حج سب کی تمنا ،پیسہ سب سے بڑی رکاوٹ،کم خرچہ کی وجہ سے عمر ہ ادائیگی کا بڑھتا ہوا رجحان
عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//2023سے جموں وکشمیر کے عازمین حج کی تعدادمیںبتدریج کمی درج کی گئی ہے جبکہ 2027کیلئے کل مختص 8000نشستوں کیلئے ابھی تک صرف2600عازمین نے درخواستیں دی ہیںجبکہ20جولائی کو درخواستیں جمع کرنی کی آخری تاریخ ہے ۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق 2020اور 2026کے درمیان جموں و کشمیر کے کل تقریباً 31,500عازمین نے حج ادا کیا۔سرکاری حج کے اعدادوشمار بڑھتے ہوئے سفری اخراجات اور معاشی بدحالی کی وجہ سے خواہشمندوں میں شدید کمی کو نمایاں کرتے ہیں۔2020اور 2021میں کووڈ19 وبائی امراض کی وجہ سے حج کو مکمل طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔دستیاب اعدادوشمار کے مطابق سال2022میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مشترکہ علاقوں سے تقریباً6000عازمین نے سعودی عرب کا سفر کیاجبکہ 2023میں سب سے زیادہ12,067عازمین سعودی عرب کے لیے روانہ ہوئے ۔اس کے بعد عازمین کی تعداد میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے۔2024میں جموں و کشمیر کے7008عازمین نے حج ادا کیاجبکہ 2025میں جموں و کشمیر کے 4351عازمین نے حج ادا کیا،اور2026میں جموں و کشمیر کے تقریباً4700عازمین سفر محمود پر روانہ ہوئے۔اس طرح گزشتہ تین برسوں کے دوران عازمین کی تعداد میں کمی آئی ہے ۔جموں و کشمیر حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے کہا ہے کہ اب عازمین کی تعداد توقعات سے بہت کم رہی ہے، اور2027کیلئے اب تک عازمین کی صرف 2600درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ حج درخواست فارم جمع کرانے کا سلسلہ22جون سے شروع ہوا تھا اور اس کی آخری تاریخ 20جولائی 2026ہے ۔انہوںنے تمام اہل امیدواروں پر زور دیا کہ جن کے پاس درست پاسپورٹ ہے وہ درخواست کے عمل کو آخری تاریخ کا انتظار کیے بغیر مکمل کریں۔
کمی کی وجوہات
جموں و کشمیر حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ پچھلے سال4 لاکھ18ہزار روپے حجاج کو بھرنے پڑے جو عام لوگوں کی پہنچ سے کسی حد تک باہر ہے جس کی وجہ سے درخواستیں کم آرہی ہیں۔انکاکہناتھا کہ جنوبی ہندوستان میںسروس سیکٹر فروغ پذیر ہونے کی وجہ سے حج کیلئے اچھا رجحان رہتا ہے جبکہ شمالی اور مشرقی ہندوستان میں رجحان کم ہے اورمسلسل کوٹا سے کم درخواستیں آرہی ہیں جسکے نتیجہ میں باقی بچا کوٹا پھر جنوبی و مغربی ہندوستان کی ریاستوں میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سفری اخراجات باقی ملک کی نسبت اس لئے مہنگے رہتے ہیں کیونکہ سری نگر ہوائی اڈہ دفاعی ہوائی اڈہ ہے ،جس کی وجہ سے یہاں خلیجی ایئر لائنز ٹینڈرنگ میں حصہ نہیں لے سکتی ہیں اور لے دے کے مقامی ایئرلائنز ہی مقابلے میں رہتی ہیں اور جب مقابلہ نہ ہو تو ریٹس بڑھ جاتی ہیں جبکہ اس کے برعکس ملک کے دیگر حصوں میں خلیجی ایئرلائنز ٹینڈرنگ عمل میں حصہ لیتی ہیں اور مقابلہ سخت ہونے کی وجہ سے ریٹس کم رہ جاتی ہیں۔مہنگائی کو بھی حج اخراجات میں اضافہ کیلئے ایک وجہ قرار دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ مہنگائی ایک اہم وجہ ہے جس میں کم و بیش سات فیصد اضافہ ہوا ہے۔ڈاکٹر قریشی کے مطابق اس کے علاوہ سبسڈی ختم ہونے سے بھی اخراجات بڑھ گئے ،2018کے بعد سبسڈی ختم کر دی گئی جس کی وجہ سے اب مارکیٹ شرحوں پر لاگت کا بندوبست کرنا پڑتا ہے اور اس کا سارا بوجھ عازمین پر ہی پڑتا ہے۔ڈاکٹر قریشی کامزید کہناتھا کہ اخراجات میں اضافہ کیلئے سعودی ریال کی قدر بڑھنا بھی ایک وجہ ہے ۔ان کے بقول گزشتہ دس برسوں میں بھارتی روپے کے مقابلے میں سعودی ریال کی قدر میں دوگنا اضافہ ہوا ہے،چونکہ خرچہ سعودی ریال میںہوتا ہے تو بوجھ عازمین پر اضافی پڑتا ہے اور ساڑھے چار لاکھ کے قریب روپے صرف حج اخراجات پر خرچہ آتا ہے ۔انہوںنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر عازمین حج کے درمیان بیداری پھیلانے کی اپیل کریں تاکہ کوئی بھی اہل درخواست گزار حج کی ادائیگی کا موقع ضائع نہ کرے۔
عمرہ ادائیگی میں اضافہ
اس کے برعکس گزشتہ کچھ برسوں کے دوران جموںوکشمیر میں عمرہ کی ادائیگی کا رجحان کافی حدتک بڑھ چکا ہے ۔حج و عمرہ سروس سے وابستہ ایک ٹیور آپریٹر نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ چونکہ حج کے اخراجات بیشتر لوگوں کی پہنچ سے باہر ہوچکے ہیں تو لوگ اب سرزمین حجاز کے سفر کیلئے عمرہ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ان کے مطابق ہر سال کشمیر سے 10سے15ہزارکے قریب لوگ عمرہ پر جاتے ہیں ۔اُن کے مطابق چونکہ عمرہ پر ابھی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ روپے کا خرچہ آتا ہے جبکہ ایک لاکھ روپے میں بھی عمرہ کی ادائیگی ممکن ہوپارہی ہے تو لوگ اب حج کے بدلے عمرہ پر جانے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف عمرہ کی سعادت حاصل کرسکیں بلکہ مکہ و مدینہ منورہ کی زیارت کرسکیں۔اقتصادی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ چونکہ حج اخراجات اب سرکاری سیکٹرمیں پانچ لاکھ کے آس پاس جبکہ نجی سیکٹر میںچھ سے سات لاکھ روپے کے آس پاس ہیں تو اتنے پیسوںکا بندو بست کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ لوگوں کے معاشی حالات پہلے ہی خراب چل رہے ہیں ۔ان ماہرین کا کہناہے کہ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام لوگوں کیلئے حج کرنا اب آسان نہیں رہاہے اور یہی وجہ ہے کہ اب لوگ عمرہ پر زیادہ جاتے ہیںکیونکہ وہ ابھی حج کی نسبت سستا ہے۔