سرینگر//جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے کہا کہ جموں کشمیر جیسی انتہائی سنجیدہ سرحدی ریاست میں مقامی نمائندوں کے بجائے افسران کو لا محدوداختیارات دینا نہ صرف جمہوری نظام کے لئے نقصان دہ ہے بلکہ اس طرح کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے۔کے این ایس کے مطابق سابق مرکزی وزیر اور کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ جموں کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے بل کو ملک کے پارلیمنٹ میں پیش کرے اور وزیراعظم اور وزیر داخلہ اپنا وعدہ پورا کریں۔انہوں نے کہا کہ جس وقت دفعہ 370 کو ختم کیا گیا ،ریاست کا درجہ کم کرنے کے ساتھ ہی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے مرکزی زیرانتظام علاقہ بنایا گیا وہ نہ صرف یکطرفہ فیصلہ تھا بلکہ ملک کی تاریخ کا انتہائی افسوسناک واقع تھا، تاہم انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے پارلیمنٹ میں یہ بات کہی تھی کہ جموں کشمیر میں جب حا لات میں بہتری آئی گی تو جموں کشمیر کا ریاست کا درجہ بحال کیا جائیگا اور اب میرا مرکزی سرکار سے مطالبہ ہے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کریں۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کی بحالی سے متعلق بل پارلیمنٹ میں لایا جائے۔سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے حزب اختلاف کی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ اب جموں کشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسل اور پنچایتی انتخابات اختتام پزیر ہوئے اور عوامی نمائندے منتخب ہوئے ہیں اور سرکار کے مطابق جموں کشمیر میں حالات بھی بہتر ہونے لگے ہیں تو اب ان کے پاس جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ نہ دینے کا کوئی بہانہ نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے حکومت ہند سے منتخب نمائندوں کو اختیارات دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ اچھی بات نہیں ہے کہ چین اور پاکستان کے سرحد پر انتہائی سنجیدہ اور حساس جموں کشمیر جیسے علاقے میں عوامی نمائندوں کے بجائے افسران کو لامحدود اختیارات تفویض کئے جائیں جہاں کی صورتحال پہلے ہی انتہائی خراب ہو۔