بٹوت//تین سو کلو میٹر لمبی جموں ۔سرینگر قومی شاہراہ کوچار گلیاروں والی ایکسپرس ہائی وے بنانے کی خاطر اُدھمپور سے چننی اور ناشری سے رام بن اور رام بن سے بانہال تک کے حصے پرسابقہ دوسال سے بھی زیادہ عرصہ سے جاری تعمیری کام سست روی کا شکار بن گئی ہے ۔وہاںکام کر رہی تعمیراتی کمپنیاں گیمن انڈیا اورہندوستان کنسٹریکشن کمپنی کی جانب سے ورک ایگریمنٹ میں درج گائیڈ لائین جن کے مطابق شاہرہ کو کشادگی دیتے وقت تعمیراتی کمپنیو ں پر یہ ذمے داری عائید ہوگی کہ وہ پرانے ٹریک کوٹریفک کی آمدورفت کے قابل بناے رکھیں گے اور اُس میں پیداہونے والی خرابی کے بعد ریپرورک کو کروانے کی پابند ہو ں گی۔ یہر روز سفر کرنے والے مسافروں کا کہنا ہے کہ اُن کے تعمیراتی کمپنیاں اپنے اوپرعائید ذمے داری کویکسر نظر انداز کر بیٹھی ہیں جس کی وجہ سے شاہراہ کے اس حصے کی حالت خستہ سے خستہ تر اور اس پر سفر کرناجان جوکھم میں ڈالنے سے کم نہیں ۔لوگو ں کے مطابق زیر تعمیر شاہراہ کے اس حصے پرپڑ چکے بڑے بڑے کھڈ ے اورگرد وغبارٹریفک حادثات کے ساتھ ساتھ انسانی صحت اورزندگیوں کے ضائع کی وجہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے شاہراہ کی خستہ حالت کی وجہ سے پیدا شدہ عوامی مشکلات و مسائل کی جانب باربار ضلع انتظامیہ رام بن اور اُدھمپور کی توجہ مبزول کرانے کی کوششیںکی مگرانتظامیہ کی جانب سے خستہ حالت شاہراہ کی وجہ سے پیدا شدہ عوامی مشکلات ومسائل کے ازالے کی جانب توجہ نہیں دی۔لوگوں نے موجودہ ریاستی حکومت سے اس جانب توجہ دینے کی اپیل کی ہے ۔