نئی دہلی // دہلی ہائی کورٹ نے منگل کودہلی تشدد کیس کے سلسلے میں گرفتار جامعہ ملیہ یونیورسٹی کی حاملہ طالبہ صفورہ زرگر کی ضمانت منظور کرلی۔جامعہ رابطہ کمیٹی کی رکن صفورہ زرگر کو 10 اپریل کو شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے دوران فروری 2020 میں ہونے والے فسادات کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ زرگر کو پہلے ضمانت مل گئی تھی لیکن غیر قانونی سرگرمیوں پرروک تھام کے ایکٹ کے تحت سخت الزامات پر انھیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔زرگر کے وکیل نے عدالت کے روبرو عرض کیا کہ ان کی موکلہ نازک حالت میں ہے اور حمل کے بالکل ہی انتہائی درجے کی حالت میں ہے،لہذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حسن معاشرت سے کام لیتے ہوئے انہیں ضمانت دے دی جانی چاہئے ۔زرگر کی جانب سے یہ عرض کیا گیا ہے کہ وہ جامعہ یونیورسٹی میں ایم فل کی طالبہ تھیں اور پانچ ماہ کی حاملہ ہیں لہذا انہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر باقاعدہ ضمانت پر رہا کیا جانا چاہئے ۔دہلی پولیس نے زرگر کی ضمانت کی درخواست کی مخالفت میں کہا تھا کہ کسی کے حاملہ ہونے سے اس کے جرم کی شدت کو کسی بھی طرح سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس کی جانب سے مزید عرض کیا گیا ہے کہ زرگر پر ایک واضح اور سنجیدہ مقدمے میں سنگین نوعیت کے جرائم کا الزام لگایا ہے جس کا انہوں نے منصوبہ بند ارتکاب کیا تھا۔سرکاری وکیل نے مزید کہا کہ انہیں ایک علیحدہ سیل میں رکھا گیا تھا لہذا کسی دوسرے شخص سے ان کے کورونا وائرس ہونے کا امکان کم تھا۔اس معاملے میں ٹرائل کورٹ نے محترمہ زرگر کی درخواست ضمانت خارج کردی تھی اور اس کے بعد انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے سامنے ضمانت کی درخواست دائر کی۔اس سے قبل عدالت نے محترمہ زرگر کی ضمانت منظور کی تھی لیکن بعد میں انہیں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا اور جعفرآباد میں لوگوں کو بھڑکانے اور خواتین اور بچوں کو سڑکوں پر لانے کے لئے سنگین الزامات عائد کردیئے گئے ۔جسٹس راجیو شکدھر نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد زرگر کی دس ہزار روپے کے ذاتی مچلکے پیش کرنے کی شرط کے ساتھ ضمانت منظور کرلی۔ عدالت نے زرگر کو ہدایت کی کہ وہ 15 دن میں کم از کم ایک بار فون پر کسی تفتیشی افسر کے ساتھ رابطے میں رہیں اور اس کیس کی تفتیش میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔ عدالت نے انہیں مزید ہدایت کی کہ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر دہلی سے باہر نہ جائیں۔