جموں و کشمیر آہستہ آہستہ ایک مہنگے ہمالیائی علاقے میں تبدیل

پچھلے 3برسوں سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ، سبزیاں قوت خرید سے باہر

سرینگر// کورونا لاک ڈائون سے قبل اور اسکے بعد روز مرہ کیلئے استعمال ہونے والی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے کے نتیجے میں جموں کشمیر سمیت پورے ملک میں مہنگائی کی شرح ایک بار پھر 6فیصد پر آنے لگی ہے۔ ماہر اقتصادیات کے کہنا ہے کہ ضروری اشیاء کی قیمتیں پورے ملک میں بڑھی ہیں البتہ جموں کشمیر میں پیدا ہونے والی اشیاء اور یہاں کے کارخانوں سے بننے والی چیزیں بھی بہت زیادہ مہنگی ہوگئی ہیں۔ فروری اورمارچ کے مہینوں تک جموں کشمیر میں مقامی طور پر اگائی گئیں سبزیاں دستیاب نہیں رہتی لیکن اسکے بعد جموں اور وادی کے میدانی علاقوں میں مقامی طور پر تیار کی گئی سبزیاں میسر رہتی ہیں لیکن اس بار انکی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ پولٹری و مٹن فروش سب سے آگے ہیں۔تیل سیاہ آہستہ آہستہ قوت خرید سے باہر جارہا ہے۔ پچھلے تین ماہ میں تیل سیاہ کے 5کلو ڈبہ کی قیمت400سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔15لیٹر کے ڈبہ کی قیمت اوسطاً 800روپے بڑھ گئی ہے۔مٹن ڈیلر حکومت سے معاہدہ طے کرنے کے باوجود گوشت فی کلو 600روپے دوبارہ فروخت کررہے ہیں۔ حتیٰ کہ اوجڑی کی قیمت 200سے بڑھاکر 250کردی گئی ہے۔ساگ، پالک،ٹماٹر، بنڈی، مٹر، مولی ، وغیرہ دیگر سبزیاں 60یا 70روپے سے کم نہیں ہیں۔پیاز، آلو ، مولی ، گاجر، پھول گوبھی یا بند گوبھی ہی کچھ ایسی سبزیاں ہیں جن کی قیمتیں زیادہ نہیں بڑھی ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ سے جموں و کشمیر آہستہ آہستہ ایک مہنگے ہمالیائی علاقے میں تبدیل ہو رہا ہے ، اورپچھلے تین سال سے کنزومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار اس کی تائید بھی کررہے ہیں۔جموں کشمیر کی افراط زر کی شرح باقی ملک سے زیادہ ہے۔مرکزی وزارت شماریات اور پروگرام پر عمل درآمد کے جاری کردہ سی پی آئی کے اعدادوشمار کے مطابق ، جموں و کشمیر ان علاقوں میں شامل ہوئی ہے، جہاں مہنگائی کی شرح3.74فیصد ہے جو آل انڈیا کی اوسط شرح3.18 فیصد سے زیادہ ہے۔جموں کشمیر کے تاجروں نے متعدد وجوہات کا حوالہ دیا ہے جن میں ضروری سامان کی قیمتوں میں اضافے کے لئے اعلی نقل و حمل کی لاگت ، شاہراہوں کی خراب حالت ، بے روزگاری ،بدعنوانی اور طویل ترسیل کی دقت شامل ہیں۔جموں کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیساتھ بہت سے معاشی عوامل منسلک ہیں۔ جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ، راکیش گپتا کا کہنا ہے کہ لاک ڈائون سے اشیاء کی ترسیل میں مشکلات، گاڑیوں کی دستیابی میں رکاوٹیں ، پیٹرول اور ڈیزل میں روزانہ کا اضافہ، کرایہ میں 40فیصد سے زیادہ اضافہ اور مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کے علاوہموسم کی خراب صورتحال کی وجہ سے سڑکوں کی متواتر بندش اور غیر یقینی صورتحال کے عوامل شامل ہیں۔بنیادی طور پر جموں کشمیرمیں روز مرہ کی تقریباً سبھی چیزیں باہر سے ہی لانی پڑتی ہیں۔طویل ترسیل کا وقت ذخیرہ اندوزوں کو نفع حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے ، خاص طور پر جب وادی میں برفباری ہوجاتی ہے یا پھرسیاحوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ، کھانے پینے کی چیزوں میں ماہانہ اضافے کے نتیجے میں تیل، گھی اور اس سے منسلک دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ گوشت اور مچھلی کی قیمت میں 15.09 فیصد اضافہ ہوا۔ مشروبات میں 14.41 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ دالوں اور مصنوعات کے حصے میں بھی 13.25 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی 10.60 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم ، سبزیوں کی قیمتیں مارچ میں سالانہ سطح پر -4.83 فیصد گر گئیں۔ البتہ جموں کشمیر میں سبزیوں کی قیمتیں 2فیصد بڑھ گئیں۔ پٹرول ، گیس اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ درمیانے اور کم آمدنی والے گروپوں کی تنخواہوں اور اجرت میں اضافہ کر رہا ہے۔روز مرہ کی قیمت میں اضافے سے گھریلو بچت متاثر ہوئی ہے۔ ان دنوں گھریلو اخراجات کا سب سے بڑا حصہ تعلیم ، خوراک ، ایل پی جی ، پٹرول ، ادویات کی طرف جاتا ہے۔ ایل پی جی اور پٹرول کے ٹیکسوں میں اضافے کے نتیجے میں ، 5 اگست 2019 کے بعد سے لگاتار کورونا لاک ڈائون بے روزگاری کا باعث بنا ہوا ہے۔ گھریلو خواتین خریداری پر آنے والے اخراجات میں کمی کر رہی ہیں۔ غیر منظم قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے متناسب غذائیت سے بھرپور کھانا بچوں کی دیکھ بھال اور توقع کرنے والی ماؤں کی پرورش بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کھانے پینے کی اشیاء  اور دیگر بنیادی ضروریات کو کم کرنے کے باوجود خواتین کو اپنے گھر چلانے میں بہت مشکل پیش آرہی ہے۔