سرینگر //برف باری جہاں کشمیر وادی کے لوگوں کو درپیش مسائل میں اضافہ کا سبب بنتی ہے ،وہیں اسے زرعی شعبہ کیلئے انتہائی مفیدبھی قرار دیا جاتا ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم سرمامیں جتنی برف باری پہاڑوں پر گر ے گی اتنا ہی گلیشیروں پر اضافی برف کی موٹی تہہ جمے گی اور گرمیوں کے دنوں میں گلیشیر پگھلنے سے بچ جائیں گے۔کشمیر کے لوگوں کیلئے برف باری جہاں فطرت کا حسن بھی ہے، وہیں یہ یہاں کے لوگوں کا امتحان بھی لیتی ہے ، کئی علاقے اس وجہ سے منقطع ہوجاتے ہیں، سڑکوں پر جمع برف لوگوں کیلئے پریشان کا سبب بنتی ہے، میوہ باغات کو شدید نقصان ہوجاتا ہے، بجلے کے کھمبے اکھڑ جاتے ہین، بجلی کی تاریں زمین پر آجاتی ہیں ، رہائشی مکان دن جاتے ہیں، درخت گر جاتے ہیں اور مختلف حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوجاتی ہیں۔چلہ کلان میں برف پڑی تو مارچ تک نہیں پگھلتی۔ شدید سردی سے اہل وادی کا برا حال بنتا ہے، آبی ذخائر منجمند ہوجاتے ہیں، پانی کے نل جم جاتے ہیں اور پانی کی پائپیں پھٹ جاتی ہیں۔
تو گویا برفباری اہل وادی کے لئے مصیبت اور سیاحوں کیلئے لطف اندوزی کا سامان ہوتی ہے۔سردی کے موسم میں برفباری لوگوں کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہے۔موسم سرمامیں برفباری سے بچنے کیلئے گرم کپڑوں کی خریداری ، کوئلے اور کانگڑیوںکی خریداری ،جلانے کیلئے لکڑی کا استعمال ، اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ گرمی کے آلات خریدنے پر اچھی خاصی رقم خرچ ہوتی ہے۔نئی کمبلیں، گرم بستر، گرم پانی کا انتظام وغیرہ اس سے الگ ہے۔کاروباری سرگرمیوں میں کمی، تعلیمی اداروں کا مفلوج ہونا اور سرکاری دفاتر میں بہت کم کام ہونا بھی اس میں شامل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوری کے مہینے میں برف کا پہاڑوں پر ہونا انتہائی ضروری ہے، جس سے گرمی کے موسم میں زرعی شعبہ کو فائدہ پہنچتاہے ۔محکمہ زراعت کے اعدادوشمار کے مطابق اسوقت ایک لاکھ 40ہزار کنال اراضی پردھان جبکہ80ہزار کنال اراضی پر مکئی کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ کشمیرمیں ہارٹی کلچر کے تحت آنے والی کل اراضی 3.42لاکھ ہیکٹر ہے جس کیلئے برف باری کا ہونا انتہائی لازمی ہے ۔کشمیر وادی کے مختلف اضلاع میں محکمہ اریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول کے پاس 21کے قریب چھوٹی اریگیشن کنال ہیں جو برف نہ ہونے کی وجہ سے اکثر وبیشتر خشک رہتی ہیں جس کے نتیجے میں ان علاقوں میں دھان کی فصل خراب ہوجاتی ہے۔ گذشتہ سال بھی وادی کے اکثر علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں دھان کی فصل کو نقصان پہنچا۔
محکمہ موسمیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر مختار احمدنے کہا کہ اس سال جنوری میں کافی برف باری ہوئی ہے تاہم یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آج سے 30سال قبل اس سے بھی زیادہ برف باری ہوتی تھی ۔انہوں نے کہا کہ رواں سال جنوری کے مہینے میں سرینگر میں 124ملی میٹر بارش اور برف باری ہوئی ،قاضی گنڈ میں 184، پہلگام میں 140، کپوارہ میں 58کوکرناگ میں 145، سیاحتی مقام گلمرگ میں 115کونہ بل میں 58ملی میٹر بارش اور برف باری ریکارڈ کی گئی ہے ۔کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ارضیات کے سربراہ پروفیسر شکیل احمد رمشو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ چلہ کلان میں جو برف باری ہوتی ہے وہ زیادہ وقت تک پہاڑیوں پر جمع رہتی ہے اور اس کا فائدہ اگلے چار سے پانچ ماہ تک لوگوں کو ملتا ہے، اس سے ہمارے دھان کے کھیت سیراب ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کا سب سے بڑا سرمایہ گلیشیر کے پہاڑ ہیں جو نہ صرف ہماری زراعت کے شعبہ کیلئے فائدہ مند ہیں،بلکہ اس سے سال بھر پانی فراہم ہوتا ہے۔شکیل رمشو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ میدانی علاقوں میں اُگائی جانے والی سرسوں اور گیہوں کی فصل کو پانی جمع ہونے سے نقصان ہوتا ہے اور اس کی بناوٹ کافی متاثر ہوتی ہے کیونکہ یہ ایسی فصل ہے جس کو اریگیشن کی ضرورت نہیں ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ میدانی علاقوں کی نسبت بالائی علاقوں میں برفباری زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے ۔پہاڑوں پر ہونے والی برف سے زراعت اور باغبانی شعبہ کو فائدہ ملتا ہے ۔ زرعی یونیورسٹی کی ایک ماہر افلاق حمید نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جنوری کے مہینے میں برف باری کا ہونا نہ صرف باغبانی شعبہ کیلئے بلکہ زرعی شعبہ کیلئے بھی مفید ہے ۔انہوں نے کہا کہ وادی میں سیب کی سب سے زیادہ فصل اُگائی جاتی ہے اور پودوںکیلئے برف باری کا ہونا انتہائی لازمی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب، دہلی اور دیگر ریاستوں میں سیب کی بناوٹ اس لئے نہیں ہوتی ،کیونکہ وہاںبرف باری نہیں ہوتی اور یہاں برف باری سے اسکو فائدہ پہنچتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں کے زرعی شعبہ میں دھان کی فصل سب سے اہم ہے اور اس کا سارا دارو مدار پانی پر ہی منصر ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ہندوستان میں زراعت کی فصل کا دارومدار اریگیشن پر نہیں ہوتا بلکہ وہ لوگ مون سون کی بارشوں کا انتظار کرتے ہیں لیکن کشمیر ،جس کے ساتھ 80فیصد لوگ جڑے ہوئے ہیں کو اریگیشن کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کیلئے پانی کا ہونا انتہائی لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلہ کلان میں کشمیر میں ہونے والی برف باری کا فائدہ دسمبر اور مارچ میں ہونے والی برف سے کہیں زیادہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں کہ جنوری کے مہینے میں زیادہ سے زیادہ برف ہو ۔ڈاکٹر افلاق نے کہا کہ چلہ کلان میں درجہ حرات میں گراوٹ کے نتیجے میں گلیشیروںکی عمر بڑھ جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دریا ،ندی نالے اور چشمے یہ سب گلیشیروں پر ہی منصر ہیں اور جب وقت پر زیادہ برف ہو گی تو زمینیں سیراب ہوتی ہیں، قدرتی آبی ذخائر میں پانی جمع ہوجاتا ہے اور چشموں سے سال بھر پینے کیلئے پانی میسر رہتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ برفباری سے زعفران کی گٹھیوں(Blub) تک پانی چلا جاتا ہے جس سے ان میں کئی مہینے تک نمی رہتی ہے۔