عظمیٰ نیوز سروس
گریز//سکاسٹ کی ڈائریکٹر ایکسٹینشن پروفیسر ریحانہ حبیب کنٹھ نے گریز نے بگتور، گریز اور تلیل علاقوں میں کسانوں، خواتین کسانوں اور زرعی کاروبار شروع کرنے کے خواہشمند نوجوانوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے کرشی وگیان کیندر (KVK)گریز کی جانب سے سال 2026-27 کے لیے جاری فرنٹ لائن ڈیمونسٹریشنز (FLDs) اور آن فارم ٹرائلز (OFTs) کا بھی جائزہ لیا۔انہوں نے نیشنل سیڈ پروجیکٹ (NSP) کے تحت متعارف کرائی گئی گندم کی قسم’SW-03‘کی کارکردگی کا معائنہ کیا، جو گریز اور تولیل کے 70 ہیکٹر سے زیادہ رقبے پر کاشت کی جا رہی ہے اور اس سے تقریبا 700 زرعی خاندان مستفید ہو رہے ہیں۔ اس منصوبے میں دور دراز گاں چکوالی کے کسان بھی شامل ہیں۔پروفیسر کنتھ نے بدوگام کے پوٹیٹو سیڈ ولیج، تربل کے مکئی گاں اور دنگن کے بکوہیٹ سیڈ ولیج کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے فصلوں کی کارکردگی اور کسانوں کی جانب سے نئی ٹیکنالوجی و اقسام کو اپنانے کا جائزہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی کی قیادت میں سکاسٹ روایتی فصلوں کے احیا کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے قابل اور مقامی حالات کے مطابق زرعی ٹیکنالوجیز کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ پیداوار میں اضافہ، روزگار کے ذرائع میں تنوع اور قبائلی زرعی برادریوں کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔پروفیسر کنتھ نے کے وی کے گریز کی جانب سے توسیعی پروگراموں کے کامیاب نفاذ اور زمینی سطح پر مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوششوں کو سراہا۔اقوام متحدہ کی جانب سے 2026کو ’انٹرنیشنل ایئر آف دی وومن فارمر (IYWF-2026)‘قرار دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ SKUAST-K خواتین کسانوں کو بااختیار بنانے کے لیے محنت کم کرنے والی ٹیکنالوجی، زرعی فیصلوں میں خواتین کی شمولیت اور روزگار کے بہتر مواقع تک رسائی پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔آٹ ریچ پروگرام کے تحت قبائلی ذیلی منصوبہ (TSP-ICAR) کے تحت 50 قبائلی زرعی خاندانوں کو اعلی معیار کے زرعی مداخلات اور ضروریات مفت فراہم کی گئیں۔ ان میں زیادہ تر خواتین کسان شامل تھیں، جن کا تعلق بگتور بلاک کے دور افتادہ علاقے بنجران سے تھا۔کسانوں نے کے وی کے گریز اور سکاسٹ کی جانب سے سرحدی علاقوں میں زراعت کے فروغ، کسانوں کی مدد اور دیہی روزگار کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کو سراہا۔