موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے تینوں خطوں کا متحد ہونا لازمی :ڈاکٹر فاروق
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگ اس وقت ایک نہایت مشکل دور سے گزررہے ہیں۔ انہیں سخت آزمائشوں اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان حالات کا مقابلہ صرف اتحاد، اتفاق، صبر اور برداشت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ موصوف پارٹی ہیڈکواٹر پر ایک تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔پارٹی کا اہتمام سینئر پارٹی لیڈر و راجیہ سبھا رکن ایڈوکیٹ چودھری محمد رمضان کے پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کے سلسلے میں کیا گیا تھا۔
اس موقع پر پارٹی کی جانب سے انہیں پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور عزت افزائی کی گئی۔تقریب میں پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، دیگر سینئر رہنمااور ضلع صدور بھی شریک تھے۔ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ این سی کو کمزور کرنے کی کوششیں ابتدا سے جاری ہیں لیکن عوام کی حمایت اور قربانیوں نے اسے ہمیشہ مضبوط رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور یونین ٹیریٹری میں تبدیلی کے بعد سیاسی منظرنامہ تبدیل ہوا ہے اور حدبندی کے عمل کے ذریعے سیاسی توازن کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد مخصوص سیاسی جماعتوں کو فائدہ پہنچانا تھا اور 5 اگست 2019 کے فیصلوں کو تقویت دینا تھالیکن الیکشن میں لوگوں نے اپنی ہردلعزیز اور آبائی جماعت نیشنل کانفرنس شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا اور آج ہماری عوامی حکومت گذشتہ10سال کے غلط، غیر سنجیدہ اور عوام کُش فیصلوں کی اصلاح کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ آنے والے پارلیمانی اجلاس کے حوالے سے انہوں نے خواتین کے لئے مجوزہ ریزرویشن بل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو ابھی سے تیاری کرنی چاہیے اور تعلیم یافتہ و باصلاحیت خواتین کو آگے لانا چاہئے۔ انہوں نے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے بھی بھرپور تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔اس موقع پر چودھری محمد رمضان نے پارٹی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ پوری لگن کے ساتھ پارٹی کی مضبوطی کے لئے کام کریں گے اور کارکنان کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں گے۔ جبکہ ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے بھی اپنے خطاب میں ان کا خیرمقدم کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا اور تقریب کے اغراض و مقاصد بھی بیان کئے۔