پرویز احمد
سرینگر //ڈاکٹروں کی رجسٹریشن کے حوالے سخت رخ اختیار کرنے کے بعد جموں و کشمیر میڈیکل کونسل میں سال 2024کے مقابلے میں ڈاکٹروں کی رجسٹریشن میں 80فیصد اضافہ ہوا ہے۔ میڈیکل کونسل کے اعدادو شمار کے مطابق سال 2021میں بیرون ریاستوں سے 161ڈاکٹروں نے رجسٹریشن کرائی ، جو2025میں بڑھ کر 2381ہوگئی ۔ سال 2021میں مقامی ڈاکٹروں میں سے259نے میڈیکل کونسل سے رجسٹریشن حاصل کی تھی جو 2025میں بڑھ کر 3215ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021میں صرف 39غیر ریاستی ڈاکٹروں نے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر رہنے کیلئے رجسٹریشن کرائی تھی جو 2025میں بڑھ کر500 تک پہنچ گئی ہے۔
سال 2021میں مجموعی طور پر 459ڈاکٹروں نے رجسٹریشن کی تھی جو 2025میں بڑھ کر 6082تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ 2021میں صرف 187اضافی رجسٹریشن دی گئی تھی جو 2025بڑھ کر 3269ہوگئی ہے۔ میڈیکل کونسل کے مطابق 2021 میں صرف 142ڈاکٹروں کو این او سی جاری کی گئی جبکہ 2025میں 2270ڈاکٹروں کو بیرون ریاستوں اور ممالک میں کام کرنے کیلئے این او سی جاری کی گئی ہے۔ میڈیکل کونسل کے صدر ڈاکٹر محمد سلیم خان نے بتایا ’’ یہاں جو بھی غیر مقامی ڈاکٹر بغیر رجسٹریشن کے کام کررہے تھے ، میڈیکل کونسل کے سخت رویہ کی وجہ سے اب بڑی تعداد میں رجسٹریشن کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے شعبہ صحت میں معیار برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔ یہ با قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر سے قریب 250ڈاکٹر بیرون ممالک میں کام کررہے ہیں اسکے علاوہ کئی سو ڈاکٹر ملک کے دیگر حصوں میں نوکریاں کررہے ہیں۔ایمز جموں نے حال ہی میں بیرون ملک اور جموں و کشمیر سے باہر کام کررہے ڈاکٹروں کیلئے خصوصی مراعات دینے کا اعلان کیا ہے جو واپس آجر جموں و کشمیر کے لوگوں کیلئے اپنی خدمات فراہم کرنے کے خواہش مند ہونگے۔عمومی طور پر جموں و کشمیر کے بیشتر ڈاکٹر یہاں نوکریاں چھوڑ کر بیرون ملک یا بیرون ریاستوں میں جاکر پیسہ کماتے ہیں اور کچھ برسوں کے بعد واپس آکر اپنے کلنک کھولتے ہیں۔