محتشم احتشام
پونچھ//جموں کے مضافاتی علاقے سدھرہ میں حالیہ انہدامی کارروائی کے بعد اقلیتی گوجر خاندانوں میں پھیلی بے چینی اور اضطراب کے درمیان معروف سیاسی و سماجی رہنماایم ایل اے پونچھ اعجاز جان، میاں مہر علی اور جاوید چوہدھری نے متاثرہ مقام کا دورہ کر کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی اور ان کے مسائل و خدشات کو تفصیل سے سنا۔رہنماؤں نے متاثرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس کارروائی پر شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جموں شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں اقلیتی گوجر برادری کو مسلسل نشانہ بنایا جانا ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک صورتحال ہے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اعجاز جان نے اقلیتوں کے حق میں ایک جرات مندانہ اور دوٹوک موقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم گوجر خاندانوں کے خلاف بار بار کی جانے والی کارروائیوں نے اقلیتی طبقے میں خوف، بے یقینی اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر انصاف پسند شہری ظلم، امتیاز اور ناانصافی کے خلاف متحد ہو کر آواز بلند کرے۔اعجاز جان نے کہا کہ اس معاملے پر اب صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندو اور سکھ برادری کے افراد بھی انصاف اور انسانی حقوق کے حق میں سامنے آ رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت، مساوات اور آئینی حقوق ہر مذہبی تفریق سے بالاتر ہیں۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ حکومت اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اس حساس معاملے کو ذاتی طور پر وزیر اعلیٰ کے سامنے اٹھائیں گے اور متاثرہ خاندانوں کی باز آبادکاری، مستقل رہائش اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھرپور نمائندگی کریں گے۔اعجاز جان نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے تحفظ، عزتِ نفس اور بہتر مستقبل کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ہر متاثرہ خاندان کو پانچ مرلہ زمین فراہم کرنے کے لیے کوشش کی جائے گی تاکہ انہیں باعزت انداز میں دوبارہ آباد کیا جا سکے۔رہنماؤں کے اس دورے اور اعجاز جان کے مضبوط بیان کے بعد خصوصاً پونچھ اور راجوری اضلاع کی گوجر برادری میں امید کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔عوامی حلقوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اعجاز جان اس معاملے کے حل، متاثرہ خاندانوں کی باز آبادکاری اور انہیں انصاف دلانے میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کریں گے۔