سرینگر//جموں وکشمیر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے قوانین موجودہونے کے باوجود بھی حکام تماشاہی بنی ہوئی ہے جس کے نتیجے میںجموں اور سرینگر شہرئوں میں فضائی آلودگی میں شدید قسم کا اضافہ ہو رہا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس آلودگی پر قابو نہ پایا گیا تومستقبل میں اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں ۔محکمہ پولیویشن کنٹرول بورڈ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس وقت شہر سرینگر میں فضا میں موجود ایک خاص ذرہ جسے پی ایم 10(پٹی کلیٹ میٹر ) کہتے ہیں وہ 202مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر پایا جا رہا ہے جبکہ پی ایم 2.5کے زرات 34مائیکرو گرام فی کیوبک میٹر ہیں ۔حالانکہ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ فضا میں پی ایم 10(پٹی کلیٹ میٹر ) 100مائیکرو گرام فی کیوبک میٹرسے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں جبکہ PM2.5 مائیکرو گرام کیوبک میٹر50سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں، لیکن شہر سرینگر میں پی ایم10، 202تک پہنچ گیا ہے اور جموں میں 200پر ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہر میں فضائی آلودگی میں کتنا اضافہ ہوا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پچھلے سال لاک ڈاؤن کے دوران فضائی آلودگی میں غیر معمولی کمی دیکھنے کو ملی تھی۔ تاہم فضائی آلودگی میں رونما ہوئی یہ کمی دیر پا ثابت نہیں ہوئی۔سینٹر فار سائنس اینڈ اینورنمنٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اکتوبر 2020 اور جنوری 2021 کے درمیان فضا میں پائی جانے والی آلودگی گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران پائی جانے والی فضائی آلودگی سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ادھرمحالجین کا کہنا ہے نائٹروجن ڈائیوکسائڈ ایک ایسی خطرناک اور زہریلی گیس ہے جو گاڑیوںاور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھویں اور دیگر چیزئوں سے نکلتی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر یہ گیس 2سو مائیکرو گرام کیوبک میٹر سے زیادہ ہو تو یہ انسانی جسم میں داخل ہو کر سانس لینے میں دقتیں پیدا کر تاہے۔ رپورٹ کے مطابق پوری دنیا میں پی ایم10 یعنی پٹیکلیٹ ہوا میں پائے جانے والے زروں کی وجہ سے 4لاکھ لوگ مر جاتے ہیں یہ زرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ آسانی سے پھیپڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں، جس سے ٹی بی اور دمہ کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر کا ماحولیاتی نظام کافی نازک مانا جاتا ہے۔ اسی نازک اور خوبصورت ماحول سے اس کی سیاحتی شناخت بھی ہے لیکن گزشتہ برسوں سے شہر و قصبہ جات میں جدیدکارخانوں اور بڑھتے ٹریفک سے آلودگی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ہر جگہ سٹون کریشوں کی بھرمار ہے، جنگلات کا کٹائو اور اس کو آگ کی نذرکیا جارہا ہے ، پرانی ڈیزل گاڑیوں پر کوئی روک نہیں ، کئی گاڑیاں مٹی کے تیل پر چلتی ہیں، ان کی روکتھام بھی ممکن نہیں بن سکی ہے ،جبکہ ایک تحقیق میں آلودگی کے وجوہات سرما میں گھروں میں کوئلے کا زیادہ استعمال بھی بتایا جاتا ہے ۔اس کی روکتھام بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ محکمہ پولیوشن کنٹرول بورڈ کے پاس عملہ ہی دستیاب نہیں ہے اور محکمہ میں افرادی قوت کی 60فیصد کمی ہے اور محکمہ دفتری کام سے باہر نہیں نکل سکتا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ باقی ریاستوں سے اگرچہ جموں وکشمیر میں ابھی صورتحال بہتر ہے لیکن حکام کو آج سے ہی جاگ جانا چاہئے اور فضائی شفافیت کو تحفظ دینے کے لئے رہنما اصول متعین کرنے کے ساتھ ساتھ ماحولیات کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہیں۔