۔137کلومیٹر قومی ہائی اسپیڈ کوریڈور زیر تعمیر
یو این ایس
سرینگر//مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا کو بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت قومی شاہراہوںکے 38منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے 25 منصوبے اپنی اصل تکمیلی مدت سے تجاوز کر چکے ہیں۔ حکومت کے مطابق ملک بھر میں قومی شاہراہوں کے 1,191منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن میں 629 منصوبے مختلف وجوہات کی بنا پر مقررہ وقت میں مکمل نہیں ہو سکے۔یو این ایس کے مطابق راجیہ سبھا میں رکن پارلیمان مہیندر بھٹ کے غیر ستارہ سوال کے جواب میں مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن جے رام گڈکری نے بتایا کہ یہ اعداد و شمار ان قومی شاہراہ منصوبوں سے متعلق ہیں جو اس وقت زیر تعمیر ہیں، جبکہ وہ منصوبے جو منسوخی یا قبل از وقت اختتام کیلئے زیر غور ہیں، انہیں اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔وزیر نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں جاری 38 قومی شاہراہ منصوبوں میں سے 25 منصوبے اپنی طے شدہ تکمیل کی مدت سے آگے نکل چکے ہیں، جبکہ مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ میں سات قومی شاہراہ منصوبوں پر کام جاری ہے، جن میں سے پانچ منصوبوں میں بھی تاخیر ریکارڈ کی گئی ہے۔
نتن گڈکری نے کہا کہ ملک بھر میں قومی شاہراہوں کی تعمیر، توسیع اور اپ گریڈیشن کے منصوبوں پر مسلسل کام جاری ہے، تاہم زمین کے حصول، ماحولیاتی منظوری، موسمی حالات، ٹھیکیداری مسائل اور دیگر انتظامی وجوہات کے باعث متعدد منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر ہوئی ہے۔مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں انڈمان و نکوبار جزائر میں قومی شاہراہوں کے تینوں جاری منصوبے اپنی مقررہ مدت سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو میں جاری دونوں منصوبے مقررہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور وہاں کسی تاخیر کی اطلاع نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت قومی شاہراہ منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کیلئے مسلسل نگرانی کر رہی ہے تاکہ سڑک رابطوں کو بہتر بنایا جا سکے اور اقتصادی سرگرمیوں کو مزید فروغ مل سکے۔یو این ایس کے مطابق مرکزی حکومت نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت 137 کلومیٹر طویل قومی ہائی اسپیڈ کوریڈور منصوبے زیر تعمیر ہیں، تاہم اب تک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اس پروگرام کے تحت ایک بھی ہائی اسپیڈ کوریڈور مکمل نہیں ہو سکا ہے۔وزیر نے بتایا اس کے برعکس جموں و کشمیر میں تمام 137 کلومیٹر منصوبے ابھی تک زیر تعمیر ہیں اور کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا۔مرکزی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ حکومت تمام جاری قومی شاہراہی منصوبوں، بشمول ہائی اسپیڈ کوریڈورز اور گرین فیلڈ ایکسپریس ویز، کی پیش رفت کا باقاعدگی سے جائزہ لیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے منصوبہ جاتی، ریاستی اور مرکزی سطح پر مسلسل نگرانی کی جاتی ہے، جس میں ریاستی حکومتوں اور دیگر متعلقہ اداروں کی شرکت بھی شامل ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کے لیے حکومت نے متعدد اصلاحاتی اقدامات کیے ہیں، جن میں بھومی راشی پورٹل اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے ذریعے زمین کے حصول کے عمل کو تیز کرنا، پریویش پورٹل کے ذریعے ماحولیاتی اور جنگلاتی منظوریوں کو آسان بنانا، ریلوے کے ساتھ روڈ اوور برج اور روڈ انڈر برج کے جنرل ارینجمنٹ ڈرائنگز کی آن لائن منظوری اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ بہتر تال میل شامل ہیں۔گڈکری نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ ملک بھر میں مجموعی طور پر 1,022 کلومیٹر قومی ہائی اسپیڈ کوریڈور اور ایکسپریس وے منصوبوں کو منظوری تو دی جا چکی ہے، تاہم ان کی الاٹمنٹ ابھی باقی ہے۔ البتہ پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق جموں و کشمیر میں اس زمرے کا کوئی زیر التوا منصوبہ شامل نہیں ہے۔