جنون حاوی ہو توزبانیں شعلے اُگلتی ہیں

جببچپن کی بے فکری سے جوانی کے گلستان کی طرف بڑھتا ہوا ایک وجود اسی کلو گرام بارودی مواد کے ساتھ سی آر پی ایف کانوائے سے ٹکرانے کا عزم لیکر نکلے گا اور لیتہ پورہ پلوامہ میں اپنے ساتھ چالیس انسانوں کے ٹکڑے آسمانوں میں بکھیر دے گا ۔اور جب اس کے خلاف جموںمیں بلوائیوں کے ہجوم آن کی آن میں درجنوں گاڑیوں کو شعلوں کی نذر کریں اور بستیوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کریں ۔ جب علم کے آستانوں سے طالب علموں کو نکال باہر کیا جائے ۔جب تین جنگجو فوج اور نیم فوجی دستوں کے افسروں سمیت پانچ لاشیں بچھادیں اور اپنی موت کے ساماں کریں ۔جب فوج کو آزادی کا پروانہ دینے کا اعلان ہو ۔ جب حکومت کے اعلیٰ ایوانوں سے چالیس کے بدلے چار سو لاشوںکی باتیں کی جارہی ہوں۔ جب چاروں طرف جنگ اور بدلے کا شور ہو ۔ تو کوئی کس بات پر تبصرہ کرے اور کس پہلو کا تجزیہ کرے۔انسانی تاریخ شاہدہے کہ کبھی کبھی قوموں پر ایسا جنون طاری ہوجاتا ہے کہ سوچنے اور سمجھنے کی ساری قوتیں اس کے نیچے دب جاتی ہیں ،پھر نتائج و عواقب کی کوئی پرواہ کئے بغیر ایسے فیصلے لئے جاتے ہیں جو عظیم انسانی المیوں کو جنم دیتے ہیں ۔پہلی جنگ عظیم بھی اسی دیوانگی کا نتیجہ تھی اور دوسری جنگ عظیم بھی ۔ اس سے پہلے جو خونریزیاں ہوئیں ،وہ بھی اسی جنون سے انسانی تاریخ کے سیاہ باب رقم کرنے کا باعث ہوئیں ۔ اب کی بار جنوبی ایشیاء کے انسانوں کی تقدیر دائو پر ہے اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تباہی اور بربادی کی حد کیا ہوگی ۔
لیتہ پورہ فدائی حملہ اُس وقت ہوا جب عسکریت پسندی ، علیحدگی پسندی یا آزادی پسندی کے خیمے آپریشن آل آئوٹ کی مسلسل کامیابیوں سے کافی دبائو اور مایوسی کے شکار تھے ۔اس حملے نے ان قوتوں میں ایک نئی روح پھونک دی ۔ سوشل میڈیا پر بے ساختہ خوشی کا اظہار کیا گیا ۔ اس بات کو قطعی نظر انداز کیا گیا کہ اس حملے نے تحریک مزاحمت، جس کے لئے لاکھوں انسانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ،کو کتنا بڑا نقصان پہنچایا ۔جو تحریک ایک قوم کے پیدائشی حقوق کی تحریک تھی، وہ دہشت گردی سے منسوب ہوگئی ۔دنیا کا کوئی ملک ، کوئی عالمی ادارہ اور کوئی فرد کسی بھی فدائی حملے کو دہشت گردی کے علاوہ کچھ اور تسلیم نہیں کرتا ۔ اقوام متحدہ ، امریکہ ، چین ، سعودی عرب سمیت دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے اس حملے کی مذمت کی اور جو لوگ اسے تحریک مزاحمت کے ساتھ منسوب کرتے ہیں تو کیا ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اس کی مذمت پھر تحریک مزاحمت کی ہی مذمت ہے ۔ اس حملے کے بعد فوج کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ جنگجوئوں اور ان کے حامیوں کیخلاف سخت سے سخت اقدامات کیلئے آزاد ہے  ۔ یہ اس لئے ہوا کہ اب انسانی حقوق سے متعلق عالمی دبائو کافی حد تک ہٹ چکا ہے اگر کوئی اعتراض ہوگا بھی تو اس کے خلاف ایک مضبوط دلیل اب موجودہے کہ جو بھی کاروائی ہورہی ہے دہشت گردی کیخلاف ہورہی ہے ۔آج جب جنگجوئوں کا خاتمہ کرنے کے اعلان ہورہے ہیں تو کہیں سے ایک بھی آواز نہیں اٹھ رہی ہے کہ سخت گیری اور جارحیت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے ۔اس حملے کے بعد ہندوستان کے ایک ارب تیس کروڑ لوگ فوج کی پشت پر کھڑے ہوگئے ہیں اور ایسی صورتحال کا نتیجہ کیا ہوسکتا ہے ،یہ سمجھ میں آسکتا ہے ۔
یہ معاملے کا ایک پہلو ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فوج نے سو گھنٹوں کے اندر اندر پلوامہ میں بقول فوج کے لیتہ پورہ کے ماسٹر ماینڈ کا خاتمہ کردیا ۔لیکن اس کی فوج کو کتنی بڑی قیمت چکانی پڑی اس پر کوئی بات نہیں کرتا ۔فوج کے اعلیٰ حکام کاروائی کی مکمل آزادی ملنے کے بعد دعوے کررہے ہیں کہ وہ جنگجوئوں کا مکمل خاتمہ کریں گے ۔ناین الیون کے بعد امریکہ نے بھی افغانستان میں طالبان کا مکمل خاتمہ کرنے کا اسی طرح کا اعلان کیا تھا اور وہ اپنے اتحادیوں کی فوج لیکر افغانستان پر حملہ آور ہوا تھا لیکن سترہ سال کی خونریزی کے بعد دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکہ اس حکومت کی قیمت پر، جو اس کی حمایت سے افغانستان میں قائم ہے ،طالبان کے ساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔وہ اسی پاکستان کی مدد سے طالبان سے بات کررہا ہے جسے وہ طالبان کا جنم داتا کہتا رہا ہے ۔امریکہ کھلے عام کہہ چکا ہے کہ افغان مسئلے کا حل فوجی ذریعے سے ممکن نہیں ۔کشمیر افغانستان نہیں لیکن جنگجوئوں کے مکمل خاتمے پر یہاں بھی کئی سوال اٹھ رہے ہیں اور اگر جنگجوئوں کا خاتمہ بھی کیا جائے، تب بھی اس علیحدگی کا کیا ہوگا جو نئی نسل میں گہرائی تک موجود ہے ۔یہ علیحدگی کون سا روپ اختیار کرے گی کوئی نہیں کہہ سکتا لیکن جب تک یہ علیحدگی یا ناراضگی یا نفرت موجود ہے ،اس کے اندر جنگجویت سے زیادہ خطرناک خطرے بھرے ہوئے ہیں ۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ ہندوستان کے وزیر اعظم پاکستان کیخلاف کاروائی کا کھلا اعلان کرچکے ہیں ۔ فوج کو کاروائی کا منصوبہ بنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کی جیت یقینی بنانے کی کوشش ہے یا نہیں، اس پر کوئی بحث نہیں ہورہی ہے ۔اپوزیشن بھی حکومت کے ساتھ کھڑی ہونے پر مجبور ہے ۔چنانچہ حکومت کیلئے اب اپنا ارادہ تبدیل کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ایسا نہ کرنے کا مطلب بی جے پی کا خاتمہ ہوگا ۔اس لئے پاکستان کے وزیر اعظم کی جانب سے دہشت گردی پر مذاکرات کی پیش کش بھی اب کوئی معجزہ نہیں کردکھائے گی ۔ہندوستان کچھ نہ کچھ ضرور کرے گا اور کچھ نہ کچھ کہاں تک جائے گا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ لیکن ہندوستان کے جو لیڈر اور سابق فوجی حکام اپنی زبان سے یہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو 47ء میں 65ء میں 71میں اورکرگل جنگ میں شکست دی گئی ،لیکن وہ تب بھی نہیںباز آیا، وہ کس طرح سے یہ یقین کربیٹھے ہیں کہ ایک اور جنگ میں بھی اگر اسے شکست دی گئی تو اس کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوگا جو پچھلے ستر سال سے ہوتا آیا ہے ۔
 بشکر یہ ہفت روزہ ’’نوائے جہلم‘‘ سری نگر