عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//پلوامہ ضلع کے علاقے کھریو سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ باصلاحیت اور جسمانی طور پر معذور نوجوان مصنفہ ارتقاء معراج نے اپنی غیر معمولی ہمت، عزم اور ادبی صلاحیتوں کے ذریعے نہ صرف مشکلات کو شکست دی بلکہ ادبی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بھی قائم کی ہے۔کم عمری کے باوجود وہ اب تک تین کتابیں تصنیف کر چکی ہیں، جو نوجوان نسل کے لیے ایک روشن مثال بن چکی ہیں۔ ارتقاء معراج نے جسمانی معذوری جیسے چیلنج کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ محدود وسائل اور صحت کے مسائل کے باوجود انہوں نے تعلیم اور ادب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھا۔
ان کی تحریروں میں حوصلہ، امید، خود اعتمادی اور سماجی شعور کی جھلک نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جو قارئین کو نہ صرف متاثر کرتی ہیں بلکہ انہیں مثبت سوچ اپنانے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ادبی حلقوں میں ان کی کاوشوں کو خوب سراہا گیا ہے۔ انہیں بہترین ادبی کوششوں کے اعتراف میں متعدد اعزازات اور اسناد سے نوازا جا چکا ہے۔ ماہرینِ ادب کا کہنا ہے کہ ارتقاء معراج کی تحریریں نہ صرف فکری پختگی کی عکاس ہیں بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو کوئی بھی رکاوٹ منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔مقامی لوگوں اور ادبی شخصیات نے ان کی کامیابی کو ضلع پلوامہ کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ارتقاء معراج نے ثابت کر دیا ہے کہ جسمانی معذوری کسی بھی شخص کی صلاحیتوں کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی، بلکہ عزم اور محنت کے ذریعے ہر خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔