یو این آئی
اقوام متحدہ// بحران زدہ غزہ میں تین ہفتے میں پہلی بارخوراک پہنچانے کیلئے ایک نیا زمینی راستہ استعمال کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ اس نے بتایا کہ منگل کی رات کی ترسیل حماس کو امدادی سامان پر قبضہ کرنے سے روکنے کے ایک پائلٹ پروجیکٹ کا حصہ تھی۔اسرائیلی فوج نے اطلاع دی ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کی چھ لاریاں غزہ کی سرحدی باڑ کے ایک گیٹ سے گزریں۔یہ امداد اسرائیل پر عالمی دباؤ کے درمیان آئی ہے کہ وہ فلسطینی سرزمین پر منڈلارہے قحط کے بادلوں کے درمیان امدادی مواد کے لئے زیادہ رسائی کی اجازت دے۔ اسرائیل حماس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جس کی وجہ سے امدادی سامان پہنچنا مشکل ہورہا ہے۔اس درمیان، قبرص سے 200 ٹن خوراک کی امداد لے جانے والی ایک کشتی بھی منگل کوروانہ ہوئی، جس نے فلسطینی سرزمین کے لیے ایک نئی سمندری گزرگاہ کا افتتاح کیا۔ اس کے جمعرات کو غزہ پہنچنے کا امکان ہے۔اقوام متحدہ نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی کے قافلے نے شمال تک پہنچنے اور غزہ شہر میں 25000 لوگوں کیلئے خاطرخواہ خوراک پہنچانے کیلئے غزہ کی سرحدی باڑ سے متصل اسرائیلی فوجی سڑک کو استعمال کیا۔فوج کے مطابق اسرائیلی سیکیورٹی افسران نے جنوبی غزہ کے ساتھ کیرم شالوم کراسنگ پر امدادی لاریوں کی سیکیورٹی جانچ کی۔
غزہ میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری | اب تک 31184فلسطینی لقمۂ اجل
یو این آئی
غزہ// غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 31184 ہو گئی ہے۔ یہ اطلاع غزہ میں قائم فلسطینی وزارت صحت نے منگل کو دی۔وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں 72 فلسطینی ہلاک اور 129 زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے تنازع کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 31184 اور زخمیوں کی تعداد 72,889 تک پہنچ گئی ہے۔