پرویز احمد
سرینگر //بھارت میں مجموعی طور پر 39فیصد اورجموں و کشمیر میں سبزی خورافراد کی شرح31.45فیصد ہے ۔ سبزیوں میں انسانی جسم کی نشو ونما کیلئے درکار تمام وٹامن اور کیمیات موجود ہوتے ہیں اور یہ کولسٹرال، موٹاپا، دل کے امراض، شوگر ، ہائی بلڈ پریشر ، پتا کی پتھری، تیزآبیت سمیت مختلف اقسام کی بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سبزی خور وں میںہونے والی بیماریاں کی شرح ، گوشت کھانے والوں کی نسبت بہت کم ہوتی ہے اور یہ عالمی ہیلتھ آرگنائزیشن کی طرف سے تصدیق شدہ ہے۔
اعدادوشمار
اگرچہ سبزی خوروں کی آبادی کے درست اعداد و شمار مختلف ہوتے ہیں لیکن نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (2023-2024) کے حالیہ اعداد و شمارسے پتہ چلتا ہے کہ جموں اور کشمیر میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت(تقریباً 88%)کبھی کبھار یا زیادہ کثرت سے گوشت، مچھلی، یا مرغی کا استعمال کرتے ہیں، یہ ایک بنیادی طور پر کم خوراکی والے خطوں کے مقابلے میں کم ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی گھر میں سبزیوں پر مبنی کھانوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔رپورٹس بتاتے ہیں کہ آبادی کا 80% فیصدسے زیادہ کم از کم کبھی کبھار سبزی خور بن جاتے ہیں۔لیکن بہت سے گھرانوں میں اب بھی سبزیوں پر مبنی کھانا روزانہ ہوتا ہے اور گوشت کا استعمال اکثر روزانہ کی بجائے ہفتہ وار ہوتا ہے۔جموں خطہ، اپنی نمایاں ہندو آبادی کے ساتھ، روایتی طور پر وادی کشمیر کے مقابلے میں ایک بڑا سبزی خور طبقہ ہے۔روایتی غذا جیسے ثقافتی طریقے وازوان کی دعوت، جموں و کشمیر کو گوشت سے بھرے خطہ کے طور پر سمجھنے میں معاون ہے، جس میں مٹن اور پولٹری کی زیادہ مانگ ہے۔جموں و کشمیر میں خاص طور پر وادی کشمیر میں، سبزی خوروں کی خاصی آبادی ہے، سبزی خور موجود ہے، خاص طور پر جموں میں، جہاں گوشت کھانے والے گھرانوں کی تعداد بہت کم ہے۔رجسٹرار جنرل کی 2018کی سروے میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں 31.45فیصد آبادی سبزی خور ہے جبکہ 68.95فیصدگوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ مسلم اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے کشمیر کی 88فیصد آبادی گوشت کھاتی ہے جبکہ 12فیصد سبزی خور ہے جن میں سکھ اور بودھ مذہب کو ماننے والے بھی شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں ہندووں کی مجموعی شرح 28.4فیصد ہے اور یہ زیادہ تر جموں صوبے میںآباد ہیں۔ جموں صوبے کی 44فیصد آبادی سبزی خور ہے اور اسلئے کشمیر کے مقابلے میں جموں صوبے میں امراض قلب ، شوگر اور سرطان کے معاملات کم ہوتے ہیں ۔کشمیر میں دل کی مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کی مجمومی شرح8.5فیصد ہے تو جموں میں یہ شرح 7فیصد ہے۔
سبزی خور
شوگر، قبض، تیز آبیت سمیت دیگر شکایات میں مبتلا افراد کیئے ڈاکٹر زیادہ تر سبزیاں کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ماہر غذائیات کا کہنا ہے کہ سبزی خوروں کی نسوں اور خون میں چربی جمع ہونا ، ہائی بلڈ پریشر اور موٹاپے کی بیماری بہت کم پائی جاتی ہیں اور ٹھیک ہونے کے مواقعے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہر غذائیات ڈاکٹر نصرت بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’منصوبہ بند طریقے سے سبزیاں لینا صحت کیلئے اچھا ہے، ان میں بھر پور غذائیت ہونے کے علاوہ یہ دل، جگر کی بیماریوں کے علاوہ شوگر اور کینسر سے بھی کافی حد تک دور رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر نصرت بشیر نے زور دیکر کہا ’’ ہر ایک شخص کو سبزیاں اپنی غذا کا لازمی حصہ بنانہ چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غذا کو غیر متوازن طریقے پر کھانے سے مختلف بیماریاں ہوسکتی ہیں جن میں موٹاپا ،فیٹی لیور اور سرطان و غیر شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبزیاں ایک منصوبہ بند طریقے میں لینی چاہئے جن میں وٹامن، کیلشیم اور دیگر لازمی معدنیات موجود ہوں۔انہوں نے کہا کہ سبزیاں جسم کی نشوو نما کیلئے ضروری ہیں اور گوشت جسم کو پروٹین فراہم کرتا ہے، لیکن ضروری نہیں کہ گوشت کو ہی پروٹین کیلئے استعمال کریں، بلکہ مچھلیاں گوشت سے زیادہ پروٹین سے بھر پور ہوتی ہیں جو گوشت سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی نسبت نقصان دہ نہیں ہوتی ہیں۔انکا کہنا ہے کہ سبزی خوروں کو مونگ پھلی، اخروٹ اور دیگر پھل بھی کھانے چاہئے تاکہ ان میں پوشن کی کمی نہ ہوں۔ ماہر امراض معدہ ڈاکٹر مبشر احمد کہتے ہیں کہ سبزیاں ہماری خوراک کی نلی کیلئے بہترین ہوتی ہیں ۔ انہوں نے کہا ’’ سبزیاں کھانے والوں میں تیزآبیت اور پتا کی پتھری ہونے کے کم امکانات ہوتے ہیں، کیونکہ سبزیاں carbsدیتی ہیں جو قبض اورکئی بیماریوں کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔‘‘ ماہر امراض سرطان ڈاکٹر شبنم بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ ایسا ہر گز نہیں کہ صرف گوشت کھانے والے لوگوں کو ہی سرطان ہوتا ہے بلکہ سبزی کھانے والے لوگ بھی سرطان کے شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی غذاکو کسی حد تک استعمال کرنے سے فائدے ملتے ہیں لیکن حد سے زیادہ کھانا پریشانی کا سبب بنتا ہے۔