جموں و کشمیر کا بجٹ محض آمدن و اخراجات کا حساب کتاب نہیں ہوتا بلکہ یہ خطے کے عوام کی اجتماعی امنگوں، دیرینہ محرومیوں اور مستقبل کی سمت کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ ایک ایسے خطے میں جہاں سیاست، سلامتی، معیشت اور شناخت ایک دوسرے سے گتھی ہوئی ہوں، وہاں بجٹ ایک معمول کی دستاویز نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی کسوٹی بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بجٹ سے پہلے عوام میں امیدیں بھی جنم لیتی ہیں اور خدشات بھی۔گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر ایک غیر معمولی سیاسی اور انتظامی دور سے گزرا ہے۔ ریاستی حیثیت کے خاتمے، مرکز کے براہ راست انتظام، نئی حد بندیاں اور مسلسل سیکورٹی چیلنجز نے عوامی زندگی کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ ایسے پس منظر میں پیش کیا جانے والا بجٹ محض ترقیاتی وعدوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ عوام کو یہ یقین دلائے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔
جموں و کشمیر کی معیشت طویل عرصے سے عدم استحکام کا شکار رہی ہے۔ سیاحت، باغبانی، دستکاری اور چھوٹی صنعتیں یہاں کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، مگر بار بار کی بندشوں، سیکورٹی خدشات اور غیر یقینی حالات نے ان شعبوں کو کمزور کر دیا ہے۔ عوام کی سب سے بڑی توقع یہی ہے کہ بجٹ میں معاشی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے۔سیاحت کے شعبے میں اگرچہ حالیہ برسوں میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے، لیکن یہ بہتری زیادہ تر مخصوص علاقوں اور مخصوص موسموں تک محدود ہے۔ بجٹ سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ سیاحت کو چار موسموں پر محیط، روزگار پر مبنی اور مقامی آبادی کے لیے فائدہ مند بنایا جائے گا، نہ کہ صرف ہوٹل انڈسٹری تک محدود رکھا جائے۔
جموں و کشمیر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوان یہاں کا سب سے بڑا سماجی چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ سرکاری نوکریوں کی محدود تعداد اور نجی شعبے کی کمزوری نے مایوسی کو جنم دیا ہے۔ بجٹ سے سب سے بڑی توقع یہی ہے کہ روزگار کے ٹھوس اور پائیدار مواقع پیدا کیے جائیں۔صرف روزگارسکیموں کے اعلانات کافی نہیں، بلکہ اس بات کی ضرورت ہے کہ سکل ڈیولپمنٹ، سٹارٹ اپس، مقامی صنعتوں اور زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ نوجوان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بجٹ ان کے مستقبل کے بارے میں محض وعدہ ہے یا واقعی کوئی واضح منصوبہ۔
کشمیر کی معیشت میں زراعت اور باغبانی کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ سیب، اخروٹ، زعفران اور دیگر باغبانی مصنوعات نہ صرف روزگار فراہم کرتی ہیں بلکہ برآمدات کا بھی اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے باوجود کسان آج بھی مارکیٹ تک رسائی، مناسب قیمت، سٹوریج سہولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نبرد آزما ہیں۔کسانوں کی توقع ہے کہ بجٹ میں صرف سبسڈی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، کولڈ اسٹوریج، فصل بیمہ اور براہ راست مارکیٹنگ کے عملی اقدامات شامل ہوں گے۔ اگر کسان مضبوط ہوگا تو دیہی معیشت خود بخود مستحکم ہو گی۔
تعلیم اور صحت وہ شعبے ہیں جن پر کسی بھی ترقی کا دارومدار ہوتا ہے۔ جموں و کشمیر میں تعلیمی ادارے بارہا تعطل کا شکار رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر طلبہ کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر پڑا ہے۔ بجٹ سے توقع ہے کہ تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل سہولیات، اساتذہ کی تربیت اور تحقیقی ماحول کو فروغ دیا جائے گا۔اسی طرح صحت کا شعبہ بھی خاص توجہ کا متقاضی ہے۔ دیہی علاقوں میں اسپتالوں کی کمی، ماہر ڈاکٹروں کا فقدان اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی ایک تلخ حقیقت ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ بجٹ میں بڑے شہروں کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کی صحت کو بھی ترجیح دی جائے۔
سڑکیں، پل، بجلی، پانی اور انٹرنیٹ—یہ سب ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ جموں و کشمیر کے کئی علاقے آج بھی بنیادی رابطہ سہولیات سے محروم ہیں۔ بجٹ سے امید ہے کہ انفراسٹرکچر کو محض اعداد و شمار تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ منصوبوں کی بروقت تکمیل اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔خاص طور پر بجلی کے شعبے میں خود کفالت، پن بجلی کے بہتر استعمال اور عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ایک دیرینہ مطالبہ ہے۔
آخر میں سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ بجٹ میں کتنے ارب مختص کئے جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ بجٹ عوام کا اعتماد بحال کر پائے گا؟ جموں و کشمیر کے عوام صرف ترقی نہیں، وقار، شمولیت اور سنے جانے کا احساس بھی چاہتے ہیں۔بجٹ اگر زمینی حقائق، مقامی ضروریات اور عوامی شمولیت کے بغیر تیار کیا گیا تو وہ محض ایک سرکاری دستاویز بن کر رہ جائے گا۔ لیکن اگر یہ بجٹ عوام کی آواز کا ترجمان بن سکا تو یہی دستاویز جموں و کشمیر کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔