جاوید اقبال
مینڈھر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امورجاوید احمد رانا نے ڈاک بنگلہ مینڈھر میں دو روزہ مفت میڈیکل کیمپ کا اِفتتاح کیا۔یہ کیمپ کیتھرین کیلی میموریل چیئر ٹیبل سوسائٹی نے الفیضان چیئر ٹیبل ٹرسٹ کے اِشتراک سے منعقد کیا ہے۔ وزیر موصوف اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے منتظمین کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے سرحدی اور دُور دراز علاقوں کے رہائشیوں تک خصوصی طبی خدمات فراہم کیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اِس طرح کے اَقدامات حفاظتی اور بنیادی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم ہیںبالخصوص ان علاقوں میں جہاں طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔کیمپ میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔اِس میڈیکل کیمپ میں مینڈھر اور اس کے آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کی بڑی تعداد نے فراہم کی جانے والی خدمات سے اِستفادہ کیا۔یہ میڈیکل کیمپ ایک ہی چھت تلے جامع طبی سہولیات فراہم کر رہا ہے جس میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی مشاورت، مفت اَدویات اور بنیادی تشخیصی سہولیات شامل ہیں۔وزیر جاوید رانا نے اِستفادہ کنندگان کے ساتھ بات چیت کے دوران حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیاکہ پسماندہ اور دُور دراز علاقوں میں صحت سہولیات کو مزید وسعت دی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ میڈیکل کیمپ معیاری طبی خدمات تک رسائی میں موجود خلا کو دُورکرنے میں اہم کردار اَدا کرتے ہیں اور اُمید ظاہر کی کہ معاشرے کی وسیع تر مفاد کے لئے ایسے اَقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے۔وزیر نے صحت عامہ اور مجموعی کمیونٹی کی فلاح و بہبودکو بہتر بنانے کے لئے اس طرح کی انسان دوست سرگرمیوں میں حکومت کی مکمل تعاون کا بھی یقین دِلایا۔
جاوید رانا کی قبائلی مویشی پالنے والے مستفیدین کیلئے سہولیت پروگرام کی صدارت
جاوید اقبال
میندھر//وزیر برائے جل شکتی، جنگلات و ماحولیات اور قبائلی امور جاوید احمد رانا نے ڈاک بنگلہ مینڈھر میں ایک سہولیت پروگرام کی صدارت کی جس کا اہتمام محکمہ مویشی پالن اورمحکمہ قبائلی امور نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔اِس پروگرام کا مقصد قبائلی کمیونٹیوںمیں روزگار کے مواقع کو مضبوط بنانا تھا جس کے لئے مخصوص ترقیاتی اَقدامات کئے گئے۔یہ پروگرام ٹرائبل سب پلان (ٹی ایس پی)سکیم کے تحت منعقد کیا گیاجو ایک ہدفی اقدام ہے جس کا مقصد معاشی طور پر پسماندہ قبائلی آبادی کو بہتر بناناہے۔
اِس سکیم کے تحت سب ڈویژن مینڈھر کے پانچ دُور دراز دیہاتوں کے مستفیدین نے جموں و کشمیر سے باہر سے 52 مورا نسل کی بھینسیں کامیابی سے خریدیں۔یہ اَقدام ایک منظم مالیاتی طریقۂ کار کے تحت کیا گیاجس میں 90 فیصد لاگت حکومت برداشت کرتی ہے جبکہ باقی 10 فیصد اِستفادہ کنندگان اَدا کرتے ہیں جس سے تعاون اور شمولیت دونوں کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اِس طریقۂ کار کا مقصد قبائلی کسانوں میں مویشی پر مبنی اِقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے کر دیرپا آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا ہے۔وزیرقبائلی اَمور نے اس اَقدام کو مویشی پر مبنی روزگار کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ اس سے علاقے میں قبائلی کمیونٹیوں کی سماجی و اقتصادی حالت میں نمایاں بہتری آئے گی۔سہولیت پروگرام کے دوران نہ صرف اثاثوں کی تقسیم پر توجہ دی گئی بلکہ مویشیوں کی طویل مدتی پیداوار اور صحت کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ہر اِستفادہ کنندہ کو جس نے مورا بھینس حاصل کی، بنیادی ویٹرنری ضروریات کے لئے اَدویات اور اِبتدائی طبی اِمداد کا فرسٹ ایڈکٹ فراہم کیا گیا۔اِس کے ساتھ انہیں سکیم میں شرکت کا سر ٹیفکیٹ بھی دیا گیا۔اِن اَقدامات کا مقصد جانوروں کی نگہداشت کے طریقوں کو بہتر بنانا اور دودھ کی پیداوار میں اِضافہ کرنا ہے، جس سے استفادہ کنندگان کی معاشی استحکام میں مدد ملے گی۔اِس پروگرام میںچیف اینمل ہسبنڈری آفیسر پونچھ ،ویٹرنری اسسٹ سرجنز اور دیگر محکموں کے اَفسران نے شرکت کی۔