جموں کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال پر وزارت داخلہ میں اہم بیٹھک

نئی دہلی //مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعرات کو جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال اورزیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا۔مرکزی حکومت اور مرکزی حکومت کے اعلی عہدیداروں کے ساتھ ان کی ملاقات طالبان کے افغانستان میں عبوری حکومت کے اعلان کے دو دن بعد ہوئی۔ وزارت داخلہ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر میں سیکورٹی کی صورتحال اور سرحد پار سے دراندازی کو روکنے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں امن برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اجلاس میں وادی کشمیر میں سیاسی اور سیکورٹی مضمرات کے بارے میں سخت گیر حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کی ہلاکت کے بعد تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گروپ نے پہلے ہی مسرت عالم بھٹ کو منتخب کیا ہے جو اس وقت جیل میں ہے۔شاہ نے جموں و کشمیر میں لاگو کئے جانے والے مختلف ترقیاتی اقدامات کا بھی جائزہ لیا ، بشمول 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کردہ 80 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا۔شاہ نے ماضی میں کہا تھا کہ مودی حکومت کی اولین ترجیحی فہرست میں یونین ٹریٹری کے لوگوں کی ہمہ جہت ترقی اور فلاح و بہبود ہے۔میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وزیر داخلہ کو جموں کشمیر کی موجودہ سیکورٹی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا ۔ منوج سنہا نے بتایا کہ سیکورٹی کی صورتحال پر مسلسل نظر ہے، ساتھ ہی کشمیر میںبڑھتی بنیاد پرستی پر بھی بات ہوئی جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ میٹنگ میںجموںکشمیر کی مجموعی صورتحال ، تعمیر و ترقی اور درندازی کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندی پر بات ہوئی اور اس بات پر زو ر دیا گیا کہ جموں کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائیںجائیں۔ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، قومی سلامتی مشیر اجیت دوول ،فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نروانے ، مرکزی داخلہ سکریٹری اجے بھلہ ، انٹیلی جنس بیورو ڈائریکٹر اروند کمار ، آر اینڈ اے ڈبلیو کے سربراہ سمنت گوئل ، بی ایس ایف کے ڈی جی پنکج سنگھ اور سی آر پی ایف کے سربراہ کلدیپ سنگھ نے اجلاس میں شرکت کی۔