سرینگر// نیشنل کانفرنس جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر نے صوبہ جموں اور کشمیر کیلئے 11لاکھ ممبر شپ (پرچیاں)برائے سال 2021جاری کیں۔ ساگر نے پہلی قسط میں صوبہ کشمیر کیلئے 7لاکھ جبکہ صوبہ جموں کیلئے 3لاکھ ممبرشپ اجراء کیں جبکہ پارٹی کی ریاستی خواتین ونگ کو بھی 1لاکھ ممبر شپ دی گئیں۔ انہوں نے صوبہ کشمیر کیلئے اجرا کی گئی ممبر شپ پارٹی کے صوبائی سکریٹری شوکت احمد میر کو سونپی ، جو صوبہ کے تمام ضلع صدور کے ذریعے ممبرشپ مہم چلائیں گے جبکہ صوبہ جموں کیلئے ممبر شپ کی پہلی فہرست صوبائی سکریٹری شیخ بشیر احمد کو سونپ دی گئی جو وہاں کے تمام ضلع صدور کیساتھ مل کر ممبر شپ مہم چلائیں گے۔ اسی طرح خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس وومینز ونگ کیلئے مخصوص 1 لاکھ ممبرشپ صوبائی صدور ستونت کور ڈوگرا اور صبیہ قادری اور ضلع صدور کیساتھ مل کر ممبر شپ مہم چلائیں گی۔ایک بیان کے مطابق ممبرشپ کی اجرائی کے موقعہ پر علی محمد ساگر نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور اس کی پُر خلوص قیادت کی مالی اور جانی قربانیوں کی بدولت ہی جموں وکشمیر کے لوگوں کو بنیادی جمہوری حقوق حاصل ہوئے اور عوامی راج کی حکومت وجود میں آئی اوریہاں جمہوری ادارے قائم ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ افسوس اس بات کاہے کہ نئی دلی میں براجمان حکمران اپنے غیر دانشمندانہ اور غیر سنجیدہ اقدامات سے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی جڑیں اُکھاڑنے کا کام کررہے ہیں ، جس جمہوریت کی آبیاری کیلئے یہاں کے عوام نے عظیم قربانیاں پیش کی ہیں۔ جنرل سکریٹری نے کہا کہ جموں و کشمیر کو جمہوری اور آئینی حقوق اور خصوصی پوزیشن ملی تھی وہ نیشنل کانفرنس کی کوششوں کی بدولت ہی ممکن ہوپائی لیکن وقت کے ضمیر فروشوں ،وطن فروشوں اور ابن الوقت عناصر نے اس خصوصی پوزیشن کا قتل کروایا۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی سے لیکر سرینگر تک موقع پرست اور خودساختہ لیڈران نیشنل کانفرنس کیخلاف زہرافشائی کررہے ہیں اور نیشنل کانفرنس کے تاریخی رول کوجھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں۔