عظمیٰ ویب ڈیسک
جموں/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کہا ہے کہ مرکز کے زیرِ انتظام علاقے جموں و کشمیر کی موجودہ حکومت “خود بخود گر جائے گی”، جبکہ بی جے پی نہ تو اسے گرانے میں کوئی کردار ادا کرے گی اور نہ ہی اس کی تشکیل میں شامل ہوگی۔
جموں میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال غیر مستحکم ہے اور حکومت اپنے اندرونی تضادات کے باعث زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکے گی۔
انہوں نے نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے اپنی سیاست آرٹیکل 370 کے گرد تعمیر کی تھی، لیکن اب عوام کو متضاد پیغامات دے رہی ہے۔
حالیہ سیاسی سرگرمیوں، خصوصاً وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے شرما نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کا مؤقف غیر واضح اور متضاد دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ وقت کے ساتھ نیشنل کانفرنس کی سیاسی اہمیت اور مؤقف کی وضاحت کمزور ہوئی ہے اور اس کے عوامی حمایت کے دائرے میں بھی کمی آئی ہے۔ سنیل شرما کے مطابق، فاروق عبداللہ سمیت پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ سیاسی روابط کے بعد اپنے لہجے میں تبدیلی پیدا کی ہے، جو پارٹی کی پالیسی میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پسِ پردہ ارکانِ اسمبلی کی وفاداریاں تبدیل کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت کا ان سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
سنیل شرما نے کہا، “یہ حکومت خود ہی گر جائے گی۔ بی جے پی نہ اسے بنائے گی اور نہ ہی گرائے گی۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت اپنی مدت مکمل نہیں کر پائے گی۔
جموں و کشمیر حکومت خود بخود گر جائے گی، بی جے پی نہ اسے گرائے گی اور نہ بنائے گی: سنیل شرما