چار برسوں کے دوران پیداوار میںتقریباً 15 فیصد اضافہ،پروسیسنگ کی صلاحیت صرف 4 فیصد
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر کا ڈیری شعبہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران تیزی سے وسعت اختیار کر گیا ہے اور دودھ کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دودھ پیدا کرنے والے ہزاروں کسان اور ڈیری فارمر مالکان آج بھی بڑھتی لاگت، کم منافع، ناقص مارکیٹنگ نظام، محدود پروسیسنگ سہولیات اور معیار سے متعلق خدشات کا سامنا کر رہے ہیں۔جموں اور کشمیر کا ڈیری سیکٹر اس کی دیہی معیشت کا تیزی سے بڑھتا ہوا ستون ہے، جس میں دودھ کی پیداوار تقریباً 30 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئی ہے اور ہندوستان کی کل پیداوار میں تقریباً 1.2 فیصد کا حصہ ہے۔ پلوامہ دودھ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ضلع ہے، جموں و کشمیر میں کل ملا کر 40ہزار ڈیری فارم کام کررہے ہیں جبکہ جموں اور کشمیر کا ڈیری سیکٹر دیہی معیشت کا ایک بڑا محرک ہے، جس میں 500,000 سے زیادہ ڈیری کسان شامل ہیں۔ 9,080 کروڑ کی دودھ کی معیشت پیدا کرتے ہوئے کسانوں کی اکثریت چھوٹے پیمانے پر ہے، جو فی گھر 2 سے 3 مویشی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں دودھ کی پیداوار 2020-21کے دوران 25.94 لاکھ ٹن تھی جو 2024-25میں بڑھ کر 29.74 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے۔چار برسوں میں دودھ کی پیداوار میں تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تاہم ڈیری شعبے سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا مالی فائدہ بڑی حد تک کسانوں تک نہیں پہنچ پا رہا ہے۔ان کے مطابق جانوروں کی خوراک، خشک و، سبز چارے، ادویات، ٹیکہ کاری، بجلی، ٹرانسپورٹ اور مزدوری کے اخراجات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری تو بڑھ رہی ہے لیکن آمدنی اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی ہے۔حال ہی میں جموں و کشمیر ڈیری فارمرز ایسوسی ایشن نے دودھ کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور اس کی وجہ بڑھتے پیداواری اخراجات کو قرار دیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق چارہ، فیڈ، ٹرانسپورٹ، پیکیجنگ، ایندھن اور ویٹرنری خدمات کے اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔اعجاز احمد جنہوں نے کھمنوہ سرینگر میں ایک چھوٹا ڈائری فارم ہے، کا کہنا ہے ’’ اضافے کا حقیقی فائدہ کسانوں تک پہنچ نہیں رہا ہے یا اس کا بڑا حصہ سپلائی چین میں شامل درمیانی تاجروں اور ڈسٹری بیوٹروںکے پاس جا رہا ہے۔ڈیری شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کشمیر میں دودھ کی پیداوار لاکھوں ٹن تک پہنچ چکی ہے لیکن پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبے میں صورتحال انتہائی کمزور ہے۔ حکومت خود اس بات کا اعتراف کر چکی ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت صرف تقریباً 4 فیصد دودھ پروسیس کیا جا رہا ہے جبکہ اسے 20 فیصد تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔محکمہ انمل ہسبنڈری کے ایک سابق افسر ڈاکٹر عبدالرحمان کے مطابق پروسیسنگ کی محدود صلاحیت کی وجہ سے زیادہ تر دودھ خام شکل میں فروخت ہو جاتا ہے جبکہ پنیر، دہی، مکھن، گھی اور دیگر ویلیو ایڈڈ مصنوعات سے حاصل ہونے والا منافع مقامی فارمرز کے بجائے بڑی کمپنیوں اور بیرونی مارکیٹوں کو جاتا ہے۔شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر وادی میں جدید پروسیسنگ پلانٹس، کولڈ چین نیٹ ورک اور مارکیٹنگ انفراسٹرکچر قائم کیا جائے تو ڈیری سیکٹر ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ڈاکٹرحبیب اللہ ملک کا کہنا ہے کہ بڑھتی بے روزگاری کے درمیان وادی کے کئی نوجوان ڈیری فارمنگ کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ انہوںسرکاری سبسڈی اور بینک قرضوں کی مختلف سکیموں نے اس رجحان کو تقویت دی ہے، تاہم نوجوان سرمایہ کاروں کو مارکیٹ تک رسائی، قرضوں کی پیچیدگیوں، جانوروں کی بیماریوں اور بڑھتے اخراجات جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔اقتصادی ماہر ابرار خان ترین کا کہنا ہے کہ اگر مناسب سرکاری معاونت، تربیت اور مارکیٹنگ سہولیات فراہم کی جائیں تو ڈیری فارمنگ بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک پائیدار ذریعہ معاش ثابت ہو سکتی ہے۔دوسری جانب دودھ کے معیار سے متعلق خدشات بھی برقرار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں کے دوران دودھ اور دودھ سے تیار شدہ مصنوعات کے 42 ہزار سے زائد نمونوں کی جانچ کی گئی جن میں سے 3,124 نمونے معیار پر پورا نہیں اتر سکے۔ یہ شرح تقریباً 7.4 فیصد بنتی ہے۔ فوڈ سیفٹی ماہرین کے مطابق دودھ میں ملاوٹ، صفائی کے ناقص انتظامات اور غیر معیاری ذخیرہ کاری نہ صرف صارفین کی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ یہ مقامی ڈیری صنعت کی ساکھ کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔