پرویز احمد
سرینگر //نیشنل ہیلتھ فیملی سروے کی تازہ رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر میں تمباکو اور تمباکو سے بنی مصنوعات کا استعمال کرنے والوں کی شرح میں9فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ان میں مردوں کی شرح میں 8.4فیصد جبکہ خواتین کی شرح میں 0.5فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ جمعہ کو دلی میں جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں شراب پینے والے مرد وں کی شرح میں بھی1.4فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ مرکزی سرکار کے وزیر صحت و خاندانی بہبود کی جانب سے جاری کی گئی نیشنل فیملی ہیلتھ سروے 6کی تازہ رپورٹ میں جموں و کشمیر کیلئے ایک خوش آئند خبر یہ ہے کہ یہاں تمباکو اورتمباکو سے بنی مصنوعات جیسی سگریٹ، گٹکا ، کھینی وغیرہ کا استعمال کرنے والے لوگوں کی شرح میں کمی درج کی گئی ہے۔
نئی رپورٹ کے مطابق 2019-21 میںجموں و کشمیر میں تمباکو اور تمباکو سے بنی مصنوعات کا استعمال کرنے والوں کی شرح 38.5فیصد تھی جو اب کم ہوکر 30.1فیصد رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 15سال سے زیادہ عمر کی خواتین کی شرح 3.6فیصد سے کم ہوکر3.1فیصد ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں 15سال سے زیادہ عمر کی 3.6فیصد خواتین تمباکو اور تمباکو سے بنی مصنوعات کا استعمال کررہی تھیں جو اب کم ہوکر 3.1فیصد رہ گئی ہے۔ ان خواتین میں سے 1.8فیصد کا تعلق شہری جبکہ 3.4فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15سال سے زائد عمر کے مردوں میںتعداد میں 8.4فیصد کی کمی ہے۔سال 2019-21کے درمیان 15سال سے زائد عمر کے مردوں میں شرح 38.5فیصد تھی جو اب کم ہوکر 30.1فیصد رہ گئی ہے۔ ان میں 24.8فیصد کا تعلق شہری جبکہ 31.7فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔اس رپورٹ میں شرا ب استعمال کرنے والے لوگوں کی تعداد میں بھی کمی کا انکشاف کیا گیا ہے۔نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کے مطابق 15سال سے زائد عمر کے مردوںمیں سال 2019-21کے دوران شراب پینے کی شرح 8.7فیصد تھی جو 2023-24میں کم ہوکر 7.3فیصد رہ گئی ہے۔ اس طرح 1.4فیصد کی کمی درج کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں شراب پینے والے مردوں کی شرح 7.6فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں7.2فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 15سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں شراب پینے کی شرح 0.2فیصد بنی ہوئی ہے۔شراب پینے والی خواتین کی شرح سال 2019-21میں 0.2فیصد تھی جو سال 2023-24کے دوران بھی برقرار رہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جموں و کشمیر میں شہری علاقوں میں شراب پینے والی خواتین کی شرح 0.3فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح 0.2فیصد ہے۔ وادی میں تمباکو مخالف مہم میں بطور نوڈل آفیسر تعینات ڈاکٹر جہازیب ٹنکی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یہ ایک خوش آئندہ بات ہے کہ تمباکو اور تمباکو سے بنی مصنوعات کا استعمال کرنے والے لوگوں کی شرح میں کمی آئی ہے اور یہ صرف محکمہ کی جانب سے تمباکو مخالف مہم کی کامیابی کا نتیجہ ہے۔