لیفٹیننٹ گورنرکا آئی ایف ایف سی او کی خواتین کسان کانفرنس سے خطاب
سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے جمعرات کو کہا،”خواتین کسانوں کے بغیر ہر پلیٹ خالی ہوگی جس سے انسانیت بھوکی رہ جائے گی۔ وہ دنیا کو سہارا دیتی ہیں، اپنے مرد ہم منصبوں سے زیادہ محنت کرتی ہیں اور ان کی طاقت غذائی تحفظ کی بنیاد ہے جو ہر کھیت میںکنبوں اور معاشرے کے لئے خوشحالی کے بیج بوتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں خواتین کو بااِختیار بنانا تمام شعبوں میں اوّلین ترجیح ہے۔”اْنہوںنے کہا کہ عالمی غذائی نظام خواتین کی محنت پر منحصرہے لیکن انہیں خوشحالی سے محروم رکھا جاتا ہے۔منوج سِنہا نے تمام کوآپر یٹیو اور حکومتی شراکت داروں پر زور دیاکہ خواتین کسانوں کی زندگی میں کون سی رکاوٹ یا مشکل فوری طور پر ختم کی جا سکتی ہے۔ اْنہوں نے کہا کہ ایک ایک کر کے ان رکاوٹوں کو دور کر کے ہم ان کی قیادت کا احترام کر سکتے ہیں اور براہ راست مارکیٹ تک رسائی کے ذریعے معاشرے اور قوم کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنرسری نگر میں اِنڈین فارمرز فرٹیلائزر کوآپریٹیو لمیٹڈ (آئی ایف ایف سی او) کی جانب سے منعقدہ خواتین کسان کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔اْنہوں نے کہا،”میں بین الاقوامی خواتین کسانوں کے سال 2026 کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھتا ہوں جس میں خواتین کو زراعت کی ترقی میں صرف مزدور نہیں بلکہ تخلیق کاروں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
ہر سکیم میں خواتین کسانوں کو ترجیح دیں۔ مجھے یقین ہے کہ 2026 زراعت او راس سے منسلک شعبوں میںخواتین کے رول کو مخلصانہ طور پر تسلیم کرے گا اور ان کی خواہشات کو پورا کرے گا۔”لیفٹیننٹ گورنر نے ٹیکنالوجی کے اِختراع کاروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کسانوں کے لئے تکنیکی آلات کو ترجیح دیں۔اْنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ زراعت، باغبانی، ماہی پروری اور ڈیری محکموں کو خواتین کسانوں کے لئے وسائل مختص کرنے چاہئیں جبکہ مالیاتی اِدارے ایسے قرضہ جاتی منصوبے تیار کریں جن کے ذریعے بے زمین خواتین کسان بھی اپنے نام پر قرض حاصل کر سکیں۔منوج سِنہا نے کہا،”ہمیں جموں و کشمیر میں خواتین کی قیادت میں ترقی کے عزم کے ساتھ معاشرے کو نئی توانائی دینی ہوگی تاکہ خواتین کی طاقت تبدیلی لا سکے۔ 2020 کے بعد خواتین کو بااِختیار بنانے میں نمایاں پیش رفت ایک قومی مثال قائم کر چکی ہے اور خواتین کسانوں کے لئے ہمارے منصوبے اس کامیابی کی عکاسی کرتے ہیں۔”لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،”بااِختیار خواتین کسان موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی طاقت رکھتی ہیں اور معیاری بیج، ڈیجیٹل ٹولز اور کوآپریٹیو مارکیٹ روابط کے ذریعے مضبوط زرعی نظام قائم کرتی ہیں۔”اْنہوں نے کہا کہ ‘جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی)’ کے ذریعے جموں و کشمیر میں جدید ٹیکنالوجی پر مبنی، کسان دوست زرعی تبدیلی لائی جا رہی ہے جس کا مقصد زیادہ پیداوار، بہتر آمدنی اور دیرپا زراعت کو فروغ دینا ہے۔ اِس پروگرام کے تحت 14,782 خواتین کسانوں کا اِندراج کیا گیا ہے