محتشم احتشام
پونچھ // ضلع پونچھ کے علاقے ڈینگلہ جنیاڑ میں قائم جامعہ فاطمہ الزہراء میں نہایت روح پرور، باوقار اور علمی عظمت سے بھرپور جشنِ ختمِ بخاری شریف کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس بابرکت موقع پر فضیلت کے مرحلے سے کامیابی کے ساتھ فراغت پانے والی طالبات کو اسناد عطا کی گئیں، جس سے نہ صرف طالبات بلکہ ان کے سرپرستوں اور اہلِ علاقہ میں مسرت و افتخار کی کیفیت نمایاں رہی۔جامعہ فاطمہ الزہراء ضلع پونچھ میں بچیوں کے لئے دینی تعلیم کا سب سے بڑا اور معتبر ادارہ تسلیم کیا جاتا ہے، جہاں اس وقت چار سو سے زائد طالبات قرآنِ کریم، حدیثِ نبوی ﷺ، فقہ اسلامی اور اسلامی اخلاق کی منظم و معیاری تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ تقریب کی سب سے نمایاں اور روحانی جہت یہ رہی کہ شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مراد آباد کے نامور عالمِ دین علامہ مفتی سلیمان نعیمی نے بخاری شریف کی آخری حدیثِ مبارکہ کا درس دیا۔ اپنے جامع خطاب میں انہوں نے حدیثِ رسول ﷺ کو اسلامی فکر و عمل کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ بچیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنا دراصل ایک باحیا، باکردار اور صالح معاشرے کی تعمیر کی ضمانت ہے۔ انہوں نے جامعہ فاطمہ الزہراء کو دینی تربیتِ نسواں کا مثالی نمونہ قرار دیا۔اس موقع پر ناظمِ اعلیٰ مولانا قاری سید آفتاب حسین شاہ نے ادارے کے قیام، اغراض و مقاصد اور تعلیمی خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جامعہ فاطمہ الزہراء کی بنیاد اس نیت سے رکھی گئی کہ علاقے کی بچیاں گھر کی دہلیز پر رہتے ہوئے ایک محفوظ، باپردہ اور صالح ماحول میں قرآن و سنت کی روشنی سے بہرہ مند ہوں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ ادارہ ضلع پونچھ میں بچیوں کے سب سے بڑے دینی ادارے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔شرکائے تقریب نے قاری آفتاب حسین شاہ کی مسلسل محنت، خلوصِ نیت اور شب و روز کی جدوجہد کو بھرپور انداز میں سراہا اور کہا کہ انہی انتھک کوششوں کے نتیجے میں جامعہ نہ صرف تعلیمی معیار کے اعتبار سے بلکہ نظم و نسق، رہائش اور انتظامی حسن کے لحاظ سے بھی ایک مثالی ادارہ بن چکا ہے۔ جامعہ کی خوبصورت و باوقار عمارت، صاف ستھرا اور محفوظ ماحول، معیاری رہائشی سہولیات اور منظم تعلیمی نظام کو حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا مفتی فاروق حسین مصباحی نے اپنے خطاب میں ادارے کی مذہبی، اصلاحی اور تربیتی خدمات کا جامع تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ فاطمہ الزہراء محض کتابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ یہاں طالبات کی اخلاقی، روحانی اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے، تاکہ یہاں سے فارغ ہونے والی بچیاں علم کے ساتھ کردار کی بھی روشن مثال بنیں۔تقریب میں ضلع پونچھ سمیت مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کثیر تعداد میں علمائے کرام، معززینِ علاقہ اور سرپرست حضرات نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ موجودہ دور کے چیلنجز کے باوجود بچیوں کے لئے ایسا محفوظ، باوقار اور معیاری دینی ادارہ کسی نعمت سے کم نہیں۔ اختتام پر طالبات کی کامیابی، ادارے کی مزید ترقی اور ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔واضح رہے کہ جامعہ فاطمہ الزہراء ڈینگلہ جنیاڑ آج دینی تعلیمِ نسواں کے میدان میں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے فارغ التحصیل طالبات علم و عمل کا حسین امتزاج بن کر معاشرے کی اصلاح و تعمیر میں مثبت اور مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔