عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر میں زراعت کے شعبے کو مستحکم اور خود کفیل بنانے کی سمت ایک اہم پیش رفت کے طور پر ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (HADP)کے تحت اب تک 92 ہزار سے زائد زرعی و مویشی پیداواری یونٹ قائم کیے جا چکے ہیں۔ اس پروگرام کو سال 2024 میں وزیر اعظم کی جانب سے جموں و کشمیر کے عوام کے نام وقف کیا گیا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق 5,013 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ شروع کیا گیا یہ پروگرام 29 مربوط منصوبوں پر مشتمل ہے، جن کا مقصد روایتی اور سبسڈی پر مبنی زرعی نظام کو ایک پائیدار، منافع بخش اور روزگار پیدا کرنے والی معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں زراعت اور اس سے وابستہ شعبے 13 لاکھ سے زائد خاندانوں کا ذریعہ معاش ہیں اور یہ خطے کی مجموعی ریاستی قدر میں تقریبا 20 فیصد حصہ رکھتے ہیں، تاہم بکھری ہوئی زمینیں، کم پیداوار، محدود میکانائزیشن اور مارکیٹ تک ناکافی رسائی جیسے مسائل طویل عرصے سے ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ایچ اے ڈی پی کو روایتی اسکیموں کے برعکس ویلیو چین بنیاد پر ڈیزائن کیا گیا ہے، جس کے تحت بیج، نرسری، مشینری، مویشی پروری، باغبانی، اسٹوریج، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ کو ایک مربوط نظام کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی پروگرام کا لازمی جز بنایا گیا ہے۔حکام کے مطابق، پروگرام کے تحت اب تک 3.7 لاکھ سے زائد کسان رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، جبکہ 5.9 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے تقریبا 4 لاکھ درخواستوں کی منظوری دی جا چکی ہے۔ زمینی سطح پر قائم یونٹس سے اب تک 350 کروڑ روپے سے زائد آمدنی اور 125کروڑ روپے منافع حاصل ہوا ہے، جبکہ 1.9 کروڑ سے زائد انسانی روزگار کے دن پیدا ہوئے ہیں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایچ اے ڈی پی کے تحت دی جانے والی سبسڈی کے بدلے ہر ایک روپے پر دو روپے سے زائد آمدنی حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں، جو عوامی سرمایہ کاری کے مثر استعمال کی نشاندہی کرتی ہیں۔سرکاری حکام کے مطابق، کسانوں کو سبسڈی پر انحصار سے نکال کر زرعی کاروبار کی طرف راغب کرنے کیلئے کریڈٹ لنکیج کو بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے جوڑا گیا ہے، جس سے بینکوں اور کسانوں کے درمیان براہ راست رابطہ قائم ہوا ہے۔حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ مرحلے میں پروگرام کے دائرہ کار میں مزید توسیع، مارکیٹ روابط کی مضبوطی اور قائم شدہ یونٹس کی تجارتی صلاحیت کو بڑھایا جائے گا، جس سے جموں و کشمیر میں زرعی شعبے کو طویل مدتی استحکام حاصل ہوگا۔