جموں // ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے رن وے پر ترقیاتی کاموں کے پیش نظر مارچ کے مہینے میں جموں ایئر پورٹ کو 15 دن کیلئے مکمل طور پر بند کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔تاہم ، ایک اعلی عہدے دار کے مطابق ان کے اس فیصلے کی ائرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (IAA) اور ایئر لائنز کی طرف سے مخالفت کی جارہی ہے۔معلوم رہے کہ جموں خطہ میں ستواری علاقے میں صرف ایک ہی ہوائی اڈہ ہے ۔سکریٹری برائے وزارت داخلہ کی ایک گفتگو کے مطابق ’’ (آئی اے ایف) نے رن وے کی سطح پر ڈی اے سی کی تہہ بچھانے کیلئے جموں ائیرپورٹ پر رن وے کو 5 مارچ سے 20 مارچ 2021 تک مکمل طور پر بند رکھنے کی تجویز پیش کی ہے ۔ مرکزی سرکار میں سیکریٹری سیول ایکویشن پردیپ سنگھ کھڑولہ نے وزارت دفاع سے مداخلت کی درخواست کی ہے کہ وہ رات کے اوقات میںرن وے پر کام انجام دیں تاکہ اس سے دن کے دوران پروازیں متاثر نہ ہوں ۔ ائیرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی) نے پہلے ہی آئی اے ایف ہیڈ کوارٹر سے درخواست کی ہے کہ وہ رات کے وقت رن وے پر چلنے والے مجوزہ کام کی منصوبہ بندی کرے اور اس پر عمل کرے، تاکہ طیاروں کی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ آئے۔اس دوران ، ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور چیف سیکریٹری ، جموں و کشمیر ، بی وی آر سبرامنیم کے ساتھ بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے تاکہ رن وے مکمل طور پر بند نہ ہو اور دن کے وقت میں فلائٹ آپریشن جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ معاملہ سیکریٹری دفاع ، حکومت ہند کے ساتھ اٹھایا گیا تو یہ تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں۔عہدیدار نے بتایا ’’رن وے پر کام گذشتہ 8 ماہ سے جاری ہے اور آخری کام کیلئے ’اے ایف اے‘ نے ہم پر زور دیا ہے کہ ہم15 دن تک تجارتی فلائٹ آپریشن کو مکمل طور پر بند کردیں جو ممکن نہیں ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ایف نے تمام ایئر لائنز کو نوٹس دیئے ہیں کہ 5 مارچ سے 20 مارچ 2021 تک کوئی پرواز نہیں چلائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے کے مکمل بند ہونے سے معیشت اور سیاحت پر بری طرح اثر پڑے گا۔عہدیدار نے بتایا ’’جموں ایئر پورٹ کو 15 دن کیلئے بند رکھنے کی صورت میں ہوائی ٹریفک کو پنجاب کے قریب ترین سول ہوائی اڈے کی طرف موڑنا ہوگا، جس کے نتیجے میں مختلف قسم کے مسائل پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ کم از کم 17 شہری پروازیں شیڈول کے مطابق جموں ایئر پورٹ سے احمد آباد ، دہلی ، لیہہ ، ممبئی اور سرینگر کے درمیان چلتی ہیں۔