واشنگٹن//امریکہ نے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ناکافی کارروائی کے سلسلے میں پاکستان کی 255 ملین ڈالر کی فوجی امداد پر روک لگا دی ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ ان جنگجو تنظیموں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں ہونے سے علاقے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے ۔ امریکہ نے کہا ہے کہ جب تک ان جنگجو تنظیموں پر کارروائی نہیں ہوتی تب تک فوجی امداد ملتوی رہے گی۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدر نوارٹ نے حالانکہ یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان ان جنگجو تنظیموں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرتا ہے تو کچھ مدد جاری بھی رکھی جا سکتی ہے ۔ محترمہ نوارٹ نے اپنی معمول کی بریفنگ میں کہا کہ "آج ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کی دفاعی امداد کو ملتوی کیا جا رہا ہے ۔ جب تک پاکستان کی حکومت حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان جیسی جنگجو تنظیموں کے خلاف کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کرتی، تب تک یہ مدد ملتوی رہے گی۔ ہمارے خیال سے یہ تنظیمیں علاقے میں عدم استحکام پھیلا رہی ہیں اور امریکی جوانوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں ۔ محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان کی جانب سے دونوںجنگجو تنظیموں پر کوئی کارروائی نہ کرنے سے مایوس ہو کر ٹرمپ انتظامیہ کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔ ان تنظیموں نے کافی عرصے سے پاکستان میں پناہ لے رکھی ہیں اور ان کے حملوں میں افغانستان میں امریکی، افغانی اور دیگر ممالک کے کئی جوان مارے جا چکے ہیں۔محکمہ نے فی الحال کتنی امداد روکی جائے گی، یہ بتانے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ فی الحال اس کا حساب لگایا جارہا ہے۔