصیت لازم و ملزوم ہو گئے۔ انھوں نے متعدد تصانیف چھوڑی ہیں، جن میں ان کی معرکۃ الآرا کتاب ’پسِ دیوارِ زنداں‘ بھی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی پہلی جیل یاترا سے لے کر آخری جیل یاترا تک کی روداد بڑی دلسوزی اور تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے۔ یہ کتاب جہاں مجاہدین آزادی کے جوش و ولولے کی جیتی جاگتی داستان ہے، وہیں یہ برطانوی حکومت اور ان کے ہندوستانی کارندوں کے خوں چکاں مظالم کی ایک لرزہ خیز دستاویز بھی ہے۔ شورشؔ پر جیل میں کیسی کیسی قیامتیں گزریں، اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعہ کا ذکر یہاں کیا جا رہا ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ جب صبح اچھی طرح روشن ہو گئی تو سفید سوٹ میں ایک کالا بھجنگ سکھ نمبرداروں کا لاؤ لشکر لیے آگیا۔ میں اپنی چھوٹی سی جگہ میں ٹہل رہا تھا۔ پہلے تو بے نیازی سے آگے نکل گیا، پھر پلٹا اور رُک کر پوچھا آپ کا نام؟ میرا نام آپ کو معلوم ہونا چاہیے۔ تاڑ گیا کہ آدمی ٹیڑھا ہے، فوراً بولا کہ شورش کاشمیری؟ جی ہاں اور آپ کا نام؟ میں یہاں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ہوں۔ جی میں نے آپ کا نام پوچھا ہے۔ جواب دیے بغیر چلا گیا لیکن وارڈروں کو اشارہ کر گیا کہ کھلا کیوں چھوڑا ہے، بند کر دو۔ بعد میں جمعدار نے بتایا کہ شیر سنگھ نام ہے۔ اس کا والد یہاں وارڈر تھا۔ مذہبی سکھ ہے، کسی ہندو یا سکھ پر اعتبار نہیں کرتا۔ پرلے درجے کا ظالم اور شقی ہے۔ چند صفحات کے بعد وہ اسی شیر سنگھ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس نے جب مصرعہ اٹھانا شروع کیا تو ہم بھی گرہ لگانے لگے۔ ایک دن شراب پی کر آنکلااور ایک بزرگ مولانا گلشیر کے ساتھ بدتمیزی کی۔ میں نے اعتراض کیا۔ پی کے آیا تھا حقارت سے مسکرایا، میں دُرشت ہو گیا۔ اس نے گالی بکی میں نے تھپڑ دے مارا، معاملہ بگڑ گیا۔ جمعداروں کا غول آپہنچا۔ نمبرداروں نے پرا باندھا، وارڈروں نے ڈنڈے اٹھا لیے، داروغہ آبراجا، سپرنٹنڈنٹ چلا آیا۔ لیکن یہ لوگ آئے اور چلے گئے۔ کوئی نو بجے شب ہمیں اپنی اپنی کوٹھری میں بند کر دیا گیا۔ صبح گنتی کے وقت ہماری چکیاں نہ کھلیں تو ماتھا ٹھنکا کہ افتاد آرہی ہے۔ تھوڑی دیر میں ہر ایک کو ہتھکڑی لگا کر الگ الگ نکالا اور مختلف جگہوں میں بانٹ دیا۔ مجھے پہلے نمبر کی چکی میں رکھا گیا جو درجہ اول کے بدمعاشوں کے لیے مخصوص تھی۔ اس اقدام کی نہ کوئی وجہ بیان کی گئی نہ یہ پتہ چلا کہ کون کہاں ہے؟ میں نے خود کو تنہا پاکر بھوک ہڑتال کی دھمکی دی۔ لیکن شیر سنگھ پر کیا اثر ہوتا۔ پھر کچھ سوچ کر میں نے ارادہ ملتوی کر دیا۔ اتنے میں نمبردار اٹھارہ سیر گندم کا بکس اٹھا لایا اور کہا پیسو۔ میں نے قہقہہ لگایا اور اپنی کھڈی پر لیٹ گیا۔ دن بھر اس اچانک افتاد پر سوچتا رہا۔ دن میں کئی دفعہ چکی پیسنے کو کہا گیا، میں نے جیسے سُنا ہی نہیں۔ شام کو شیر سنگھ غراتا ہوا آیا اور وہی سوال جواب۔ مہاراج چکی نہیں پیسی؟ آج تک نہیں پیسی یہ اخلاقی قیدیوں کا کام ہے۔ اچھا تو پھر پاجامے میں سے ناڑہ نکال لیجیے۔ یہ نہیں ہوگا، آپ خواہ مخواہ اُلجھ رہے ہیں۔ شیر سنگھ نے نمبردراوں کو حکم دیا کہ ناڑہ نکال لو۔ میں نے روکا خبردار آگے آنے کی ہمت نہ کرنا۔ شیر سنگھ نے دائیں رُخسار پر طمانچہ دے مارا۔ یہ حوصلہ اس نے پہلی دفعہ کیا تھا، حیران رہ گیا کہ معاملہ کیا ہے۔ میں نے بازو پکڑ کر دھکہ دیا۔ نمبرداروں نے فوراً نرغے میں لے کر مجھے الٹی ہتھکڑی پہنا دی۔ شیر سنگھ نے طمانچہ بازی کا شغل شروع کیا۔ میں اس کی اس جسارت پر انگارہ ہو گیا۔ اس کے بھیجے پر ٹکر مارنا چاہی لیکن وہ پھرتی سے دروازہ کے رُخ پر ہو گیا۔ نتیجتاً میرا سر آہنی سلاخوں سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ شیر سنگھ اور جمعدار غلام حسین شاہ دونوں باہر نکل گئے۔ نمبردار بھی ہوا ہو گئے۔ نہ کوئی ڈاکٹر آیا نہ کوئی کمپاؤنڈر۔ میں نے خود ہی گیلے پانی کی پٹی باندھی۔ اگلی صبح منہ اندھیرے نمبردراوں کی کھیپ نے مجھے وہاں سے نکالا اور چھ چکی کالے پانی میں لے گئے۔ شیر سنگھ بھی آگیا، جمعدار نے مجھے اُلٹی ہتھکڑی لگا دی۔ نمبرداروں نے کمبل ڈالا اور کچھ کہے سُنے بغیر ’گدر کٹ‘ شروع کر دی۔ گدر کٹ اس ظالم مار کو کہتے ہیں کہ دس بارہ نمبردار قیدی پر کمبل ڈال دیتے ہیں پھر اسے ڈنڈوں جوتوں ٹھڈوں اور مکوں سے پیٹتے ہیں۔ جب قیدی مار کھاتے کھاتے بیہوش ہو جاتا ہے تو اسے تنہائی میں پھینک کر چلے جاتے ہیں۔ مجھے کئی بار اس تجربے سے گزرنا پڑا۔ ایک بار جب مار کٹائی میں ،میں ہلکان ہو گیا تو ایک نے میرا منہ بند کیا، دو نے بازو پکڑ لیے۔ تیسرے نے پاؤں باندھے، باقی پیٹتے رہے۔ نکسیر نہ پھوٹتی تو شاید اور مارتے۔ لیکن ادھ موا چھوڑ کر چلے گئے۔ کوئی دس منٹ بعد ہوش آیا تو سب اسسٹنٹ سرجن موجود تھا۔ دیکھا داکھا اور چلا گیا۔ شیر سنگھ آیا، میں نے پانی کی جھجر اُٹھا کر سلاخی دروازے سے دے ماری۔ آج بھی یہی سب کچھ ہوا۔ تمام نمبردار پٹھان تھے، میں مار کھا کر ادھ موا ہو گیا۔ گیارہویں بارہویں دن جیل والوں نے اپنے فن کی انتہا کر دی۔ میرے دونوں ہاتھ باندھ کر مجھے جنگلے سے لٹکایا اور پاؤں تلے گڑ کا پانی ڈال کر کیڑے مکوڑے چھوڑ دیئے۔ مجھ سے کہا گیا کہ معافی مانگو اور گھر جاؤ۔ میں نے شیر سنگھ سے دو ٹوک کہا کہ شورش کی لاش یہاں سے نکلے گی، معافی نہیں مانگے گا۔ ٹکا سا جواب پاکر واپس ہو گیا۔ تشدد کا زور بندھا تو میں نے قرب و جوار کی اطلاع کے لئے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔ شیر سنگھ نے ایک اور ظلم کیا۔ ایک قیدی کو چھ چکی میں لا کر غلام حسین سے اتنا پٹوایا کہ دیواریں لرز گئیں۔ قیدی چلاتا رہا میں روزے سے ہوں کوئی خطا نہیں کی۔ شاہ جی نے شیر سنگھ کی خوشنودی میں اس کے منہ میں پیشاب کر دیا۔ اس نے خدا رسول کا واسطہ دیا۔ مگر اس وقت غلام حسین شیر سنگھ کی اولاد بنا ہوا تھا۔ میں نے احتجاج کیا تو شیر سنگھ نے کہا کہ ا س کے منہ پر توبڑا باندھ دو۔ غلام حسین کھدر کے ایک توبڑے میں گوبر اور براز لپیٹ کر میرے منہ پر بندھوا دیا۔ ہاتھوں میں ہتھکڑی، ٹخنوں سے گھٹنوں تک مکوڑے، منہ پر توبڑا، جی بھوک ہڑتال سے ہلکان۔ عجیب سماں تھا۔ والد سخت پریشان تھے۔ پہلے یرقان ہوا پھر آشوب چشم۔ میں نے ان کو اطلاع نہیں دی کہ پانچ سال ہیں گزر ہی جائیں گے۔ فرد کی زندگی ملک و قوم کی آزادی کے مقابلے میں کوئی وقعت نہیں رکھتی۔
[email protected]
جیل میں شورش کا شمیری پر کیا بیتی!