کام نامعلوم وجوہات کی بنا ءپر بند، لوگوں کو مشکلات درپیش
فیاض بخاری
بارہمولہ//دو دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود جیٹی خواجہ باغ بارہمولہ کا ایک پل تشنہ تکمیل ہے ۔جس کے نتیجے میں مقامی لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس پل کی تعمیری سے بارہمولہ قصبے میں ٹریفک کے دبا کو کم کرنے کے لیے ایک اہم رابطہ سمجھا جاتا تھاابھی تک نامکمل ہے۔ منصوبے کی جگہ پر صرف دو ادھورے ستون موجود ہیں، جو ایک طویل عرصے سے رکے ہوئے اور عملا منسوخ شدہ منصوبے کی نشانی ہیں۔یہ پل 2002 میں دو کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد رفیع آباد اور کپوارہ کی طرف جانے والی بھاری ٹریفک کو متبادل راستہ فراہم کرنا اور بارہمولہ قصبے کی گنجان سڑکوں پر دبا کم کرنا تھا۔ اسی سال تعمیر کا آغاز ہوا، مگر کام کی رفتار سست پڑتی گئی اور بالآخر ایک دہائی سے زائد عرصے سے مکمل طور پر بند ہے۔ذرائع کے مطابق تعمیرات عامہ محکمے نے لاگت میں غیر معمولی اضافے کے بعد اس منصوبے کو روک دیا۔ ابتدائی تخمینہ دو کروڑ روپے تھا جو بڑھ کر تقریبا پچاس کروڑ روپے تک جا پہنچا۔لاگت میں اس شدید اضافے کے باعث جموں و کشمیر پروجیکٹ کنسٹرکشن کارپوریشن (جے کے پی سی سی)، جو ابتدا میں اس منصوبے کی عملدرآمدی ایجنسی تھی نے کام معطل کر دیا۔ بعد ازاں یہ منصوبہ آر اینڈ بی محکمے کے حوالے کیا گیا، تاہم بار بار ٹینڈرز کے ناقص ردِعمل کے باعث اسے بحال نہ کیا جا سکا۔اس سے قبل آر اینڈ بی محکمے نے حکومت سے اضافی فنڈز طلب کیے تھے تاکہ نیا ٹینڈر جاری کیا جا سکے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ دلنہ بائی پاس کی تعمیر کے بعد یہ منصوبہ آہستہ آہستہ ترجیحات سے خارج ہو گیا، کیونکہ اب کپواڑہ جانے والی ٹریفک کے لیے متبادل راستہ دستیاب ہے۔ ادھر کابینہ وزیر جاوید احمد ڈار نے تصدیق کی کہ یہ منصوبہ انتظامی سطح پر منسوخ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ منصوبے میں لاگت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی، جس کے باعث کسی بھی تعمیراتی ایجنسی کی جانب سے کوئی ردِعمل نہیں آیا۔ کسی بھی فعال تعمیر اور انتظامی سطح پر نئی کوشش کے بغیر، جیٹی پل 23 سال بعد بھی تاخیر اور بدلتی ترجیحات کی ایک علامت بنا ہوا ہے۔